ممتاز فقیہ و محدث مولانا خلیل احمد سہارنپوری

ممتاز فقیہ و محدث مولانا خلیل احمد سہارنپوری

محترم عالم اور فقیہ خلیل احمد بن مجید علی بن احمدعلی بن قطب علی بن غلام محمدانصاری حنفی انبیٹھوی سہارنپوری، نیک علماء اور بڑے فقہاء و محدثین میں سے تھے، آخر صفر سنہ ۱۲۹۹ھ میں نانوتہ دیہات (جو سہارنپور کے مضافات میں ہے،) پیدا ہوئے اور شہر انبیٹھ (جو سہارنپور کے دیہات میں سے ہے) وہیں پلے بڑھے، اپنے ماموں شیخ یعقوب علی بن مملوک علی نانوتوی، شیخ محمد مظہر نانوتوی اور دوسرے علماء دیوبند اور مظاہر العلوم سہارنپور کے علماء سے تعلیم حاصل کی۔ علوم ادبیہ شیخ فیض الحسن سہارنپوری سے لاہور میں پڑھی۔

درس و تدریس
سنہ ۱۲۸۸ھ میں مدرسہ سے سند فراغت حاصل کی؛ معین مدرس کی حیثیت سے مظاہر العلوم میں پڑھانے کی ذمہ داری قبول فرمائی اور ایک مدت تک ریاست بھوپال سکندرآباد، بھاولپور اور بریلی میں پڑھاتے اور فائدے پہنچاتے رہے یہاں تک کہ سنہ ۱۳۰۸ھ میں دارالعلوم دیوبند میں استاذ چن لئے گئے اور چھ سال تک وہیں رہے۔ وہاں سے سنہ ۱۳۱۴ھ میں مظاہرالعلوم سہارنپور منتقل ہوگئے، وہاں صدر مدرس بنائے گئے اور تیس برس سے زائد وہاں پورے اختیارات کے ساتھ رہے۔ سنہ ۱۳۲۵ھ میں آپ وہاں کے ناظم مقرر ہوگئے، مدرسہ میں آپ کی بڑی شہرت ہوئی اور آپ کی شہرت پورے ہندوستان میں پھیلی، آپ نے بھی اپنی پوری قوت اس کے بڑھانے میں لگائی اور یہ مدرسہ بھی دارالعلوم کے علوم دینیہ اور مکاتب علمیہ کے مقابل ہوگیا، دور دور سے طلبہ نے اس طرف کا رخ کیا۔ سنہ ۱۳۴۴ھ میں اس مدرسہ کو چھوڑ کر حرمین شریفین کا رخ کیا، دوبارہ وہاں سے نہیں لوٹے۔

آپ نے محترم امام رشیداحمد گنگوہی رحمہ اللہ سے تحصیل علم سے فراغت کے بعد بیعت کی اور آپ کے ساتھ مختص ہوگئے۔ سنہ ۱۲۹۷ھ میں حج و زیارت مقامات مقدسہ کی زیارت کی سعادت حاصل کی اور مکہ معظمہ میں شیخ اجل حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ سے ملاقات کی، آپ نے انہیں عزت دی اور ان کو فائدے پہنچائے اور توجہ خاص کے ساتھ آپ سے پیش آئے اور راستے قبول کرنے یعنی سفر کرنے کی اجازت دی۔
اس لئے آپ ہندوستان لوٹ آئے تو شیخ امام علامہ رشیداحمد گنگوہی رحمہ اللہ نے بھی آپ کو اجازت دی، اور آپ کے ساتھ شیخ خلیل احمد نے بڑی خصوصیت پائی جس سے بہت سے فائدے حاصل ہوئے یہاں تک کہ آپ ان کے مخصوص شاگردوں میں سے ہوگئے، آپ ان کے بڑے خلیفہ بن گئے اور ان کے علوم و برکات کے بڑے حاملین ان کے طریقوں اور دعوتوں کے ناشرین میں سے ہوگئے۔ آپ نے فن علم حدیث کو بہت ہی تدبر اور غور کے ساتھ حاصل کیا، بڑے بڑے مشائخ اور مسندین سے آپ کو اجازت حاصل ہوئیں، مثلاً: شیخ محمد مظہر نانوتوی، شیخ عبدالقیوم برہانوی، شیخ احمد دحلان، مفتی شافعیہ، شیخ عبدالغنی بن ابی سعید مجددی مہاجر، اور سید احمد برزنجی رحمہم اللہ۔

شرح سنن ابی داؤد
آپ حدیث کے ساتھ بڑے توجہ و انہماک کے ساتھ متوجہ ہوئے، پڑھانے کی صورت میں بھی اور تالیفات کی صورت میں بھی۔ آپ کی بہت بڑی تمنا یہ تھی کہ اب سنن ابی داؤد کی کوئی شرح لکھیں، چنانچہ سنہ ۱۳۳۵ھ میں آپ نے اس کی شرح لکھنی شروع کی جس میں آپ کے خصوصی شاگرد محمدزکریا بن یحییٰ کاندھلوی رحمہ اللہ نے آپ کی بڑی مدد کی۔ اس کام کے لئے اپنی پوری ہمت اور قوت کے ساتھ لگ گئے اور شرح کے مواد، تہذیب، اور املاء کے لئے گویا معتکف اور یکسوئی کے ساتھ متوجہ ہوگئے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی لذت تھی اور نہ ہی کوئی فکر تھی، پوری فکر کے ساتھ اس کی طرف متوجہ رہے یہاں تک کہ سنہ ۱۳۴۴ھ میں حجاز مقدس کا آخری سفر کیا۔ مدینہ منورہ میں درمیان ماہ سنہ ۱۳۴۵ھ میں داخل ہوئے اور تمام تفکرات سے بے فکر ہوکر اسی کتاب کے مکمل کرنے میں لگ گئے، یہاں تک کہ ماہ شعبان سنہ ۱۳۴۵ھ میں اس شرح کے کام سے بالکل فارغ ہوگئے۔ یہ شرح بڑی بڑی پانچ جلدوں میں مکمل ہوئی۔ شیخ نے اپنی بہترین صلاحیت اور اپنے علم کانچوڑ اور پڑھانے کی صلاحیت کا خلاصہ اس میں جمع کیا اور اس کے اندر اپنی تمام قوت اکٹھی کردی۔

کثرت مجاہدہ و مراقبہ
دوسری قابل مطالعہ کتابوں کے مطالعہ اور کتابوں کی تالیف اور عبادت و تلاوت میں اور مجاہدہ و مراقبہ میں شیخ نے خود کو کافی تکلیف میں مبتلا کردیا، یہاں تک کہ لاغری کی بیماری آپ کو لگ گئی اور غذا کم ہوگئی اور دوسروں سے تعلق ہونا غالب ہوگیا اور تنہائی آپ کو محبوب ہونے لگی۔ اللہ کی ملاقات کا شوق غالب ہوگیا۔ اس بناء پر وہ اکثر بیشتر اپنے اوقات کو تلاوت قرآن، اور مسجدشریف میں نمازوں کے لئے حاضری کی پابندی تکلیف کے باوجود اپنے اوپر لازم کرلی اور اپنے خاص طلبہ اور ساتھیوں کو بھی چھوڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں رہنے لگے تھے اور اپنے گھر کو چھوڑ دیا اور عبادت اور ذکر میں اپنا جسم مشغول کردیا، اور قلب کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جوڑ دیا، اللہ کے ماسوا اپنے تمام تعلقات کو توڑ دیا، یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں اللہ کی دعوت کو قبول کرلیا اور روح قبض ہو گئی۔

عمدہ صلاحتیں
شیخ خلیل احمد کو فقہ اور حدیث میں بڑی مہارت اور عمدہ صلاحیت تھی، جدل اور خلاف کرنے میں بڑے ماہر تھے اسی طرح علوم دین، معرفت اور یقین میں آپ کو مکمل اعتماد تھا۔ اپنے ارادہ کے پختہ اور طلبہ کے ارشاد میں مکمل صلاحیت رکھتے تھے، رشد و سلوک کے منازل پر لوگوں لو لگانے، اور راستہ کے باریکیوں کو بتانے میں اچھی صلاحیت تھی اور نفوس کی خرابیوں کو دور کرنے میں ملکہ تھا، قوی نسبت کے مالک تھے اور قدوسی فائدوں کے جاری کرنے کی عمدہ صلاحیت، الہی جذبوں کے بڑے حامل جن سے اللہ تعالی نے بہت سے مخلوق کو نفع پہنچایا، انکے ہاتھ سے بڑے علماء اور مشائخ کی جماعت نکلی۔

تربیت و فیض یافتہ
آپ کی تربیت سے اہل تربیت و ارشاد کے عظیم الشان لوگ پیدا ہوئے، ان کے ہاتھوں ہندوستان اور دوسری جگہوں میں خیر کثیر جاری ہوئے جو علوم دینیہ کی نشر و اشاعت میں یا تصحیح عقائد میں ہوں یا تربیت نفوس کے سلسلہ کے ہوں یا دعوت و اصلاح سے متعلق ہوں سب میں فائدے ہوئے۔ ان بڑے لوگوں میں سے اب مصلح قوم اور بڑے بزرگ محمدالیاس بن اسماعیل کاندھلوی دہلوی ہیں جو دعوت مشہورہ (تبلیغی جماعت) والی دنیا میں مشہور ہوئے اور دوسرے بڑے محدث اور شیخ جلیل محمدزکریا بن یحییٰ کاندھلوی سہارنپوری جو ’اوجز المسالک‘ اور ’لامع الدراری‘ کے علاوہ دوسری کئی مقبول تصنیفات والے ہیں۔ تیسرے عاشق الٰہی میرٹھی اور دوسرے حضرات ہیں۔

حلیہ اور وضع قطع
جسمانی لحاظ سے آپ بڑے ہی خوبصورت، درمیانی قد، لانبائی مائل، سفید رنگ جس میں سرخی غالب رہتی تھی، نرم اور نازک بدن والے، صاف پیشانی، کشادہ رو، گالوں کے بال تھوڑے تھوڑے، صفائی پسند، مہمان نواز، خوبصورت بدن، صاف ستھرے کپڑے جس میں کوئی تکلف یا اسراف نہیں، پتلے بالوں والے اور تیز حس تھے۔
حق لے کر جھگڑ جانے والے، کلام میں صراحت ظلم کے بغیر، متبع سنت، بدعت سے بہت دور، مہمانوں کی تعظیم کرنے والے، اپنے دوستوں اور شاگردوں کے ساتھ بہت زیادہ نرم، ہر چیز میں تربیت اور نظام کو بہت پسند کرتے، اوقات میں پابندی اور ہر وہ کام جو جس سے کوئی دینی فائدہ عام ہو اس کے پورا کرنے میں ہمہ وقت مشغول رہتے، عام سیاست سے کنارہ رہتے، ساتھ ہی عام مسلمانوں کے معاملہ میں خاص اہتمام کرتے، آپ میں دینی حمیت اور غیرت بہت زیادہ تھی، ساتھ حج کئے جن میں آخری حج ہجرت کے چوالیسویں سال ماہ شوال میں ہوا۔

تصانیف
آپ کی چند تصنیفات ہیں: (۱) المھند علی المفند، (۲) اتمام النعم علی تبویت الحکم، (۳) مطرقۃ الکرامۃ علی مرآۃ الاماتۃ، (۴) ھدایات الرشید الی افحام العنید، یہ دونوں رسالے شیعہ امامیہ کی رد میں ہیں، (۵) بذل المجھود فی شرح سنن ابی داؤد۔

آپ کی وفات بدھ کے دن عصر کے بعد ۱۶ربیع الآخر سنہ ۱۳۴۶ھ میں بمقام مدینہ منورہ ہوئی، آپ کاجنازہ بہت سے لوگوں کے درمیان اٹھایا گیا، آپ کے بارے میں اچھے اچھے خواب دیکھے گئے اور جنۃ البقیع میں مدفن اہل البیت کے نزدیک ہی آپ کو دفن کیا گیا۔

نزہۃ الخواطر (اردو)، آٹھویں جلد

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں