دعا کی حقیقت جدید سائنس کی نظر میں

دعا کی حقیقت جدید سائنس کی نظر میں

 

 

 

دعائیں ہماری آرزوؤں‘ تمناؤں اور خواہشوں میں نکھار پیدا کرتی ہیں اورہمیں قناعت کی دولت بخشتی ہیں۔

دعا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے اطمینان قلب کی نعمت خودبخود حاصل ہوجاتی ہے۔ دل‘ انقباض کے بعد ایک قسم کی طمانیت‘ کشادگی اور رنج و الم کے بعد فرحت و انبساط محسوس کرتا ہے
علامہ فضل الٰہی عارف اپنی کتاب فلسفہ دعا میں لکھتے ہیں: ’’دعا مانگنا حسین انسانی فطرت کا تقاضا ہے چنانچہ جب ہم مبتلائے آلام ہوتے ہیں اور مصیبتیں ہمیں چاروں طرف سے آگھیرتی ہیں تو ہمارے ہاتھ دعا کیلئے بے اختیار اٹھ جاتے ہیں۔ دل مضطرب سے معاً الفاظ پکار بن کر نکلتے ہیں‘ بے ساختگی میں نکلی ہوئی یہی آواز دعا کہلاتی ہے‘‘
مصیبت میں پکارنے کی جبلت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ انسان اپنے اس جبلی ادراک کے تحت ایک برتر ہستی کے سامنے اپنے عجز کا اعتراف کرتا ہے اور اسے فریاد رس سمجھ کر امداد و اعانت کا طالب ہوتا ہے۔ دین فطرت کا ترجمان بھی اس انسانی فطرت پر ان الفاظ میں روشنی ڈالتا ہے جب انسان کو کوئی نقصان پہنچے تو اپنے پالنے والے کو پکارتا ہے اور ہمہ تن اسی کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ پکارنے کی اس جبلت کی تعدیل کی صحیح صورت اللہ اور صرف اللہ سے دعا مانگنا ہے۔
بے چینی اور افسردگی کے اسباب اور اطمینان قلب
ہم بے چین‘ مایوس اور پریشان اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ ہم نے کسی سے امیدیں لگارکھی ہوتی ہیں اور جب وہ امیدیں پوری نہیں ہوپاتیں تو ہم افسردگی کا شکار ہوتے ہیں۔عدم سکون کا دوسرا باعث ’’ہل من مزید‘‘ کا رجحان ہے یعنی ایک خواہش اگر پوری بھی ہوجائے تو تسلی نہیں ہوتی بلکہ اس سے ایک اور خواہش پیدا ہوتی ہے اور بالآخر یہ اپنے جلو میں حرمان و یاس کو لاتی ہے۔ لمبی لمبی امیدیں اور خواہشات یقینا عدم اطمینان کی طرف رہنمائی کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ دین فطرت نے ’’طول امل‘‘ کی پرزور مذمت کی ہے اور ہمیشہ قناعت کی تعلیم دی ہے۔ دعا‘ اطمینان قلب کیلئے بہترین ذریعہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں جو دعائیں بھی مانگی جائیں گی ان میں غیرضروری خواہشات کو دخل نہیں ہوگا۔ دعائیں ہماری آرزوؤں‘ تمناؤں اور خواہشوں میں نکھار پیدا کرتی ہیں اورہمیں قناعت کی دولت بخشتی ہیں۔ دعا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے اطمینان قلب کی نعمت خودبخود حاصل ہوجاتی ہے۔ دل‘ انقباض کے بعد ایک قسم کی طمانیت‘ کشادگی اور رنج و الم کے بعد فرحت و انبساط محسوس کرتا ہے۔ ٹامس کا رلائل کا نظریہ مسرت دعا کی حکمت کا ایک پہلو خوب واضح کرتا ہے۔ اس کا نظریہ ہے کہ ہم اگر خوشی کو براہ راست منتہائے مقصود نہ بنالیں تو خوشی خودبخود حاصل ہوجائے گی۔ ہم جب اپنا مطمح نظر براہ راست مسرت کو بنالیتے ہیں یا تجزیہ کرنے لگتے ہیں تو ہمیں مایوسی ہوتی ہے۔ ذہنی کوفت ہوتی ہے اور ہم دکھی ہوتے ہیں۔
دعا کی خوبی ملاحظہ ہو کہ تکلیف میں ہم دعا مانگتے ہیں تو اس وقت صرف دل کا اطمینان مطمح نظر نہیں ہوتا بلکہ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ وہ مصیبت دور ہوجائے یا کوئی آرزو پوری ہو۔
چنانچہ دعا کے بعد خواہ مصیبت دور ہو یا نہ ہو‘ آرزو پوری ہو یا نہ ہو دل کو تسلی ضرور ہوتی ہے اور گڑگڑا کر دعامانگنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ غم و یاس کے بادل جو دل و دماغ پر چھائے ہوتے ہیں وہ اشک بن کر برس جاتے ہیں اور اس طرح دکھ درد کی تلخی کم ہوجاتی ہے۔

عبقری

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں