اہل میت کو اپنے گھر بلاکر کھانا کھلانے اور تعزیت میں مروّجہ طریقوں کا حکم

اہل میت کو اپنے گھر بلاکر کھانا کھلانے اور تعزیت میں مروّجہ طریقوں کا حکم

سوال… کیا فرماتے ہیں حضرات علماء کرام ومفتیان عظام اس رواج کے بارے میں کہ  1..  ہمارے علاقے میں رواج ہے کہ تدفین کے بعد قبرستان میں چھوہارے تقسیم کیے جاتے ہیں، کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ 

2..  میت کے دوسرے رشتے دار دوست، پڑوسی وغیرہ اہل میت کو کھانا پہنچانے کے بجائے اپنے گھربلاتے ہیں اور کئی کئی دنوں تک بلکہ کبھی مہینے تک ان کو کھلاتے ہیں او راہل میت اپنے ساتھ دوسرے عزیز واقارب، ہمسایہ وغیرہ کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں ،اس طرح پوری ایک جماعت ہوتی ہے اور بعض اوقات دوسرے علاقے کے رشتہ دار بھی اہل میت کو مذکورہ بالا طریقے سے بلاتے ہیں ،اس میں ادلہ بدلہ ہوتا ہے، حتی کہ اگر کسی نے گوشت پکایا تھا تو بدلے میں گوشت پکاتے ہیں او راگر کسی نے بکرا ذبح کیا تھا تو بدلے میں پھر بکرا ذبح کرتے ہیں، ورنہ ناراضگی کا خطرہ ہوتا ہے اور اس کی پابندی اور التزام ایسا ہے کہ گنجائش نہ ہونے کے باوجود اس کو کرتے ہیں پوچھنایہ ہے کہ:
(الف) اہل میت کو کھانا بھیجنا شرعی طریقہ ہے یا اپنے گھر بلاکر کھلانا؟ (ب) اہل میت کو کتنے دن تک کھلانا جائز ہے؟ (ج) اہل میت کے علاوہ دیگر رشتہ داروں کے لیے یہ کھانا کھانا جائز ہے؟
3..اہل میت دریاں تکیے لگا کر گھر میں اہتمام کے ساتھ تعزیت کے لیے بیٹھ جاتے ہیں، جو بھی شخص تعزیت کے لیے پہنچتا ہے تو وہاں قاری صاحب فوراً قرآن مجید کی تلاوت شروع کردیتا ہے او رپھر اجتماعی طور پر سب ہاتھ اٹھ کر دعا کرتے ہیں اور پھر چائے پیش کی جاتی ہے، اس طرح دو تین دن تک صبح تا شام اہل میت سینکڑوں مرتبہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تعزیت ہو گئی اور بعض مقامات پر گھر میں جگہ نہ ہونے کی صورت میں یہی ساری رسم مسجد، مدرسہ، گلی میں ادا کی جاتی ہے، پوچھنا یہ ہے کہ :
(الف) تعزیت کی مجلس میں قرآن مجید پڑھنا شرعاً جائز ہے؟
(ب) تعزیت کی مجلس میں اہتمام کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا اور اس کی التزام کے ساتھ پابندی کرنا جائز ہے؟ (ج) تعزیت کرنے والوں کوچائے پیش کرنا جائز ہے؟ (د) مروجہ طریقے پر مسجد، مدرسہ یا گلی وغیرہ میں تعزیت کے لیے بیٹھنا جائز ہے؟

قرآن وحدیث وفقہ حنفیہ کی کتابوں سے جواب مطلوب ہے۔

جواب… 1.. شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں، لہٰذا ان کا یہ فعل ناجائز ہے.  2..    (الف) چونکہ اس دن اہلِ میت مشغول ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے گھر کھانا پہنچایا جائے (ب) ایک دن اور ایک رات (ج) وہ رشتہ دار جو قرب وجوار میں رہتے ہوں ان کو چاہیے کہ تعزیت وغیرہ کرکے اپنے گھروں کو چلے جائیں، باقی وہ رشتہ دار جو دور دراز سے آئے ہوں، تو ان کے لیے اہلِ میت کے ہاں کھانے کی گنجائش ہے (چاہے کھانا پڑوسیوں، رشتہ داروں نے بھیجا ہو یا اہل میت نے اپنا بنایا ہو)۔
3.. (الف۔ج) واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں تین دن تک اہل میت سے تعزیت کرنا صرف جائز نہیں بلکہ امر مستحسن ہے اور اہلِ میت کا تین دن تک گھر میں تعزیت کے لیے بیٹھنے کی بھی شرعاً گنجائش ہے، لیکن یہ اس وقت ہے جب تعزیت شریعت کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ہو اوروہ یہ ہے کہ تعزیت میں پسما ندگان کو صبر کی تلقین کی جائے اور ہاتھ اٹھائے بغیر میت کے لیے دعاء مغفرت کی جائے اور تعزیت صرف ایک بار کی جائے، ایک سے زائد مرتبہ تعزیت کرنا مکروہ ہے، باقی صورت مسئولہ میں جو طریقہ تحریر کیا گیا ہے شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں لہٰذا اس سے احتراز ضروری ہے (د) مسجد ومدرسہ میں تعزیت کے لیے بیٹھنا مکروہ ہے اور راستوں اور گلیوں میں تعزیت کے لیے بیٹھنا ناجائز ہے۔

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں