آج : 16 March , 2014

زاہدان: سنی طلبا کا سالانہ اجلاس منعقد ہوگیا

زاہدان: سنی طلبا کا سالانہ اجلاس منعقد ہوگیا

دارالعلوم زاہدان کے احاطے میں واقع جامع مسجدمکی میں ایران کی مختلف جامعات و کالجوں سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات کا سالانہ اجلاس جمعرات تیرہ مارچ دوہزار چودہ کو منعقد ہوگیا۔

اجلاس کا باقاعدہ آغازجمعرات کی صبح ہوگیا لیکن دو دن سے قبل سینکڑوں طلبا جامعہ دارالعلوم زاہدان میں اکٹھے ہوچکے تھے جن کے اوقات قیمتی بنانے کے لیے نامور علمائے کرام نے ان سے خطاب کیا۔

جمعرات گیارہ جمادی الاولی کی صبح اجلاس کے افتتاح کے بعد سب سے پہلے ’حسین غفران‘ نے اپنا مضمون پیش کیا۔ انٹرنیشنل لاءکے ایم اے طالب علم نے اپنے مقالے میں ’قوموں کو اپنی تقدیر معین کرنے کے حق‘ کے حوالے سے اہم نکات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تمام قومیتوں اور اقوام کو ترغیب دی اسلامی بیداری کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کریں۔

ان کے بعد ہائی سکول کے طالب علم اسحاق شہنوازی نے ’یونیورسٹی کا مثالی طالب علم ایک سکول طالب علم کی نظر میں‘ کے عنوان سے اپنا مضمون پڑھ لیا۔ شہنوازی نے طلبا سے کہا اپنے اوقات قیمتی بنائیںتاکہ دوران تعلیم زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرسکیں۔

مفتی قاسمی: اسلام انسانیت کی تکمیل کے لیے ہے
مذکورہ اجلاس کے پہلے خطیب، صدر دارالافتاءدارالعلوم زاہدان، مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی دامت برکاتہم تھے جنہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں تمام طلبا کو خوش آمدید کہتے ہوئے اہل علم اور صلحاءسے محبت و تعلق پر زور دیا۔

مولانا قاسمی نے ’تکمیل انسانی زندگی‘ کو اسلام کے اہم مقاصد میں شمار کرتے ہوئے کہا: اسلام کا فرق دیگر فکری مکاتب و مذاہب سے اس بات میں ہے کہ دوسرے ادیان ومذاہب انسانی زندگی کے صرف ایک شعبے پر زور دیتے ہیں دیگر کو نظرانداز کردیتے ہیں، دنیوی زندگی پر تاکید ہے لیکن آخرت کو بھول جاتے ہیں۔حالانکہ انسان ایک ہی جانب سے کامل نہیں ہوسکتا؛ اسی لیے اسلام نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں اور جوانب کو مدنظر رکھ کر اس کی تکمیل کے لیے ہدایات جاری کردیا۔

عالمی میگزین ’ندائے اسلام‘ کے چیف اڈیٹر نے مزیدکہا: آج کل لوگ مختلف قسم کی مشکلات ومصائب سے دوچار ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ انسانی زندگی کی تمام جوانب وشعبوں کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔ انسان، انسان ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری بھول چکاہے جو اس کی زندگی کا اصل مقصد بھی ہے۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے ’بہیمیت، روحانیت، خلافت الہی اور نیابت نبوی‘ کو انسان کی زندگی کے چار شعبے قرار دیتے ہوئے کہا: ان چار شعبوں خاص کر تین آخری ابعاد کو مدنظر رکھ کر انسان کامل بن سکتاہے۔ نیابت نبوی کا مقصد ہے اللہ تعالی کے مقرب ترین بندے، انبیائے کرام علیہم السلام، کی مشابہت اختیار کرنا اور ذمہ داری کے احساس سے بشر کے لیے خیرخواہی کرنا؛ اسی جذبے سے لوگوں کو توحید کی جانب دعوت دینا ممکن ہے۔

مفتی محمدقاسم قاسمی نے مزیدکہا: دعوت کے ساتھ ساتھ داعیوں کی تربیت بھی ضروری ہے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو توحید کی جانب بلانے کے ساتھ حضرات ابوبکر، عمر، عثمان وعلی ودیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی جن میں سے ہرفرد بڑا ناصح وداعی تھا۔عصرحاضر میں بھی دعوت واصلاح کی ضرورت ہے؛ جو قوم کسی دعوت ورسالت سے فارغ ہو اس کی مثال ایک پتے کی طرح ہے جو درخت سے گر جاتاہے، اس کو طبعی زندگی حاصل نہیں ہوتی۔ اسی لیے ہم سب کو بامقصد زندگی گزارنا چاہیے اور دعوت کی راہ میں ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

اپنے خطاب کے آخر میں اعتدال ومیانہ روی پر زور دیتے ہوئے مولانا قاسمی نے کہا: اسلام اعتدال کا درس دیتاہے اور یہ میانہ روی کا دین ہے۔ اسلام میں خودکشی حرام ہے چونکہ جان اللہ کی امانت ہے۔ مادی ضرورتوں پر توجہ دینا بھی اس دین حنیف کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ہر فرد کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کہیں اس کا حیوانی ب ±عد اس کے روحانی ب ±عد پر غالب نہ ہوجائے۔

مفتی محمد قاسم قاسمی کے خطاب کے بعد سینئر صحافی محمودبراہوئی نژاد نے ’آج کے معاشرے میںمسلمان طالب علم کی ذمہ داری اور مقاصد‘ کے موضوع پر اپنا مضمون پیش کیا۔ اس کے بعد حافظ محمدعمرخمر نے خوبصورت نظم پیش کرتے ہوئے حاضرین کی داد حاصل کی۔

شیخ الاسلام: صدر روحانی اپنے وعدوں کو جامہ عمل پہنائے
خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سنی طلبا کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر کو اہل سنت برادری سے کیے وعدوں کی یاددہانی کرائی اور انہیں اپنے وعدوں کو جامہ عمل پہنانے کا مشورہ دیا۔

مولانا عبدالحمید نے ایران کی سنی برادری کے بعض مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ماضی میں ہمیں متعدد مسائل کا سامنا تھا جن میں مذہبی امتیازی سلوک اور ہمارے حقوق کی پامالی سرفہرست ہیں؛ ہم نے متعدد طرق سے حکام کو اپنی شکایت پہنچائی اور ہمیشہ وہ بات زبان پر لائی جو ہمارے خیال میں ملک وقوم کی خیر میں تھی۔ صدرروحانی کے انتخاب سے ہم بہت پرامید ہوگئے۔

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے سنی برادری کی حب الوطنی پر زور دیتے ہوئے کہا: ایرانی اہل سنت اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں اوراس کا ایک انچ بھی پوری دنیا سے سودا نہیں کرتے ہیں۔ ایران کی سنی برادری غدار نہیں ہے۔ ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سالمیت اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہرقسم کی قربانی کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا: ہم قومی امن واتحاد کے خواہاں ہیں۔ ملک کی ترقی کا راز امن اور پائیدار اتحاد میں ہے۔ ہم سب کو امت واحدہ کی تشکیل کی کوشش کرنی چاہیے۔ مشترکہ عقائد ومسائل پر زور دے کر اختلافات پر انگلی رکھنے سے گریز کریں۔ انتہاپسندی چاہے شیعہ کی طرف سے ہو یا سنی کی، ہرصورت میں خطرناک ہے۔ انتہاپسندی سب سے زیادہ اس مذہب ومسلک کے پیروکاروں کے لیے مضر ہے۔

مولانا عبدالحمید نے مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کرنے پر زورد یتے ہوئے کہا: آج کی دنیا میں جتنے بھی اختلافات ہیں، ان سب کا خاتمہ مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔ ہم صدر روحانی کے مغرب سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں؛ ایرانی قوم امن سے رہنا چاہتی ہے۔ ہم دنیا سے لڑائی و جھگڑے کے خواہاں نہیں ہیں۔اکثر اختلافات اور چپقلشوں کی جڑ قوموں اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی میں ہے؛ اگر تمام اقوام ومذاہب کے حقوق کا خیال رکھاجائے تو اختلافات کی بیخ کنی ممکن ہوگی۔

ممتاز سنی عالم دین نے سنی برادری کی صدارتی انتخابات میں صدرروحانی کے حق میں ووٹ دینے کو ان کے سیاسی شعور کی نشانی قرار دیا۔ انہوں نے کہا: سنی برادری نے صدر روحانی کے وعدوں اور افکار وخیالات کی وجہ سے انہیں منتخب کیا۔اب انہیں انتظار اس بات کی ہے کہ کب حکومت اپنے وعدوں کو پورے کرے گی۔ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ پوری قوم کے حقوق یقینی بنائے جائیں۔

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے ایران کی مخلتف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے سنی طلبا کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اس سال بعض مشکلات ومسائل کی وجہ سے متعدد شخصیات اور دانشور حضرات کو اس اجتماع میں شرکت کا موقع نہیں ملا؛ ان شاءاللہ جلد حکام کے تعاون سے اس کمی کی تلافی کی جائے گی۔ نیز حکام کے اصرار پر اجتماع کا دورانیہ ایک دن کے بجائے آدھے دن تک محدود کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا: یہ سالانہ اجتماع گزشتہ کئی سالوں سے منعقد ہوتارہتاہے جس کا مقصد دینی وعصری جامعات کا اتحاد ہے۔ ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے اور یہاں صرف طلبا کو دینداری اور مزید علم حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ایسے اجتماعات کا فائدہ معاشرہ اور اسلامی نظام کو پہنچتاہے۔

مولانا عبدالحمید نے عصرحاضر کی مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:اسلام دشمن قوتیں مختلف بہانوں اور حیلوں سے مسلمانوں کو گمراہی و تباہی کی جانب دکھیلتی ہیں۔ان کی کوشش یہی ہے کہ کسی طرح یہ بات سب کے ذہنوں میں بٹھادیں کہ اسلام پر عمل پیرا ہونا ناممکن ہے اور یہ دین دشوار ہے جو شراب نوشی، سودخوری، زنا اور دیگر ناجائز خواہشات کو حرام قرار دیتاہے۔

عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے مزیدکہا: موجودہ دور میں عالم اسلام سخت مشکلات سے دوچارہے؛ لیکن دوسری طرف دنیا میں اسلامی بیداری کی ایک لہر اٹھی ہے جو کئی عشرے قبل علامہ اقبال لاہوری، علامہ ندوی، سیدجمال الدین اسدآبادی اور سیدقطب جیسی شخصیات نے اس کا آغاز کیا تھا۔ اسی بیداری کے نتیجے میں ایران میں انقلاب ہوگیا اور اخیر سالوں میں مصر، تیونس، شام اور لیبیا جیسے ملکوںمیں بھی مسلم قومیں اٹھ کھڑی ہوگئیں۔

شیخ الاسلام نے کہا: آج کا انسان ترقی کا دعوی کرتاہے، لیکن انسان جتنی بھی ترقی حاصل کرے پھر بھی اسلام سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اگرچہ سیاست، معیشت، صنعت اور آزادی جیسے امور میں کافی ترقی حاصل ہوچکی ہے اور عوام آزاد ہیں، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ لوگ دینی واخلاقی لحاظ سے انحطاط اور پستی کا شکار ہیں۔ اسلام ایک کامل دین ہے جو ہر دور میں کسی بھی علاقے میںقابل عمل ہے۔ اگر اسلام پر پوری طرح اور درست عمل کیاجائے تو انسان کی کامیابی ورفاہ یقینی ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا: اسلام میں آزادی اظہاررائے کا احترام کیاجاتاہے۔ حتی کہ ایک خاتون خلیفہ مسلمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑی ہوکر اعتراض کرسکتی تھی اور ایک بدو اعرابی بھی آزادی کے ساتھ اپنا خیال پیش کرسکتاتھا۔

اجتماع کے ضمنی پروگرام:
ایرانی جامعات کے سنی طلبا وطالبات کے لیے دارالعلوم زاہدان میں بعض ضمنی پروگرامز کا بھی انتظام کیا گیاتھا جن میں بعض درج ذیل ہیں:
عقیدہ، سیرت وتاریخ، فقہ اور معاشرتی واخلاقی مسائل پر مشاورے کی کلاسیں؛
مخصوص علاقوں کے طلبا کی مولانا عبدالحمید سے ملاقاتیں؛
مشاعرہ؛
اسلامی مضامین اور آیٹمز کے اپلوڈ؛
جرائد ونشریات اور سائنسی کارناموں کی نمائش؛
کتب میلہ۔
یاد رہے مذکورہ اجتماع کا خاتمہ ممتاز سنی طلبا اور مخترعین کو انعامات اور ایوارڈ دینے اور مولانا عبدالحمید کی دعا سے ہوگیا۔

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں