آج : 20 April , 2013

اگر ٹرائل کرنا ہے تو 1999 سے شروع کریں

اگر ٹرائل کرنا ہے تو 1999 سے شروع کریں

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سابق فوجی حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر کے ایک ایسی روایت قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس کی پاکستان میں پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی راولپنڈی سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر متعد بار انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں اور وکلا کی تحریک میں انتہائی سرگرم تھے۔ انہوں نے پرویز مشرف کو ججوں کو حبس بے جا میں رکھنے کے مقدمے میں گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے جسے پولیس نے بادل نخواستہ مان لیا اور انہیں پولیس ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا ہے۔
پرویز مشرف نے جب سے پاکستان میں قدم رکھا ملک میں ایک بھونچال آ گیا ہے اور انہیں لال مسجد آپریشن اور سردار اکبر بگٹی کے قتل کے مقدمے میں جیل بھیجنے کے مطالبے سامنے آ رہے ہیں۔
جب بارہ اکتوبر انیس ننانوے میں جنرل پرویز مشرف کا طیارہ ہوا میں معلق تھا اور اسے کراچی کی بجائے نوابشاہ بھیجنے کے احکامات جاری ہوئے تو پاکستان میں فوجی جرنیلوں کے ایک گروہ نے سویلین حکومت کی بساط لپیٹ دی۔ اس کے بعد ہمیشہ کی طرف سپریم کورٹ نے ان کے اقتدار پر قانونی لبادہ اوڑھا دیا۔
لال مسجد آپریشن جنرل مشرف کے اقتدار پر قبضے کے نو سال بعد ہوا جب اسلام آباد کی مسجد میں جمع سینکڑوں مسلح افراد کو وہاں سے نکالنے کا حکم دیا گیا۔
مسلح افراد کا یہ گروہ اسلام آباد پر اپنا تسلط جما رہا تھا اور وہاں سے ہر روز جھتے اسلام آباد کے مختلف حصوں میں ’فحاشی‘ کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں کرتے تھے۔
لال مسجد کے آپریشن میں سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے جس میں کرنل طارق اسلام سمیت پچیس کے قریب سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔
پرویز مشرف پر اگر کوئی مقدمہ بننا ہے تو یہ کہ انہوں نے لال مسجد آپریشن میں اتنی دیر کیوں کی اور وہاں لوگوں کو اسلحہ سمیت جمع کیوں ہونے دیا۔
کچھ لوگ پرویز مشرف کے خلاف تین نومبر کو آئین کو معطل کرنے کے جرم میں آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تین نومبر دو ہزار سات کو جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے جو کچھ کیا وہ انتہائی گھناؤنا تھا۔ انہوں نے اس ٹوٹے پھوٹے آئین کو پھر معطل کر دیا جس کی انہوں نے اپنی ضرورت کےتحت تراش خراش کی تھی۔ لیکن پرویز مشرف نے دو ہزار سات سے پہلے بھی تو ایک آئین کو توڑا اور ایک منتخب وزیراعظم کو گرفتار کیا تھا۔
آئین توڑنے سے پہلے جنرل مشرف نے پاکستان سے بھارت کے ساتھ امن کا سنہری موقع بھی چھین لیا تھا۔
بھارت کی دائیں بازو کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے پہلے انتخابات میں فتح حاصل کر کے اپنے رہنما اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو بس پر بٹھا کر لاہور روانہ کیا۔ اٹل بہاری نے لاہور میں مینارِ پاکستان کے سائے میں کھڑے ہو کر اعتراف کیا کہ پاکستان بن چکا ہے اور پاکستان ایک حقیقت ہے۔
جب بھارتی وزیر اعظم لاہور میں پاکستانی وزیراعظم کو 2009 میں مسئلہ کشمیر حل کا عندیہ دے رہے تھے تو اس وقت جنرل پرویز مشرف نے چند جرنیلوں کے ساتھ مل کر سیاچن کا بدلہ لینے کی ٹھانی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بقول حکومت کی اجازت کے بغیر ہی فوج گارگل کی پہاڑیوں پر چڑھ گئی تھی اور ملک کو ایک جنگ میں دھکیل دیا جس میں مبینہ طور پر اتنے فوجی مارے گئے جتنے انیس میں پینسٹھ کی جنگ میں بھی ہلاک نہیں ہوئے تھے۔
اگر پاکستان کی عدلیہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کا ٹرائل کرنے پر کمربستہ ہے تو ان کا ٹرائل2007 کے واقعات سے نہیں بلکہ سنہ انیس سو ننانوے سے شروع کیا جانا چاہیے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ کارگل آپریشن کی انکوائری ہونی چاہیے۔

رفاقت علی
بی بی سی اردو


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں