آج : 15 February , 2014

پاکستانی نژاد برطانوی شہری شام میں خودکش بمبار کیسے بنا؟

پاکستانی نژاد برطانوی شہری شام میں خودکش بمبار کیسے بنا؟

شام کے شمالی شہر حلب کی سنٹرل جیل پر گذشتہ ہفتے مبینہ طور پر ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری نے خودکش بم حملہ کیا تھا اور وہاں سے سیکڑوں قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

اکتالیس سالہ عبدالوحید مجید کے سنٹرل جیل پر اس فدائی حملے کے بارے میں جب سے اطلاع سامنے آئی ہے ،برطانوی میڈیا اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کررہا ہے کہ معمول کی خاندانی زندگی گزارنے والا ایک ہنس مکھ نوجوان خودکش بمبار کیسے بن گیا اور شام کیسے جا پہنچا تھا؟
شامی فوج کے خلاف محاذ آراء القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ نے اپنے اس خودکش بمبار کی شناخت سلیمان البرطانی کے نام سے کی ہے۔اس نے بارود سے بھرے ٹرک کو حلب کی سنٹرل جیل کے بیرونی دیوار کے نزدیک لاکر دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے بعد دوسرے جنگجوؤں نے جیل پر دھاوا بول دیا تھا اور وہاں سے سیکڑوں قیدیوں کو چھڑوا لیا تھا۔
اگرعبدالوحید مجید کی شناخت کی تصدیق ہوجاتی ہے تو وہ شام میں خودکش حملہ کرنے والے پہلے برطانوی شہری ہوں گے۔ان سے پہلے شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف جنگ میں لڑتے ہوئے سات برطانوی شہری مارے جاچکے ہیں۔
مجید کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ برطانیہ سے شام میں لڑائی میں شرکت کے لیے آئے تھے۔برطانوی پولیس نے اسی ہفتے سسیکس کاؤنٹی میں واقع قصبے کرالے میں ان کے مکان پر چھاپہ مارا تھا جہاں وہ اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ مقیم تھے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے رکن پارلیمان ہنری سمتھ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ”کرالے میں مختلف عقیدوں کے پیروکار لوگ رہ رہے ہیں اور ان کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ اس قصبے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص سخت گیری کی جانب گامزن ہوگیا ہے”۔
اس اخبار نے اپنی بدھ کی اشاعت میں لکھا تھا کہ جہادیوں نے سوشل میڈیا پر مجید کی شہادت پر انھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے اور ان میں سے ایک نے لکھا تھا:”تمام برطانوی مسلمانوں کو ان پر(مجید پر) پر فخر ہونا چاہیے”۔
ڈیلی میل نے مجید کو ایک پکا مسلمان قراردیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ شام سے روزانہ انٹرنیٹ فون سروس سکائیپ کے ذریعے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بات کیا کرتے تھے۔اخبار نے ان کے ایک ہمسایہ کے حوالے سے لکھا کہ ”مجھ صدمہ ہوا ہے کیونکہ وہ تو ایک ہنس مکھ انسان تھا اور وہ اپنے ملنے والوں سے ہنسی مذاق کیا کرتا تھا”۔
یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ عبدالوحید مجید کرالے کے جس مکان میں مقیم تھے ،اس میں برطانیہ کے ایک بدنام زمانہ قاتل رائے وٹنگ نے اپنا بچپن گزارہ تھا۔اس نے سن 2000ء میں ایک سات سالہ بچی سارہ پائن کو قتل کردیا تھا اور یہ واقعہ تب کئی روز تک برطانوی میڈیا میں نمایاں طور پر نشر اور شائع ہوتا رہا تھا۔
ایک اور برطانوی اخبار ”دی لندن ایوننگ اسٹینڈرڈ” نے اپنی جمعرات کی اشاعت میں یہ انکشاف کیا ہے کہ ”مجید سخت گیر عالم دین عمر بکری کے ڈرائیور رہے تھے اور وہ ان کے ایک سچے شاگرد بھی تھے”۔
عمربکری نے طرابلس سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ”مجید بہت ہی پیارے بھائی تھے۔وہ ہنس مکھ آدمی تھے اور اپنی بیٹی کے بارے میں گھنٹوں گفتگو کیا کرتے تھے لیکن اس سب کے باوجود مجھے حلب میں ان کے خودکش حملے پرکوئی حیرت نہیں ہوئی ہے”۔
اس عالم دین نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”میں اس کی فطرت سے اچھی طرح آگاہ ہوں،وہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتا تھا اور مسلمانوں کے نصب العین کی خاص طور پر مدد کرنا چاہتا تھا”۔
واضح رہے کہ برطانوی پولیس افسروں کی تنظیم کے سربراہ پیٹر فاہی نے گذشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذ آراء باغیوں کی مدد کو جانے والے برطانوی شہریوں کو وطن واپسی پر گرفتار کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ملک کے لیے سکیورٹی خطرے کا موجب ہوسکتے ہیں۔
انھوں نے برطانوی شہریوں کے شام میں جہاد کے لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔لیکن ان کے اس انتباہ اور تشویش کے باوجود برطانوی مسلم نوجوان شام کا رخ کررہے ہِیں اور وہ وہاں القاعدہ سے وابستہ تنظیموں یا دوسرے جنگجو گروپوں میں شامل ہوکر شامی فوج کے خلاف برسر جنگ ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں