آج : 23 April , 2013

مشرف اور اتحادی سانحہ لال مسجد کے ذمہ دار ہیں: رپورٹ

مشرف اور اتحادی سانحہ لال مسجد کے ذمہ دار ہیں: رپورٹ

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی ‘لال مسجد’ میں فوجی آپریشن سے متعلق خصوصی کمیشن کی رپورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز اور ان کی کابینہ کو سانحہ لال مسجد کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آپریشن میں ذمہ داروں کے خلاف قتل کے مقدمات قائم کئے جائیں اور سابق حکمرانوں پر زور دیا جائے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کریں۔ سن 2007 میں لال مسجد میں مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف کئے گئے ملٹری آپریشن میں ایک سو تین افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس شہزادہ شیخ پر مشتمل کمیشن کی تین سو چار صفحات پر محیط رپورٹ میں سابق وزرائے اعظم چوہدری شجاعت حسین، شوکت عزیز، طارق عظیم اور اس وقت کی کابینہ کے ارکان نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو لال مسجد آپریشن کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق آپریشن سے پہلے ڈورن طیارے نے لال مسجد کی تصاویر لیں۔ آپریشن میں ٹرپل ون بریگیڈ سمیت منگلا سے بھی سیکورٹی فورسز نے حصہ لیا۔ 30 جولائی 2007ء کو مسلح افواج کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ریکارڈ سے واضح ہے کہ اقتدار کے حامل اتحادی پارٹنر، خصوصاً وزیرِ اعظم اور کابینہ (اس معاملے پر) حتمی طور پر اندھیرے میں نہیں تھی۔ رپورٹ میں درج ہے کہ اس افسوسناک واقعے کے چھے سال بعد بھی اس کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے تک لانے لاپرواہی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ صدر، وزیرِ اعظم، کابینہ اور خصوصاً وزیرِ داخلہ، متعلقہ وزرا اور سیاسی جماعتیں اس آپریشن سے آگاہ نہ تھیں۔ مفروضے کے طور پر اگر ایسا مان بھی لیا جائے تو بھی اس واقعے کے متعلق سیاسی لیڈرشپ کی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رپورٹ میں فوجی قیادت کو تقریبا کلین چٹ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں سے نمٹنے کیلئے اسلام آباد انتظامیہ نے فوج کو بلانے کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کئے۔ مسلح افواج کے رکن ہونے کی حیثیت سے، ہر فوجی پاکستانی آئین کی پاسداری کا عہد کرتا ہے اور رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا تھا۔
رپورٹ میں لال مسجد آپریشن کے دوران غلط اقدامات کے ازالے کے لئے چند فوری اور طویل المدتی اقدامات پر زور دیا گیا۔ فوری اقدامات کے ضمن میں کمیشن نے سفارش کی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو اسلامی شریعت کے لحاظ سے معاوضہ ادا کیا جائے۔ نیز آپریشن کے دوران معذور یا زخمی ہونے والے افراد کے علاج اور معاوضے کا انتظام بھی کیا جائے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ جس پلاٹ پر جامعہ حفصہ موجود تھی وہ دوبارہ انہی کے حوالے کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) پرانی جگہ پر جامعہ حفصہ کے لئے عمارت تعمیر کرسکتی ہے۔
طویل المدتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مدارس کے سلیبس کو وسعت دے کر ان میں جدید سائنسی علوم کو جگہ دی جائے، مدارس میں میرٹ پر مبنی امتحانی نظام وضع کیا جائے، اسے قومی نظام (تعلیم) سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ دیگر اداروں کی طرح ان کی سند بھی تعلیمی نظام کے ہم پلہ قرار دیا جا سکے

العربیہ ڈاٹ نیٹ


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں