چھے دہائیوں میں پہلی مرتبہ قفلِ خانہ کعبہ کی تبدیلی

چھے دہائیوں میں پہلی مرتبہ قفلِ خانہ کعبہ کی تبدیلی

سعودی حکومت نے 60 سال بعد خانہ کعبہ کے مرکزی دروازے کا اندرونی قفل پہلی مربتہ تبدیل کیا ہے۔ خانہ کعبہ کا قفل امیر مکہ معظمہ شہزادہ خالد الفیصل نے اپنے ہاتھوں سے تبدیل کیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تالے کی تبدیلی سے قبل شہزادہ الفیصل نے کعبہ شریف کو غسل دیا۔ بعد ازاں قفل کی تبدیلی کی تقریب ہوئی اور پہلے سے موجود تالہ نکال کر اس کی جگہ ایک نیا سنہری تالہ لگایا گیا۔ تالے کی تیاری پر آنے والے تمام اخراجات خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود نے اپنی جیب سے ادا کیے۔

رپورٹ کے مطابق خانہ کعبہ کو غسل دینے کی تقریب میں مسجد حرام کے امور کی نگراں کمیٹٰی کے چیئرمین الشیخ عبدالرحمان السدیس، مسلم ملکوں کے سفراء اور اہم حکومتی شخصیات موجود تھیں۔ خیال رہے کہ خانہ کعبہ کو سال میں دو مرتبہ عطر اور آب زم زم سے غسل دیا جاتا ہے اور سال میں ایک مربتہ اس کا غلاف تبدیل ہوتا ہے۔

الحرمین الشریفین کے لیے خدمات فراہم کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف الوابل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خانہ خدا کو سال میں دو مرتبہ غسل دیا جاتا ہے۔ پہلا غسل اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم الحرام کی پندرہ کو جبکہ دوسرا یکم شعبان کو دیا جاتا ہے۔ یہ وہ ایام ہوتے ہیں جن میں خانہ کعبہ میں زائرین اور معتمرین کا زیادہ اژدہام نہیں ہوتا اور غسل کے حوالے سے یہ موزوں اوقات سمجھے جاتے ہیں۔

خانہ کعبہ کی طرح خدا کے اس مقدس گھر سے نسبت رکھنے والی دیگر تمام معمولی چیزوں کو بھی غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ ان میں خانہ کعبہ کی کنجی بھی شامل ہے۔ کعبہ شریف کی کُنجی 1400 سال سے مکہ مکرمہ کے معروف آل شیبی قبیلے کے پاس بطور امانت رکھی گئی ہے۔ اسلامی تاریخی کتب میں صرف ایک واقعہ ملتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی دور میں آل شیبی سے خانہ کعبہ کی کلید چوری کی گئی تھی لیکن اسے دوبارہ حاصل کر لیا گیا تھا۔ یہ امانت آج کل آل الشیبی کے السدنہ خاندان کے پاس ہے۔

قفل و کلید کعبہ کی تاریخ
ایک روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت عثمان بن طلحہ کے دادا کو خانہ کعبہ کی چابی عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’اے بنی طلحہ! یہ (چابی) اللہ تعالیٰ کی جانب سے امانت ہے اپنے پاس رکھو۔ یہ امانت (کلید) ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی اور آپ سے اسے چھیننے والا ظالم ہو گا‘‘۔

الشیبی خاندان کے موجودہ سربراہ عبدالقادر الشیبی نے خانہ کعبہ کی کنجی کی حفاظت کے بارے میں بتایا کہ ’’ کلید کعبہ کو خانہ کعبہ کے غلاف کے کپڑے سے بنی ایک سنہری تھیلی میں نہایت محفوظ مقام پر رکھا گیا ہے، جہاں سے اس کے گم ہونے کا کوئی احتمال نہیں ہے‘‘۔

تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان خلفاء، سلاطین، دور عباسی، ممالیک اور خلافت عثمانیہ کے ادوار میں خانہ کعبہ کی کنجی یکے بعد دیگرے ایک سے دوسری حکومت کو سپرد کی جاتی رہی ہے، تاہم اس کی اصل ملکیت صرف الشیبی خاندان ہی کے پاس رہی۔

خانہ کعبہ کے درو دیوارکی طرح کے اس کے قفل اور کنجیوں پر بھی خوبصورت عربی خطاطی میں آیات سے نقش و نگاری کی جاتی رہی ہے۔ الحرمین الشریفین کی وسعت کے دوران اس کے دروازوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور ہر دروازے کا تالا اور اس کی کنجیاں تیار کی گئیں۔ یہ تالے لوہے سے تیار کی جاتے۔ خانہ کعبہ کے آخری دروازے کا تالا اور اس کی کنجی خلافت عثمانیہ کے دور میں 1309 ھ میں تیاری کیے گئے، شاہ خالد بن عبدالعزیز آل سعود مرحوم کے حکم پر 1398ھ میں خانہ کعبہ کے مرکزی دروازے کا تالا تبدیل کیا گیا۔ حال ہی میں غسل کعبہ کے بعد اسی تالے کی جگہ ایک سنہری قفل لگایا گیا۔

صاحب ثروقت لوگ خانہ کعبہ کی پرانی چابیوں اور اس کے تالوں کو بھاری رقوم کے عوض خرید کرتے اور انہیں تبرک کے طور پر اپنے گھروں میں رکھتے رہے ہیں۔ کعبۃ اللہ کے ایک پرانے تالے اور اس کی چابی کی عام نیلامی کی گئی جو تقریبا 18ملین ڈالرسے زیادہ کی رقم میں فروخت ہوئے تھے۔ اسلامی تاریخ میں مقدسات سے متعلقہ کسی چیز کی یہ سب سے بڑی رقم قرار دی جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق خانہ کعبہ کی مجموعی طور پر 58 پرانی کنجیاں آج بھی دستیاب ہیں جو مختلف عجائب گھروں میں رکھی گئی ہیں۔ ان میں 54 چابیاں ترکی کے شہر استنبول کے ’’توپ کاپی‘‘ میوزیم میں ہیں، دو چابیاں فرانس کے نہاد السعید میوزیم میں جبکہ ایک قاہرہ کے ایک عجائب خانے میں ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں