ایس ایم ایس کے ذریعہ طلاق دینے کا حکم

ایس ایم ایس کے ذریعہ طلاق دینے کا حکم

سوال…کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا داماد گزشتہ دنوں ہماری بیٹی کو ہمارے گھر پر لینے آیا تھا اور بہت غصہ میں تھا اور غصہ میں ہماری بیٹی کو اول فول بکنے لگا اور کہنے لگا کہ اسی وقت میرے ساتھ گھر چلو، بچی ڈر گئی او رکہنے لگی کہ یہ غصہ میں ہیں، گھر پر جاکر مجھے ماریں گے،

تو اس کی والدہ نے کہا کہ آپ شام کو آکر لے جانا یا پھر کل آکر لے جانا اس پر وہ گھر سے چلا گیا، مگر وہ جاتو نہیں رہا تھا میری بیٹی نے جب ان کی ماں سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے فون پر اپنے بیٹے کو سمجھایا اور اسے واپس آنے کو کہا، تو وہ اپنی ماں سے کہنے لگا (امی میں اسے طلاق دے دوں، میں اسے طلاق دے دوں) دو مرتبہ اس نے میرے سامنے اپنی والدہ سے فون پر کہا اور اس کے بعد فون بند کرکے چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد اس کا ایک ایس ایم ایس میرے فون پر آیا، جب میں نے دیکھا، اس میں لکھا تھا (میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ) یہ جملہ اس نے چارمرتبہ لکھا تھا، میں آپ سے اس بارے میں فتوی چاہتا ہوں کہ کیا ایس ایم ایس کے ذریعہ یہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں اور عدت کا حکم بھی بیان فرمائیں، آپ ہمیں صحیح طور پر اور تحریری طور پر فتویٰ صادر فرمائیں۔

جواب… صورت مسئولہ میں جب شوہر نے اپنی مرضی سے بغیر کسی جبر واکراہ کے میسج کرکے طلاق دے دی ہے تو تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں،جن کی وجہ سے عورت حرمت مغلظہ کے ساتھ شوہر پر حرام ہو گئی ہے، لہٰذا اب حلالہ شرعیہ کے بغیر نہ تو رجوع ممکن ہے اور نہ ہی تجدید نکاح، حلالہ شرعیہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے شوہر کے طلاق دینے کے بعد عدت گزر جائے، پھر دوسرے شخص کے ساتھ نکاح صحیح کر لیا جائے اور وہ دوسرا شوہر ہم بستری کرنے کے بعد اپنی رضا مندی سے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہو جائے اور طلاق یا وفات کی عدت پوری ہو جائے، پھر با ہمیرضا مندی کے ساتھ نکاح کرنے کے بعد عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی، نیز صورت مذکورہ میں ایس ایم ایس لکھنے کے وقت سے ہی عدت شمار ہو گی اور عدت تین ماہواریاں ہو گی۔

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں