اور دنیا چپ ہے…!

اور دنیا چپ ہے…!

میں پھر عجز قلم کا شکار ہوں۔ خیالات بکھرے ہوئے ہیں، دل میں ایک تلاطم سا ہے اور لفظ سجھائی نہیں دے رہے۔


میرے سامنے متحدہ عرب امارات کے معروف اخبار گلف نیوز کا پہلا صفحہ کھلا ہوا ہے۔ اوپر کے پورے نصف صفحے پر ایک بڑی سی تصویر ہے، تصویر میں چار معصوم بچوں کی لاشیں پڑی ہیں۔
دو لڑکے ہیں دو لڑکیاں چاروں کی عمریں چھ اور دس سال کے درمیان ہوں گی۔ چاروں نے سردیوں سے بچنے کے لئے رنگین سوئیٹر پہن رکھے ہیں۔ دو کی آنکھیں نیم وا ہیں اور دو کی بند۔ ان کے گورے بازوؤں اور سفید رنگ چہروں پر خون کے بڑے بڑے دھبے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ایک بچی نے اپنے سے کم عمر بچی کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ رکھا ہے۔
چاروں کے چہرے ذرا ذرا سے دائیں سمت کو مڑے ہوئے ہیں۔ تصویر کے ایک کونے میں بڑے بڑے حروف میں لکھا ہے ”بربریت: اسرایل فلسطینی بچوں کو قتل کررہا ہے اور دنیا تماشا دیکھ رہی ہے“۔

یہ گزشتہ روز غزہ پر اسرائیلی بمباری سے شہید ہوجانے والے نو بچوں میں سے چار کی لاشیں ہیں۔ اس حملے میں پانچ خواتین بھی نشانہ بنیں۔ چھ دنوں سے جاری اسرائیلی بمباری کا یہ سب سے خونیں دن تھا جب 23فلسطینی درندگی کا لقمہ ہوگئے۔
تصویر ایک ہی خاندان کے چار بچوں کی ہے جو غالباً بہن بھائی ہیں۔ پانچ دنوں میں 69فلسطینی شہادت سے ہمکنار ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بڑے فخر سے اپنی کابینہ کو بتایا کہ اب تک غزہ کی پٹی پر ایک ہزار سے زائد فضائی حملے کئے جاچکے ہیں اور یہ یلغار جاری رہے گی۔
اس نے اعلان کیا کہ ”ستون دفاع “ نامی آپریشن کو توسیع دینے کے لئے ایک بڑے زمینی حملے کا آغاز کیا جارہا ہے۔
پچہتر ہزار فوجیوں کو متحرک کردیا گیا ہے اور ٹینک سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

ہفتہ بھر قبل حماس کے صف اول کے ایک کمانڈر احمد الجابری اسرائیلی میزائل کا نشانہ بنے۔ یہ برسوں سے جاری نشانہ کشی کی وہ مہم ہے جس نے فلسطینی قیادت کے درجنوں سرکردہ رہنما ہڑپ کر لئے۔ احمد الجابری کی شہادت سے غزہ میں زبردست اشتعال اٹھا۔
2005ء کے بعد سے غزہ پر حماس کی حکومت ہے جو انتخابی عمل کے ذریعے قائم ہوئی لیکن امریکہ صرف اس جمہوریت کو برحق مانتا ہے جس کے بطن سے اس کے چہیتے جنم لیں۔ حماس فلسطینی عوام کی نمائندہ ہونے کے باوجود قابل قبول نہیں۔

الجابری کی شہادت کے ردعمل میں غزہ سے اسرائیلی علاقے پر راکٹ داغے گئے۔ اسرائیل کی روایتی خونخواری کو ایک جواز مل گیا۔ ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کے ذریعے غزہ پہ بمباری شروع ہوگئی۔
اب تک اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد چار یا پانچ تک محدود ہے لیکن غزہ کو جہنم بنادیا گیا ہے۔
صابرہ اور شتیلہ کے کیمپوں کو بھول جائیے۔1982ء میں لبنان پر یلغار ہوئی تو سترہ ہزار لبنانی قتل کردیئے گئے۔ 2008ء کی جارحیت میں بارہ سو مزید لبنانی شہری جاں بحق ہوگئے۔
چار برس قبل غزہ پر اسی طرح کی یلغار میں تیرہ سو سے زائد معصوم فلسطینی شہید کردیئے گئے۔ مسلمانوں کا لہو ارزاں ہوتا ہے۔ مسلمان ہونے کے ناتے ان کی زندگیاں زیادہ قیمت نہیں رکھتیں اور ان کی لاشوں کے اعداد وشمار کا کوئی معتبر پیمانہ بھی ابھی تک ایجاد نہیں ہوسکا۔
کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اب تک ارض فلسطین کے کتنے شہری اسرائیل کی انسانیت سوز مہمات کا لقمہ ہوچکے ہیں۔ کتنے ہی معاہدے ہوئے، کتنی ہی قراردادیں آئیں، کتنے ہی اعلامیے جاری ہوئے لیکن اسرائیل کی رعونت میں بال برابر کمی نہ آئی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی درندگی کے دانت تیز ہوتے گئے۔

اس کی وجہ کیا ہے؟ دنیا کو جمہوریت، شرف انسانیت، بنیادی انسانی حقوق اور تہذیبی اقدار کا درس دینے والی ان اقوام کی مکروہ منافقت جو روز اول سے اسرائیل کی پشت پر کھڑی ہیں اور جو آج بھی اسے تھپکی دے رہی ہیں۔ بارک اوباما نے تھائی لینڈ کے دورے کے دوران ایک بار پھر کہا کہ ”اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے“۔
برطانیہ نے بھی اپنے اس موقف کو دہرایا۔
مان لیجئے کہ مشرق وسطیٰ کے بطن میں ایک بڑی سازش کے تحت بو دیئے جانے جانے والے اس ناسور کو اپنا وجود برقرار رکھنے اور اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے لیکن کیا انہیں بھی زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل ہے یا نہیں جن کی ستر فیصد زمین پر قبضہ کرکے ایک کونے میں دھکیل دیا گیا؟ کیا امریکہ، برطانیہ اور یورپی اقوام نہیں دیکھ رہیں کہ طے شدہ معاہدوں سے انحراف کرتے ہوئے اسرائیل نے آج بھی کس طرح فلسطینی علاقوں کو اپنے تسلط میں لے رکھا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ان کی حقوق کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق غزہ آج بھی اسرائیل کی مقبوضہ سرزمین ہے۔
لیکن کسی سے کیا گلہ! جب خود ہمارے پیکر خاکی میں جاں نہیں رہی ، جب سوا ارب سے زائد مسلمان، علامہ اقبال کے الفاظ میں راکھ کے ڈھیر ہوچکے ہیں، جب ہماری جمہوریتیں، آمریتیں اور ملوکیتیں، سب کی سب کنیزان حرم کی طرح وائٹ ہاؤس میں سرخمیدہ کھڑی ہیں تو تقدیر کا قاضی ہمیں جرم ضعیفی کی سزا سے کیوں بچائے گا؟ ذرا تصور کیجئے۔
تقریباً اکیس ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل اسرائیل جس کی آبادی ساٹھ لاکھ سے کچھ ہی اوپر ہے چار اسلامی ملکوں میں گھرا ہوا ہے، مصر، اردن، شام اور لبنان کا مجموعی رقبہ 13لاکھ مربع کلو میٹر کے لگ بھگ ہے۔
ان کی آبادی 12کروڑ کو چھو رہی ہے لیکن ان کے بیچوں بیچ ایک مٹھی بھر ریاست انہیں تگنی کا ناچ نچا رہی ہے۔
ستاون اسلامی ممالک کی حکومتیں اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے بھی ملائم لفظوں کے انتخاب میں کھوئی رہتی ہیں۔ عرب لیگ اور اسلامی کانفرنسیں قبروں کے مجاور ہوکر رہ گئی ہیں۔

ہمارے ہاں کے جلسے جلوس بھی کسی زخم کی چارہ گری نہیں کرسکیں گے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں جان بچانے والی اور بنیادی ضرورت کی ادویات کی شدید کمی ہوگئی ہے۔ سرنجیں اور مرہم پٹی کی اشیاء تو ختم ہوچکی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اکیس مراکز میں سے گیارہ بند ہوگئے ہیں۔ ایک کروڑ ڈالر کی ادویات کی اپیل کی گئی ہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں مہمیں نعروں کا خروش دکھانے کے بجائے اہل فلسطین کی ٹھوس مدد کی سبیل کرنی چاہئے۔
اسلام آباد میں فلسطینی سفارت خانے سے رابطہ کرکے معلوم کیا جانا چاہئے جبکہ کس طرح کی فوری امداد درکار ہے اور اس کی کیا صورت ممکن ہے؟ ہماری حکومت کو بھی اس ضمن میں متحرک ہونا چاہئے۔
سفارتی سطح پر بھی مصر، ایران اور ترکی جیسے ممالک سے رابطہ رکھتے ہوئے ایک واضح موقف اپنانا چاہئے۔
اخبار کے صفحہ اول پہ بڑی سی رنگین تصویر اور چار معصوم بچوں کی لاشیں، میرے اعصاب میں چنگاریاں سی بھر رہی ہیں لیکن دنیا گنگ ہے۔ شاید اس لئے کہ وہ طالبان کی گولیوں کا نہیں، اسرائیلی میزائل کا نشانہ بنے ہیں جو عالمی گروہ قاتلاں کو بڑا عزیز ہے۔

عرفان صدیقی
جنگ نیوز


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں