آج : 16 March , 2014

مولانا احمدحسن کانپوری رحمہ اللہ

مولانا احمدحسن کانپوری رحمہ اللہ

محترم فاضل، علامہ احمدحسن حنفی بطالوی (پٹیالہ) کانپوری ان علماءکرام میں سے ہیں جو زیادہ سے زیادہ درس دینے اور لوگوں کو فائدے پہنچانے میں مشہور ہیں۔

مولانا کانپوری کے بے حساب شاگرد ہوئے، شہر بطالہ (پٹیالہ) میں پیدا ہوئے جو کہ ’گورداس بود‘ کے مضافات میں سے ہے اور وہیں بڑے بھی ہوئے۔ حصول علم کے لئے علی گڑھ شہر میں مفتی لطف اللہ صاحب کی خدمت میں رہنے لگے اور وہیں سے فراغت پائی۔ پھر مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں بحیثیت استاد مقرر کئے گئے، چنانچہ کافی زمانہ تک تدریسی فرائض انجام دیتے رہے، پھر کانپور شہر کے مدرسہ فیض عام میں ذمہ دار بنائے گئے، نتیجہ کے طور پر وہیں شادی کرکے رہائش اختیار کرلی اور طویل مدت تک درس دیتے رہے۔ پھر وہاں سے سفر کرکے حجاز مقدس تشریف لے گئے اور حج و زیارت مقامات مقدسہ سے فارغ ہوئے۔ پھر شیخ حاجی امداداللہ تھانویؒ مہاجر مکی سے بیعت طریقت حاصل کی اور ہندوستان لوٹ آئے۔

زہد و تقوی
آپ بہت بڑے عالم اور امام تھے۔ دینداری میں بہت پسندیدہ اور مقبول تھے۔ پرہیزگار اور متواضع بھی تھے، بہت زیادہ عقل مند، بہترین اخلاق والے، تمام اچھی صفتوں سے متصف تھے۔ اچھی معاشرت والے، لوگوں کو بہت زیادہ نصیحتیں کرتے رہنے والے، اور اپنے شاگردوں اور دوستوں سے بہت محبت کرنے والے، کم سخن، لوگوں سے کنارہ کش، دنیاداروں کے پاس آمدورفت کرنے سے بھاگنے والے، تھوڑے پر قناعت کرلینے والے، تکلف برطرف کرنے والے، بہت زیادہ انصاف کرنے والے، ان سے کچھ چاہنے والے کو خوش آمدید کہنے والے، اپنی مصروفیت پر مداومت کرنے والے، پڑھانے کے لئے پیش قدمی کرنے والے، بہت ہی صابر، کسی تنگدلی اور رنجش کے بغیر اپنے درس کو جاری رکھنے والے، جیسے کہ آپ درس و تدریس میں شب و روز مشغول رہے۔ میں آپ کے مثل کسی بھی عالم سے اب تک واقف نہیں ہوسکاہوں۔

درس و تدریس
فنون منطق، حکمت و اصول اور کلام کی اہم کتابوں کا درس دیتے۔ مختلف علوم میں باریک تر مسائل میں بھی بحث کرسکتے تھے اور اہم کتابوں کے اسباق ہر روز پندرہ گھنٹے پڑھاتے تھے۔ ایسی حالت میں ان کو بواسیر کا مرض لاحق ہوگیا جس سے بدن سے بہت زیادہ خون نکل جاتا۔ پھر درس دینے میں رخصت نہیں لیتے۔
بالآخر ان کو بہت زیادہ کمزوری ہوگئی، اس لئے حکماءنے ان کو کلی طور پر پڑھانے سے سختی سے منع کردیا۔ پھر بھی یہ اپنی عادت سے باز نہیں آئے اور اپنا درس کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ روح جسم سے پرواز کرگئی۔

تصانیف: حمداللہ کی شرح سلم پر ان کا بہت مفصل حاشیہ موجود ہے۔ اسی طرح سے مثنوی معنوی پربھی حاشیے ہیں۔ اور اللہ تعالی کے امکان کذب کی بحث میں ان کے انکار پر مستقل رسالہ ہے جس میں دلائل کلامیہ سے امتناع کو ثابت کیا ہے۔

 1322ھ میں کان پور شہر میں آپ کی وفات ہوئی۔

ماخوذ از: ”چودھویں صدی کے علمائے برِّ صغیر“، ”نزہة الخواطر“ کا اردو ترجمہ، 8/ 95

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں