آج : 27 April , 2013

خاش میں دینی مدارس کے ذمہ داروں کا اجلاس

خاش میں دینی مدارس کے ذمہ داروں کا اجلاس

ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے دینی مدارس کے مہتممین و ذمہ داروں کا رواں برس میں تیسرا اجلاس جامعہ مخزن العلوم خاش میں سترہ اپریل کو منعقد ہوگیا۔

مذکورہ میٹنگ میں صوبے کے اکثر دینی مدارس کے عہدیداروں اور دینی کارکنوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت ’شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان‘ کے ناظم عمومی شیخ الحدیث مولانا محمدیوسف حسین پور کررہے تھے۔
بدھ سترہ اپریل کی صبح سے آغاز ہونے والے اجلاس میں بعض مدارس کی تقاریب ختم بخاری ودستاربندی کی تاریخ طے ہوگئی جبکہ سالانہ امتحانات کے شیڈول پر بھی اتفاق کیا گیا۔
تلاوت قرآن مجید کے بعد صدر شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے حاضرین سے خطاب کیا۔

علمائے کرام عوام کے مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح دیں
دینی مدارس کے عہدیداروں کی موجودی میں ’علمائے کرام کو معاشرے کے رہنما‘ قرار دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: ہمارے عوام قلبی طورپر اپنے علماء سے وابستہ ہیں؛ ان کا خیال ہے جب تک علماء کی عبادت، شب بیداری اور تہجد موجود ہے اللہ تعالی کا کوئی عذاب انہیں اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا۔ لہذا علمائے کرام کوشش کریں مزید عبادت کریں، رات کا کوئی حصہ تہجد اور عبادت کیلیے مخصوص کردیں تاکہ لوگوں کا گمان ان کے بارے میں سچ نکلے۔ علمائے کرام ہر کام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلیں، اپنے تمام اعمال میں آپﷺ کی سیرت و سنت کو ملحوظ رکھ کر ان کی پیروی کیا کریں۔ عوام علماء کو ہادی و ناجی سمجھتے ہیں، ان کی امیدیں علماء سے وابستہ ہیں، لہذا علمائے کرام مسلم امہ کو انسی وجنی شیاطین کے حملوں سے بچائیں۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: قرآن پاک کی روشنی میں انبیائے کرام علیہم السلام کی ذمہ داری معاشرے کی اصلاح وتربیت ہے۔ نیز پیغمبروں کے وارث وجانشین علمائے کرام کو اسی میدان میں محنت کرنی چاہیے۔ علماء کو نماز، تلاوت اور اخلاق وکردار میں مثالی ہونا چاہیے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کا حال تھا۔ علماء کو ’منذر‘ اور اللہ کی سزا سے ڈرانے والا ہونا چاہیے۔ اس راہ میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ نوجوان علمائے کرام یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ وہ ہمارے اکابر اور اسلاف کے جانشین ہیں؛ لہذا ان کا کردار ان جیسا یا ان کے عمل سے بھی زیادہ ہونا چاہیے، چونکہ آج کے حالات یکسر مختلف ہیں اور معاشرے میں نت نئے فتنے سر اٹھارہے ہیں۔ اسی لیے علماء کو عوام کے مفادات کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دینی چاہیے۔ محنت وقربانی کامیابی کیلیے ضروری ہیں۔

’تعلیم‘ و’تبلیغ‘ سے آسمانی آفات سے نجات حاصل ہوگی
اپنے خطاب کے ایک حصے میں حالیہ شدید زلزلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: ہمیں اللہ تعالی کا لاکھ شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس قدر شدید اور خطرناک زلزلے میں ہمارے صوبے میں کسی کو جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ سب کچھ خاص اللہ تعالی کا فضل وکرم اور قرآن پاک کی تعلیم وتبلیغ اور دینی امور میں حصہ لینے کی برکت سے ہوا۔

انہوں نے مزیدکہا: ہمیں خوش نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ کا عذاب دوبارہ نہیں آئے گا؛ ہمیں اس خوف سے رہنا چاہیے کہ کہیں اللہ کی سزا ہمیں نہ پکڑے۔ ہمیں اپنی اور معاشرے کی مزید اصلاح و ہدایت کیلیے دن رات محنت کرنی چاہیے۔ ایسے زلزلوں کو اللہ کی جانب سے وارننگ اور امتحان سمجھ لینا چاہیے۔ آسمانی آفتوں کے بعد تضرع و توبہ کرکے اپنے برے اعمال پر ندامت ظاہر کرنا چاہیے؛ اگر الٹا مزید گناہوں میں پڑگئے تو یہ قلبی قساوت کی علامت ہے۔ بہرحال زلزلہ کائنات کا غضب نہیں اللہ رب العزت کا غضب ہے۔ جیسا کہ اللہ کفار کو سزا دیتاہے مسلمانوں کو بھی سزا دے سکتاہے اگر وہ گناہ ومعاصی سے باز نہ آئیں۔ لہذا علمائے کرام اپنی کوششیں تیز کردیں اور عوام کو توبہ واستغفار کی ترغیب دیدیں؛ دین کے فرائض خاص کر نماز کی پابندی کی تلقین کرنی چاہیے۔

علما استغنا سے کام لیں
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں علمائے کرام کو استغنا اختیار کرنے اور مال ودولت کی محبت سے گریز کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا: بعض لوگ جو علما کے لباس زیب تن کرتے ہیں جب پیسہ کا نام سنتے ہیں تو کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگ دوراندیش نہیں ہیں۔ دنیا ہمارے سامنے کوئی حقیر و کمزور چیز ہونی چاہیے؛ دنیا کی خاطر ہمیں کسی کے احسان قبول نہیں کرنا چاہیے۔ یقین کریں ہمیں اور ہماری اولاد کو اللہ ہی رزق و روزی دیتاہے۔

پورے ایران میں اہل سنت کو مذہبی آزادی حاصل ہونی چاہیے
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان نے حکومتی ایکٹ ’برائے اصلاح مدارس اہل سنت‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم پہلے ہی اس غیرآئینی ایکٹ کو مسترد کرچکے ہیں جو اہل سنت والجماعت کی مذہبی و تعلیمی آزادی کے خلاف ہے؛ جن مدارس نے اس ایکٹ کو قبول کیا ہے اب انہیں متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ شیعہ علماء اپنے دینی مراکز کو حکومتی تحویل میں دینے کیلیے تیار نہیں لیکن وہ ہمارے مدارس کو حکومت کے کنٹرول میں دینے کیلیے سرگرم عمل ہیں۔ جس طرح وہ اپنے مذہبی مفادات سے دستبردار ہونے کیلیے تیار نہیں ہم بھی ایسا نہیں کریں گے۔ ہماری مساجد اور مدارس کے امور میں مداخلت آئین کی کھلی مخالفت ہے۔ پورے ملک میں ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہونی چاہیے جو عملا ایسا نہیں ہے؛ کیوں ہمارے لوگ سکیورٹی اداروں کے تعاقب کے خوف سے چھپ کر نماز قائم کریں اور انہیں جمعہ وعیدین کی ادائیگی کے ’الزام‘ میں پوچھ گچھ کی جاتی ہے؟ مذہبی آزادی ہمارے متفقہ حقوق کا لاینفک جزو ہے؛ مذہبی آزادی ہمارے نزدیک ہماری اولاد سے زیادہ اہم ہے۔

عوام کو قانونی طریقوں سے مطالبات پیش کرنے کی نصیحت کریں
ممتاز سنی عالم دین نے خطے کے علماء کو اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی برقرار رکھنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: بندہ آپ تمام حضرات کا شکرگزار ہے کہ الحمدللہ علماء متحد و یکسو ہیں۔ من بعد اپنے امور کو باہمی مشاورت سے آگے بڑھائیں۔ نیز علمائے کرام عوام کو یہی پیغام دیں کہ قانونی طریقوں سے اپنے مطالبات پیش کریں اور قانون کی خلاف ورزی مت کریں۔ ہمارا کوئی مطالبہ ماورائے آئین نہیں ہے؛ افسوس کا مقام ہے کہ بعض عناصر دعویٰ کررہے ہیں کہ اہل سنت کے مطالبات ’زیادہ طلبی‘ ہیں حالانکہ ہم زیادہ خواہی کو درست اقدام نہیں سمجھتے ہیں؛ ہم صرف اپنے قانونی حقوق چاہتے ہیں اور انصاف کے منتظر ہیں۔

مولانا عبدالحمید کے بیان کے بعد شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت کے عمومی ناظر مولانا محمد دہقان نے اپنی رپورٹ پیش کردی۔ میٹنگ میں مولانا حسین پور نے بعض تجاویز پر بھی ارکان کی رائے لے لی جبکہ تین نئے مدارس کو شورا کی رکنیت دی گئی۔

مذکورہ اجلاس کے شرکاء سے مفتی محمدقاسم قاسمی نے بھی خطاب کرتے ہوئے ناظرہ قرآن پڑھانے کے بہترین اسلوبوں کو بیان کیا۔

ضلع سرباز میں واقع ’منبع العلوم کوہ ون‘ کے شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ افروختہ نے مختصر کلمات میں کہا: اگر ہمارے مدارس دارالعلوم دیوبند کے اصولوں کے مطابق کام کریں تو بہت سارے مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے۔

بلوچستان کے ممتاز عالم دین مولانا نظرمحمد دیدگاہ نے اپنے خطاب میں سنی علمائے کرام کیلیے ’وہابی‘ کے لفظ کے استعمال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: ہم وہابی نہیں ’حنفی‘ ہیں۔ جو لوگ ہمیں وہابی کہتے ہیں وہ ہمیں نظرانداز اور منزوی کرنا چاہتے ہیں۔ سلفی حضرات غیرمقلد ہیں اور ہمارے ائمہ کو نہیں مانتے ہیں لیکن وہ مسلمان ہیں، بدعتی یا مشرک نہیں ہیں۔ ہم اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ دیوبند کا نام لیتے ہیں لیکن دیوبندی غیرت و ہمت سے عاری ہیں۔ دیوبندیوں نے یہودیوں اور انگریزوں سے لڑ کر ان کا مقابلہ کیا، بہت سارے شہید ہوئے اور انہیں پسِ دیوار زنداں ڈالا گیا۔

سیستان بلوچستان کے دینی مدارس کے مہتممین کا تیسرا مشورتی اجلاس حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی دعا سے اختتام پذیر ہوا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں