آج : 9 October , 2013

بلوچستان زلزلہ: طالبات کی بیس اجتماعی قبریں

بلوچستان زلزلہ: طالبات کی بیس اجتماعی قبریں

بلوچستان کے زلزلے میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقے مشکے میں مکانوں اور دفاتر کے ڈھیروں میں مٹی کا ایک اور بھی ڈھیر ہے، یہ ان بیس لڑکیوں کی اجتماعی قبر ہے جو زلزلے کے دوران مدرسے کی عمارت کے ملبے میں دب کر ہلاک ہوئیں۔

پندرہ ہزار کی آبادی کے شہر میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ مدرسے قائم تھے۔ لڑکوں کے مدرسے کی عمارت پکی تھی جس میں پانچ سو پچاس سے زائد طلبہ زیر تعلیم تھے جبکہ لڑکیوں کے مدرسے کی عمارت کچی تھی جہاں اڑھائی سو کہ قریب طالبات پڑھتی تھیں۔
مدرسے کے ایک استاد محمد اشرف نے بتایا کہ زلزلے کے وقت لڑکے عمارت سے باہر تھے۔ جیسے زلزلہ آیا اور عمارتیں گریں تو وہ ساتھی اساتذہ اور بڑے طلبہ کے ساتھ لڑکیوں کی مدرسے کی جانب دوڑے۔ وہاں جب پہنچے تو پوری عمارت زمین بوس ہوچکی تھی لگتا ہی نہیں تھا کہ یہاں کبھی مدرسہ بھی تھا۔
’ زلزلے کے بعد کئی استانیاں اور بچیاں تو عمارت سے نکلنے میں کامیاب رہیں لیکن بائیس کے قریب دب گئیں، ان کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس کی مدد سے دبنے والوں کو نکالا جاسکتا۔ انہوں نے ہاتھوں کی مدد سے لاشوں کو نکالا، لڑکیوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ ایسے پکڑے ہوئے تھے جیسے انسانی زنجیر بنائی جاتی ہے۔ شام چار بچے زلزلہ آیا اور ہم رات گئے تک کھودائی کرکے لاشیں نکالتے رہے۔
محمد اشرف کے مطابق مدرسے کے تین کمروں پر مشتمل مدرسےمیں چھ سے سولہ سال تک عمر کی لڑکیاں زیر تعلیم تھیں۔
آواران ضلع کی تحصیل مشکے میں حالیہ زلزلے سے سو زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے، مدرسے کے ایک اور استاد عبدالقادر نے بتایا کہ لاشیں نکالنے کے بعد تدفین میں بھی مشکلات پیش آئیں۔
’ کفن کے لیے سفید کپڑا دستیاب نہیں تھا۔ مخیر حضرات نے طلبہ کے کپڑوں کے لیے جو رنگ برنگ کپڑے دیے تھے ان سے کفن تیار کیا گیا، بہت مشکل حالات تھے ایسی روایات بھی ملتی ہیں اس وجہ سے لڑکیوں کی اجتماعی تدفین کی گئی۔
متاثرہ مدرسے میں محمد اشرف کی بیٹی بھی زیر تعلیم تھی۔ ان کا چھوٹا بیٹا بھی بہن کے ساتھ کبھی کبھار جاتا تھا، زلزلے والے روز بھی اس نے بہن کے ساتھ جانے کی ضد کی تھی۔
محمد اشرف بتاتے ہیں کہ جیسے زلزلے آیا تو ان کے کچے مکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں ان کی والدہ دب گئیں وہ انہیں نکالنے میں مصروف ہوگئے لیکن وہ انتقال کر گئیں۔’میں نے لڑکیوں کے مدرسے کی طرف دوڑ لگائی جب یہاں پہنچا تو ہر طرف دھول اڑ رہی تھی اور عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی تھی۔‘
پاکستان میں کئی مذہبی فلاحی ادارے بھی آفات سے متاثرہ لوگوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مدرسے کے استاد محمد اشرف کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کوئی بھی مذہبی جماعت مدد کے لیے نہیں پہنچی اور نہ ہی انہوں نے انہیں مشکے میں دیکھا ہے۔
’ کیا وجہ ہے کیوں نہیں آتے، اپنی موت سے ڈرتے ہیں۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ انہیں خدا سے ڈرنا چاہیے موت تو آنے والی چیز ہے۔
پاکستان میں مدراس کے نصاب پر کئی بار تنقید اور بحث کی گئی ہے، لیکن ان طلبہ کو فرسٹ ایڈ کی تربیت فراہم کرنے کی حکومت اور مدارس کی تنظیموں نے کبھی کوشش نہیں کی۔
مشکے کے مدرسے کےاستاد محمد اشرف کا کہنا ہے کہ یہ زلزلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ، سائنس داں جو بولتے ہیں وہ کبھی صحیح ہوتا ہے تو کبھی نہیں ۔ مدرسے میں وہ بچوں کو زلزلے کے بارے میں دینی معلومات فراہم کرتے ہیں۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں