نفس کی اطاعت انسان کو گمراہ کرتی ہے

نفس کی اطاعت انسان کو گمراہ کرتی ہے

اسلام کے معنی ــ تابع ہونا یعنی خود کو خدا کی رضا کا تابعدار اور فرمانبردار بنانا ہے۔ لفظ مسلم اسی مخرج سے نکلا ہے جس کے معنی وہ جو تابعدار ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر سچا مسلمان خود کو ہر وقت خدا کے سامنے حاضر سمجھتا ہے۔

اسلام کی احکامات سے دور ہو کر انسان گمراہ اور باغی بن جاتا ہے اور ان کی زندگی خواہشات اور نفس کی پیروی کے نقصانات و مصائب سے ان کے لئے وبالِ جان ہوجاتی ہے۔

سردی کے موسم میں فجر کی اذان ہمارے کانوں تک جب پہنچتی ہے تو ایمان کا تقاضہ ہے کہ میٹھی نیند کو توڑ کر نماز کی تیاری کریں مگر ہمارا نفس ہمیں ہمارے گرم بستر کی یاد دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ مسجد کو جاکر نماز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے گھر میں ہی نماز پڑھ لے تو نماز ہو جائے گی۔جماعت کا ثواب نہ سہی مگر فرض تو ادا ہو جائے گی۔اسطرح ہم مسجد سے دوری اختیار کر لیتے ہیں اورگمراہ ہو جاتے ہیں۔

اسلام صرف عبادات کے مجموعے کا نام نہیں ہے یہ ایک ہمہ گیر طریقہء زندگی ہے جو انسانی خیالات اور اعمال کی اس حد تک رہنمائی کرتا ہے جس کی مثال ہمیں کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔ اسلام کے معنی ــ تابع ہونا یعنی خود کو خدا کی رضا کا تابعدار اور فرمانبردار بنانا ہے۔ لفظ مسلم اسی مخرج سے نکلا ہے جس کے معنی وہ جو تابعدار ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر سچا مسلمان خود کو ہر وقت خدا کے سامنے حاضر سمجھتا ہے۔ گویا اگر میں اپنی سمجھ سے کہوں تو اﷲ کا ماننے والا مسلمان اور نفس کو ماننے والا شیطان تو غلط نہ ہوگا۔

جو انسان دینِ فطرت کے اصولوں اور احکام کی اطاعت و پیروی سے انحراف کر کے نفس کا غلام بن جاتا ہے تو نفس کی پیروی اس کی زندگی اور اس کے لوازمات کو ذلیل مقاصد اور ارذل اغراض سے وابستہ کر دیتی ہے اور نفس کی خواہشات کی غلامی انھیں گمراہی وضلالت کے آہنی پنجے میں گرفتار کر دیتی ہے۔ اسلام کی احکامات سے دور ہو کر انسان گمراہ اور باغی بن جاتا ہے اور ان کی زندگی خواہشات اور نفس کی پیروی کے نقصانات و مصائب سے ان کے لئے وبالِ جان ہوجاتی ہے۔

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : خواہش اور نفس کی پیروی مت کرو کیونکہ وہ تمہیں اﷲ تعالیٰ کی راہ ( اسلام ) سے گمراہ کر دے گی اور جو لوگ اﷲ تعالیٰ کی راہ سے گمراہ ہو جاتے ہیں ان کو حساب کے دن کو بھول جانے کے سبب سے سخت عذاب ہوتا ہے ۔۔اﷲ اکبر

مثال کے ذریعے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ نفس کی اطاعت سے انسان کیسے گمراہ ہو جاتا ہے۔ سردی کے موسم میں فجر کی اذان ہمارے کانوں تک جب پہنچتی ہے تو ایمان کا تقاضہ ہے کہ میٹھی نیند کو توڑ کر نماز کی تیاری کریں مگر ہمارا نفس ہمیں ہمارے گرم بستر کی یاد دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ مسجد کو جاکر نماز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے گھر میں ہی نماز پڑھ لے تو نماز ہو جائے گی۔جماعت کا ثواب نہ سہی مگر فرض تو ادا ہو جائے گی۔اسطرح ہم مسجد سے دوری اختیار کر لیتے ہیں اورگمراہ ہو جاتے ہیں۔بھلا بتائیے کہ مسجد سے دوری اختیار کر کے ہم کیسے خدا کا قُرب حاصل کر سکتے ہیں۔ہمارا نفس ہمیشہ آرام و آسائش کی چیزوں کو پسند کرتا ہے یہ آرام وآسائش کی چیزیں ہمیں محنت اور نیک عمل سے دور کرتی ہیں اور نیک عمل سے دوری انسان کو گمراہ کر دیتی ہے اور یہ گمراہی ہمیں جنّت سے دور اور جہنّم کے قریب کردیتی ہے۔

جب انسان نفس کی پیروی سے اسلام کے احکام کی اطاعت وپیروی سے منحرف ہو جاتا ہے تو گمراہ ہو کر وہ اپنی قوتِ عمل کو گناہوں اور گمراہیوں کی سیاہ کاریوں میں صرف کرتا ہے۔ نفس کی پیروی کرتے کرتے وہ اﷲ سے دوری اختیار کر جاتا ہے اُس پر نصیحت آموز بات اثر نہیں کرتی کیونکہ نفس کی پیروی کے ساتھ اُسے مفت میں غرور بھی مل جا تا ہے۔اس طرح وہ گناہوں کے دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔اﷲ خیر کرے ہم سب پر۔

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : اور کون شخص اس سے زیادہ گمراہ ہو سکتا ہے جو اﷲ کی راہِ ہُدا اسلام کی پیروی چھوڑ کر اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کرتا ہے۔

آج مسلمان مختلف مصائب کے امراض میں مبتلاء ہیں جن کا علاج صرف او رصرف نیک اعمال ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کے ہم نے جس دینِ اسلام کو قبول کیا ہے اُس دین کے تمام ارکان پر عمل کریں اورزندگی کے ہر شعبہء میں سُدھار پیدا کریں۔ انشاء اﷲ اس سے ہماری دنیا اور آخرت سنور جائے گی۔ اﷲ تعالیٰ ہم تمام کو لکھنے ، کہنے ، سُننے سے پہلے عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ثم آمین

ہماری ویب

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں