کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے منگل کی رات کو پاکستانی علماء کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر حکومت جنگ بندی میں پہل کرتی ہے تو طالبان بھی اسی طرح کا ردِ عمل ظاہر کریں گے۔
پاکستان وفاق المدارس کے تحت مدارس کے نمائیندوں اور علما نے پیر کے روز ملک میں جاری ‘ خانہ جنگی’ جیسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپیل کی تھی کہ دونوں ، حکومت اور طالبان امن مذاکرات کے حتمی نتیجے تک ‘ مکمل جنگ بندی’ کا اعلان کریں۔
مدارس کے علما اور اساتذہ کی جانب سے اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس اور اس میں ‘مشاورت’ کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ یہ اجلاس وفاق المدارس کے سربراہ مولانا سلیم اللہ خان کی نگرانی میں ہوا تھا۔
ڈان ڈاٹ کام سے ایک نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ ٹی ٹی پی علما کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز کا خیر مقدم کرتی ہے۔
تاہم انہوں نے کہاکہ یہ حکومت ہے جس نے ان کیخلاف جنگ چھیڑی ہے اور اگر حکومت جنگ بند کرنے میں پہل کرتی ہے تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔
‘ ہم اے پی سی تجاویز پر آگے بڑھنے کیلئے راضی ہیں اور امن چاہتے ہیں، اور طالبان لیڈرشپ امن عمل سے متعلق کوئی بدخواہی نہیں رکھتی،’ انہوں نے مزید کہا۔
پاکستانی طالبان کی جانب سے (علما کی تجاویز) کے خیر مقدم کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے کیونکہ ہفتے کو ٹی ٹی پی کے ترجمان نے کہا تھا کہ نواز شریف کی سوچ بدل رہی ہے اور وہ ہتھیار ڈالنے کا کہہ رہے ہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔
‘ ہم سے ہتھیار ڈالنے اور آئین کی پاسداری کا کہہ کر وزیرِ اعظم نواز شریف نے ظاہر کردیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پالیسی پر گامزن ہیں،’ ترجمان نے کہا۔
پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی جانب کسی علاقے میں ٹی ٹی پی آفس کھولنے کے بارے میں شاہد اللہ شاہد نے کہا،’ ہم اس آفر کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت کہیں کوئی دفتر کھولنے کی ضرورت نہیں۔’
اس سے قبل پیر کے روز پنجابی طالبان کے سربراہ عصمت اللہ معاویہ نے اپنا امن کیلئے غیر مشروط مذاکرات کی اپنی پیشکش کو دوہرایا اور کہا کہ پنجابی طالبان تین دن کے اندر اے پی سی تجاویز کا جواب دیں گے۔
ڈان نیوز

آپ کی رائے