رمضان کے بعدنیکیوں کی بہاریں رخصت کیوں ہوگئی ہیں؟

رمضان کے بعدنیکیوں کی بہاریں رخصت کیوں ہوگئی ہیں؟

 

 

 

مادی ترقی ہویاروحانی، حقیقت پسنداورPRACTICALیعنی عملی بنے بغیرحاصل نہیں ہوتی ۔ترقی کے اصولوں کی گردان کرکے ’’جنت‘‘ کے حصول کاخواب دیکھنے والے ہمیشہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

ایسے لوگوں کاعرفانِ ذات پژمردہ ہوجاتاہے اوران کی شخصیت ٹھٹھرجاتی ہے۔ موجودہ دورمیں مسلمانوں پریہ مثال پورے طور پر صادق آتی ہے ۔اس پوری قوم میں بالعموم کھوکھلے نعروں ،پرشکوہ لفاظی اورمحض سطحی جذبات کے سواکچھ بھی نظرنہیں آتابلفظ دیگریوں کہیے کہ اس کاتصورِترقی احمقوں کی جنت سے آگے نہیں بڑ ھ سکاحالاں کہ مسلمانوں کادین جس قدرحقیقت پسندہے اورعملیت پسندی کی جس طرح ترغیب دیتاہے بلفظ دیگراسلام جس طرح تصورِجنت سے حقیقی جنت کی تشویق وتحصیل کی طرف لے جاتا ہے ، اس کی مثالیں کہیں اورنظرنہیں آتیں۔

اسلام کا عظیم رکن روزہ بھی عملیت پسندی کی ایک عظیم ترین اورروشن ترین مثال ہے ،لیکن چوں کہ بعض وجوہ سے ہمارا تصورِ عبادت نہایت سطحی ہوکررہ گیاہے اس لیے ہمارے نزدیک اس کی اہمیت محض ایک رسم،ایک معمول اورایک روایت سے زیادہ نہیں۔روزے کی کلیت کاجائزہ لیجیے،یہ پورے طورپرایک عملی اوروحانی تجربہ معلوم ہوگا۔بہت ساری چیزیں تجربے اورعمل کے بغیرنہیں سمجھی جاسکتیں،آپ انہیں سمجھانے کے لیے کیسی ہی مثالیں لے آئیں،کتنی ہی اچھی تقریرکرلیں یاکتنی ہی غیرمعمولی کتابیں لکھ ڈالیں ، جب تک انسان تجربات اورعملی کوششوں کی بھٹی میں خودکونہیں تپاتا اسے شی کی اہمیت کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔اسلام عمل اورتجربے کاحاصل ہے اس لیے فکری سطح پراس کے احکام کی وقعت کا اندازہ ہوہی نہیں ہوسکتاجب تک تجربے کاسفرکرکے اس کی حقیقت تک نہ پہنچاجائے۔روزہ بھی ایک عظیم روحانی تجربہ ہے ۔اس کے ذریعے بیک وقت کئی مسائل و احکام پر عمل کرایاگیاہے گویاروزہ بحیثیتِ مجموعی کئی احکام کامرکب ہے اوراس کاہرجزایک بڑے کل کی حیثیت رکھتاہے ۔

یہاں ایک بڑاسوال یہ ہے کہ مسلمان اس پورے مہینے کے روحانی تجربات سے مستفیدہوتے ہیں،نمازوروزے کااہتمام کرتے ہیں،نیکیاں کرتے ہیں اورنیکیوں کی ترغیب دیتے ہیں مگرجیسے ہی یہ مقدس مہینہ الوداع کہتاہے توہم بھی تمام نیکیوں کوالوداع کہہ دیتے ہیں۔ علما تقریریں کرتے ہیں اورمصنفین کتابیں تصنیف کرتے ہیں کہ یہ مقدس مہینہ مسلمانوں کی دینی ٹریننگ اورروحانی تربیت کاہے ۔ٹریننگ کا مطلب تویہ ہوتاہے کہ تربیت گاہ سے اصولِ حیات سیکھ بقیہ زندگی اسی درس کے سائے میں گزارنی ہے مگریہ کیسی تربیت ہے اورکیسامربی اورکیساتربیتی عمل کہ ایک مہینے کے بعد اس کے اثرات غورسے ڈھونڈھنے پربھی نہیں ملتے؟

اسلام کی کلیت پرغورکریں تومعلوم ہوگاکہ دین دراصل ظاہروباطن میں حدِفاصل کانام ہے اس لیے کہ اخلاقی وروحانی قوتوں کوغذا ظاہرسے نہیں باطن سے حاصل ہوتی ہے۔جب تک کوئی عمل ’’خالص ‘‘نہ ہوضروری نہیں کہ بارگاہِ الہٰی میں مقبولیت کے درجے پرفائزبھی ہوسکے ۔ہمارے یہاں چوں کہ زیادہ ترنیکیوں کا’’مظاہرہ‘‘ ہوتاہے اورجہاں صرف مظاہرہ ہووہاں کوئی بھی چیزلاشعورکاحصہ نہیں بن پاتی ۔اس کے برخلاف رمضان المبارک کامقصدیہ ہے کہ نیکیاں ہمارے تحت الشعورکی گہرائیوں میں پیوست ہوجائیں ۔ظاہرہے جب جڑیں تحت الشعورکی اندرونی سطح تک اتری ہوئی ہوں گی توہماراکوئی کام محض ’’مظاہرہ‘‘ نہیں ہوگابلکہ وہ باطن کاپرتوبن کرسامنے آئے گااوراس ’’مظاہرے‘‘پرباطن کی پرچھائیاں پڑی ہوں گی۔

دین ومذہب کامعنیاتی پہلواگرذہن میں ہوتوا س کواس طرح سمجھاجاسکتاہے کہ ہمارا’’دینی مظاہرہ‘‘ ہمارے مذہب کوتوظاہرکردیتاہے مگر ہمارے دین کی حقیقی ماہیت کوظاہرنہیں کرپاتا۔دین دراصل’’ مظاہرہ‘‘کانہیں بلکہ باطن میں چھپی ہوئی کیفیتوں یاان کیفیتوں کے عملی اظہارکانام ہے ۔رمضان المبارک کے مہینے کے بعدمعاشرے سے نیکیاں اس لیے اپنارختِ سفرباندھ لیتی ہیں کہ وہ ہمارے اندرون کی مضبوط بنیادوں پرقائم نہیں ہوتیں اورجب تک بنیادمضبوط نہ ہوتواس پراستوارکیے جانے عمل بھی وقتی اورعارضی ہوتے ہیں اس لیے رمضان شریف کے بعدنیکیوں کاوہ جذبۂ مسابقت نظرنہیں آتاجواس کامرکزی استعارہ ہے ۔

ہمارادین مظاہرے کوپسندنہیں کرتاہاں بعض چیزوں میں مظاہرہ یعنی ظاہرکرنااسلام کومطلوب ہے مگروہ چندگنی چنی چیزیں ہیں جوبے پناہ حکمتوں او رمصلحتوں پرمبنی ہیں ۔ہم سے غلطی یہی ہورہی ہے کہ ہم نے دین کوظاہرپرستی کامجموعہ بناکررکھ دیاہے اورجب اسلام کومحض ظاہرپرمحمول کیا جانے لگے تواس کی حقیقی روح رخصت ہوجاتی ہے اورجب روح ہی پروازکرجائے توخالی جسم کس کام کا؟۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے اندراثر نہیں پیدا ہوتا کہ ہم نے اسلامی تعلیمات کوچندمذہبی رسومات ، معمولات اورروایات کامعجونِ مرکب تصورکرلیاہے، اگرچہ یہ غیرشعوری طورپرہوتاہے مگر اس وجہ سے جونتائج اوراثرات مرتب ہوتے ہیں وہ دین کی کلیت اورحیاتِ ملی کومجروح کردینے والے ہوتے ہیں۔اگردین کاکام دین کی حقیقت وماہیت سمجھ کرکیاجائے تو نہ صرف یہ کہ اس سے روحانی تقویت حاصل ہوگی بلکہ اس کے اثرات بھی دیرپااورتعمیری ہوں گے ۔ہماری کم نصیبی کہ ہم نے رمضان المبارک جیسامقدس ومتبرک اورعملی PRACTICALمہینہ بھی اپنے ’’دینی مظاہروں‘‘سے محض روایت اورمعمول کاایک حصہ بناکررکھ دیاہے اورظاہرپرستی کی کھوکھلی مثال۔گویایہ’’ مظاہرہ‘‘محض قشرہے مغزنہیں لیکن ہماری عقل مندی یہ ہے کہ محض قشرکوہی مغزسمجھ بیٹھے ہیں اوراسی میں خوش۔یہ ’’مظاہرہ‘‘ اسی وقت مستحسن ہوگاجب وہ اپنی نہادمیں صرف ظاہری نہ ہوں باطنی ہوں،محض مادی نہ ہوں روحانی ہوں،محض خارجی نہ ہوں اندرونی ہوں۔باطن سے لے کرظاہرتک سارے نقشے یکساں ہوجائیں اورحال سے قال تک سارے زاویے ایک ۔

روزے کے ذریعے جن برائیو ں پربندباندھنے کی کوشش کی گئی ہے اس کی تکمیل روحانی تربیت ،باطنی ارتقااوراندرونی پاکیزگی سے ہی ہو سکتی ہے ۔ ہوسکتاہے کہ وقتی طورپرکسی دباؤیاخوف یا مجبوری کی وجہ سے کچھ دیرکے لیے برائی کاصدورنہ ہولیکن جیسے ہی یہ رکاو ٹ زائل ہوگی ہمارا نفسِ امارہ ہمیں برائیوں پرابھارے گالیکن جب ہمارا اندرون مضبوط ہوگایایوں کہہ لیجیے کہ ہماراروحانی پہلوغالب رہے گا اور ہمارا باطن ہروقت خوفِ خدا سے تررہے گاتب تک گناہوں کا صدوربہت مشکل سے ہوگا۔یہاں ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ مسلسل ایک مہینے تک واعظین کے وعظوں اورمربین کی تربیتوں سے سیکھے جانے والے سارے سبق بھلاکیوں دیے جاتے ہیں؟۔

تربیت میں کہیں نہ کہیں کمی ضرورہورہی ہے ۔کوئی بات اسی وقت مؤثرہوسکتی ہے جب کہنے والابھی اس کاپابندہوبصورتِ دیگر قوتِ تاثیر کا سرمایہ حاصل نہیں ہوپاتا۔ہمیں یہ حقیقت بسروچشم تسلیم کرلیناچاہیے کہ ہمارے جلسوں اورجمعے کے خطابات میں زیادہ ترتقریریں اورخطابات ہوتے ہیں ،تربیت نہیں ہوتی اورجب تک تربیت نہ ہوتویہ وعظ ،یہ تقریریں اوریہ خطابات محض الفاظ کامجموعہ بن کررہ جاتے ہیں،اس سے روحانی ترقی کے دروازے وانہیں ہوسکتے۔زیادہ ترلوگوں کی خواہش یہی رہتی ہے کہ وہ عوام اورسامعین پراپنی علمیت کاسکہ جماسکیں ۔ان کامطمح نظربس یہ ہوتاہے کہ ’’ میری تقریرجمی کہ نہیں ‘‘۔ جب تصوریہ ہوتومقصدِاصلی پس منظرمیں چلاجاتاہے ۔دیکھیے یہاں بھی محض مظاہرہ ہورہاہے یعنی مذہب کی نمائش ہورہی ہے اوردین پسِ پشت چلا گیا ہے ۔اپنی شخصیت پرتقدس مآبی کالبادہ اوڑھنے سے دین پرستی کا مظاہرہ توہوسکتاہے مگردین کی حقیقت و ماہیت پرعمل ہو سکتاہے اورنہ کرایاجاسکتاہے۔ نام ونمود،ریاکاری اورمحض ’’مظاہرے‘‘ کامزاج بدلے بغیر تربیت کاحق ادانہیں ہوسکتا اورجب تک صحیح تربیت نہ ہو تو دین کے حقائق کاادراک محض خواب ہے ۔

انسان عملی اسی وقت بنتاہے جب اس کی ٹریننگ صحیح منہج پرکی جائے ۔ہماری بدقسمتی کہ اسلام جیسے خالص عملی اور PRACTICALدین کو ہم نے اسے صرف نظریاتی اورفکری سرحدوں میں محدودکردیاہے ۔ رمضان المقدس کے فضائل اور مغفرت کی بشارتیں سن کرہم کامیابی اورترقی یعنی جنت کے تصورمیں گم ہوجاتے ہیں۔ایک مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کامظاہرہ کرکے ہمارے ذہن و فکرپریہ خوش فہمی اپنابسیراکرلیتی ہے کہ جنت توہماری ملکیت ہے مگرجواعمال واقعی ہمیں جنت کامالک بناتے ہیں اورہمارے تصورِ جنت کوحقیقی جنت کے حصول میں بدل دیتے ہیں ان سے دور بھاگتے ہیں۔یہ ہمارے’’ دینی مظاہروں‘‘ اورتصوررمضان ہی کاشاخسانہ ہے کہ ہمیں اس ماہ کی برکتیں وافرمقدارمیں میسرنہیں ہوپاتیں اورجسے برکتوں سے حصہ نہ ملے اس سے سوائے اس کے اورامیدبھی کیاکی جاسکتی ہے کہ وہ ’’مظاہروں ‘‘ کو ہی عینِ عبادت کادرجہ دے دے اوررمضان کا یاد کیا ہواسبق فراموش کردے ۔
ہماری ویب

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں