کراچی،دوماہ میں 465افرادزندگی،4500 گاڑیوں سےمحروم

کراچی،دوماہ میں 465افرادزندگی،4500 گاڑیوں سےمحروم

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری مرکز کراچی میں تعینات 32ہزار پولیس اہلکاروں میں سے صرف 8 ہزار اہلکار عوام کی حفاطت پر مامور ہیں شاہد یہی وجہ ہے کہ سال 2013ء کے63 دنوں میں جہاں 465 لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا وہیں راہزنوں نے 4500 سے زائد افراد کو  گاڑیوں سے بھی محروم کردیا ۔
سی پی ایل سی  کے اعداد شمار کے مطابق سال 2013ء کے گزشتہ 63 دنوں میں 465 افراد کو قتل کیا گیا 785 افراد سے گاڑیاں چھینی گئیں 3706 افراد سے موٹر سائکل اور 3667 افراد کو موبائل فون سے محروم کیا گیا۔
رواں سال کے پہلے مہینے جنوری میں ٹارگٹ کلرز نے 249 افراد کو موت کی نیند سلادیا،423 افراد کو کاروں سے محروم کیا گیا 1937افراد سے موٹر سائیکلیں چھین لی گئیں جب کہ 2032 افراد سے رہزنوں نے موبائل فون  فونز لوٹ لیے۔
سال رواں کے دوسرے ماہ فروری میں 193افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی،کلنگ کے سب سے زیادہ واقعات کراچی  پولیس کے زون ویسٹ میں پیش آئے،353 افراد سے گاڑیاں چھینی گئیں 1769 افراد سے موٹر سائکل اور 1542افراد کو موبائل فون سے محروم کردیا گیا۔
رواں ماہ کے 2دنوں کے دوران 23 افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی 32افراد سے گاڑیاں اور 93 افراد سے موبائل فونز چھین لیے گئے۔
سی پی ایل سی کے دوماہ کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو شہر میں موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں موبائل فون چھیننے کی وارداتوں سے زیادہ پیش آئیں۔
سی پی ایل سی چیف احمد چنائے کے مطابق جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی وجہ پولیس کی نفری میں کمی ہے شہر میں 32 ہزار پولیس اہلکاروں میں سے صرف 8 ہزاراہلکار تھانوں میں تعینات ہیں بقیہ تمام اہلکار وی آئی پیز کی سیکورٹی پر مامور ہیں۔

دی نیوز ٹرائب


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں