قرآن کریم کی صحیح تعلیم مسلمانوں کادینی و ملی فریضہ

قرآن کریم کی صحیح تعلیم مسلمانوں کادینی و ملی فریضہ

قرآن کریم امت مسلمہ کی کامیابی کا ضامن ہے ۔قرآن کریم سے رشتہ استوار کیے بغیر مسلمان کامیابی کی راہ پرنہیں چل سکتے ہیں ،قرآن کریم سے رشتہ استوار کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ پہلے قرآن کریم کو صحیح سے تجوید کی رعایت کے ساتھ پڑھنا سیکھیں ، اس کے بعد قرآن کے کریم کے معانی و مفہوم کا علم حاصل کریں اور اس کے بعد قرآن کریم کی ہدایات پر عمل کریں ۔

ان خیالات کا اظہار دارالعلوم اسراریہ سنتوش پورمیں سالانہ امتحان کی تکمیل کے بعد منعقدہ اجلاس میںخطاب کے دوران مدرسہ ندائے اسلام کے استاذ اور معروف عالم دین اور بصیرت آن لائن کے چیف ایڈیٹر مولانا غفران ساجدقاسمی کے والد محترم حضرت مولاناابوالکلام صاحب نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ دارالعلوم اسراریہ کا تعلیمی نظام دیکھ کر کافی مسرت ہوئی ہے ۔یہاں بچوں کو تجوید کی رعایت کے ساتھ قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی ہے ۔بچوں کو مشہور احادیث کے معافی و مفہوم اور سنت نبوی کے تحت زندگی گزارنے کی تربیت دی جاتی ہے ۔میں نے یہاں آکر جو کچھ دیکھا ہے یہ نایا ب ہے ۔اس طرح کا نظام اس دیار میں نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس مدرسہ میں کلکتہ شہر کے بچے بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔مولانا محترم نے کہا کہ دارالاقامہ میں رہنے والے تقریبا ایک سوبچوں کا ہم لوگوں نے امتحان لیا،امتحان کے دوران ایک انوکھی بات یایہ کہہ لیں کہ اس ادارہ کی جواہم خصوصیت نظرآئی وہ یہ کہ تمام بچوں کے قرآن پڑھنے کا انداز تقریبایکساں ہے ،اوراتناہی نہیں ایک اندا ز میں قرآن پڑھنے کے علاوہ تجوید یعنی حروف کی صحیح ادائیگی کے ساتھ جس بچے کا جتنا پارہ ہوا ہے وہ ماشاء اللہ ٹھوس یاد ہے ، پارک سرکس کا طالب علم حافظ نعمان ابن امام مولانا بلال سمیت کئی طلباء جن کا اسی ماہ شعبان میں حفظ قرآن کریم مکمل ہوا ہے اور وہ ماشاء اللہ تراویح سنانے کے لئے جگہ کی تلاش میں ہیں جبکہ ختم کرنے کے بعد تراویح سنانے کے قابل یاد کرنے میں مزید کم ازکم ایک سال کا وقت تو لگتا ہی ہے۔ مولانا موصوف نے کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مدرسہ میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ حکومت سے منظورشدہ ایک سالہ عربک واردو کورس،دوسالہ عربی ڈپلوما اورا نگلش ، ریاضی اور دیگر عصری مضامین کے پڑھانے کا بھی مناسب انتظام ہے۔ اس جہدمسلسل کے باعث علاقے کی معاشرتی حالت بتدریج بہتر ہوتی جارہی ہے اورقرب وجوار کے والدین بھی اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کیلئے اس ادارہ کا رخ کررہے ہیں، مدرسہ میںبچوں کی تعدادبڑھتی جارہی ہے،مقامی ماحول کو بہتربنانے اورعلاقائی سطح پر تعلیمی شرح میں اضافہ کے لئے ذمہ دارانِ مدرسہ مقامی بچوںمیں تعلیم وتربیت کے لئے خاص طورپر کوشاں ہیں۔
سالانہ امتحان میں مٹیابرج کے اسامہ بن اسلم ٹی والے نے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے ،کولوٹولہ کے محمد عدنان ابن حاجی رضوان دہلی والے نے دوسری پوزیشن اور سنتوش پور فقیر پارہ کے محمد ارمان نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے ۔
مولانا ابوالکلام صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ اپنے تیس سالہ تدریسی زندگی کے تجربات کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ دارالعلوم اسراریہ حفظ و تجوید کی تعلیم کے اعتبار سے اور مثالی اسلامی تربیت کے لحاظ سے بھی محض چھ برسوں کی قلیل مدت میں ایک منفرد ادارہ کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اللہ تعالی اس مدرسہ کے روحانی سرپرست حضرت مولانا اسرارالحق و سبھی مخلص اساتذہ کرام اور معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ شہر سے متصل غریب آبادی میں ایک بامقصد تعلیمی ادارہ نہ صرف قائم کیا بلکہ قابل و تربیت یافتہ اساتذہ کرام کا انتخاب کرکے قلیل عرصے میں کولکاتہ میں برسوں سے منظم تعلیمی ادارہ کی ضرورت کی کمی کاخیال رکھتے ہوئے جہاں نہ صرف غریب طلباء بلکہ خوشحال کھرانے کے طلبا کے لئے اپنا تعلیمی و تربیتی سفر منصوبہ بند طریقے سے انجام میں مصروف ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر کے اطراف میں اس جیسے قائم تعلیمی ادارہ کو مضبوطی عطا کر نے کے لئے سماج کے ذمہ داروعلم دوست حضرات آگے آئیں۔
اس موقعہ پر توپسیا کلب مسجد کے امام و خطیب مفتی فیاض احمدنے کہاکہ قرآن کریم ایک ایسی بابرکت کتاب ہےکہ جس علاقے میں اس کتاب کی صحیح تعلیم دی جاتی ہے وہ علاقہ بھی بابرکت ہوجاتا ہے ۔دارالعلوم اسراریہ میں حفظ قرآن کریم کی جس انداز میں تعلیم و تربیت ہورہی ہے وہ دیکھنے کے قابل ہے ۔
مومن پوربوڑھی مسجد کے امام وخطیب مولانا اشرف علی نے کہا کہ اپنی اولاد کو قرآن کریم کی تعلیم دلانا مسلمانوںکااہم دینی فریضہ ہے،یہ نہ صرف ان کی اولاد وخاندان کی نیک نا می اور دنیا و آخرت میں سر خروئی کا ذریعہ ہے بلکہ ان کے ماں باپ کے لیے بھی بڑی فضیلتوں کا سبب ہے،اللہ کے حبیبؐ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حافظ قرآن کے والدین کے سروںپرتاج پہنائیںگے ۔پروگرام کے اخیر میں ادارے کے مہتمم مولانا نوشیر احمد نے مدرسہ کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوںو اہل علاقہ اور دیگر معاونین کا شکریہ اداکرتے ہوئے جذباتیانداز میں کہا کہ یہ ادارہ جس جگہ پر قائم ہے یہاںنہ تو امیر اور باثروت لوگ رہتے ہیںجو اس مدرسہ کا تعاون کرسکیں اور نہ ہی یہ شہر ی علاقے میں ہے کہ روز مرہ کی ضروریات جیسا کہ دیگر مقامات پر مقامی لوگوں کے تعاون سے کھانا وغیرے کا انتظام میں دلچسپی لیتے ہیں۔مگر اس کے باوجود چندمخلصوں اور مہمانان رسول سے محبت کرنے والوں کی خوش نصیبی اور مسلمانوں کی پسماندگی تعلیم کے ذریعہ ہی خاتمہ ممکن گرداننے والے علم دوست حضرات کی توجہ و فکرمندی ہے جو اس ادارے کی مددواعانت خالص لوجہ اللہ کرتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ مدرسہ کی تمام تر ترقیات اللہ تعالیٰ کے فضل اور ان ہی اہل خیر حضرات کے تعاون کی مرہون منت ہے۔مولانا نوشیر نے حاضرین سے درخواست کی کہ وہ ادارے کا تعاون جاری رکھیں انشا ء اللہ یہ مدرسہ آئندہ بھی آپ کے توقعات کے مطابق سماج کو بہترین افراد تیار کرکے دے گا۔پروگرام میںشرکت کرنے والوں میں اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری انجینیر وقار احمدخان،کولکاتا یونیورسٹی کے پروفیسرمولانا اشارت علی ملا،عالیہ یونیورسٹی کے پروفیسرمستقیم احمد،نصیرالدین روڈمسجد کے امام قاری بلال احمد،مٹیابرج مدینہ مسجد کے امام مولانا معظم ندوی،پہاڑ پور محمدی مسجد کے امام مولانا مشرف حبیبی، قاری علی مرتضی،مولانانظام الدین، قاری توصیف دیناجپوری، مولانا لقمان ،قاری دانش،مٹیا برج کے سماجی کارکن شمیم اختر،جاوید لنگی والے ،فاطمہ مسجد کے متولی حاجی محمد حدیث ،توپسیا اشرفی اکیڈمی کے حاجی صلاح الدین ،خضرپور کے وسیم احمداورجناب شمشیر احمد کے نام خاص طورسے قابل ذکر ہیں۔

(بصیرت نیوز سروس)

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں