مالی: مذہبی تنظیم کا فوجی مداخلت کے سنگین مضمرات پر انبتاہ

مالی: مذہبی تنظیم کا فوجی مداخلت کے سنگین مضمرات پر انبتاہ

مالی میں سرگرم شدت پسند مذہبی جماعت ‘انصار الدین’ نے ملک میں فوجی مداخلت کے سنگین نتائج پر سخت انتباہ کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان سند ولد ابو عمامہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اور القاعدہ سے وابستہ تحریک توحید والجہاد میں جوہری فرق ہے۔ گو کہ القاعدہ کے بھی اصول اسلامی ہیں لیکن انصار الدین اور القاعدہ کے طریقہ کار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

مالی کی اس جہادی تنظیم کے ترجمان ابو عمامہ نے ان خیالات کا اظہار ‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’ کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں کیا۔ مالی میں فوجی مداخلت روکنے کےلیے الجزائر اور مغربی افریقی ملک بورکینا فاسو سے مذاکرات کے لیے وفود ارسال کرنے کے بارے میں ابو عمامہ نے کہا کہ ‘ہم نے الجزائر اور بورکینافاسو سے مذاکرات کے لیے اپنے وفود ارسال کیے ہیں۔ ہم نے مسئلے کا حل بھی تجویز کیا ہے۔ مالی میں داخلی شورش کا حل فوجی مداخلت نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ فی الحال ہم نے اپنی تجاویز اور بات چیت کے فارمولےکو میڈیا کی نظروں سے دور رکھنے کا بھی فیصلہ کی اہے کیونکہ ذرائع ابلاغ معاملے کو بگاڑ سکتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ انصار الدین کے مذاکراتی وفود نے دونوں ملکوں میں سفارتی بات چیت کی ہے۔ ہمارے مذاکرات کا مرکزی نقطہ مالی میں ممکنہ فوج کشی اور کوئی نئی جنگ شروع کرنے سے روکنا ہے۔ ہم نے یہ وفود ایک ایسے وقت میں پڑوسی ملکوں میں بھیجے ہیں تاکہ اپنے موقف سے بھی انہیں آگاہ کر سکیں کیونکہ الجزائر مالی میں فوجی مداخلت کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی الجزائر کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے الجیرین صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ سے ملاقات میں یہ عندیہ دیا تھا کہ مالی میں کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں صدر بوتفلیقہ کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہو گا۔ الجزائر اگر مالی میں فوجی مداخلت کی مخالت کرے تو ملک میں فوج کشی کو روکا جا سکتا ہے۔

مالی کے شمال میں واقع ازواد نامی صحرائی علاقے کے لوگوں کے مطالبات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انصار الدین کے ترجمان نے کہا کہ ‘صحارا ازواد کے باشندوں کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں بھی ملک کے درجہ اول کے شہریوں کی حیثیت دی جائے۔ ازواد کے باشندے اپنے علاقائی اور قومی تشخص کے مطابق احترام چاہتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں فرانس اور امریکا کی طرح نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کے خواہاں ہیں’۔

بیرونی فوجی مداخلت کے بارے میں پوچھے سوال کے جواب میں انصار الدین کے رہنما نے فرانس کو کڑی تنقید کانشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فرانسیسی مداخلت مالی کے لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ پیرس نے سنہ 1963ء سے ہمارے ملک میں مداخلت شروع کی۔ وہی یہاں پر شورش کو بھی ہوا دیتا ہے اور پھر فوجی مداخلت کے ذریعے ہمارے ملک کو کمزور کرنے کی بھی سازش کر رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم نے مالی کی حکومتوں اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ کئی بار ماضی میں بات چیت کی کوششیں کیں لیکن فرانس نے ان کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ ابو عمامہ نے خبردار کیا کہ مالی میں مسئلے کا فوجی حل تلاش کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ مالی سمیت پڑوسی ملک بھی اس کے سخت مضمرات سے نہیں بچ سکیں گے۔

 

القاعدہ سے اختلاف
انصار الدین کے ترجمان سند ولد ابو عمامہ نے اپنی تنظیم اور شدت پسند تنظیم القاعدہ کے درمیان مماثلت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی اصولوں کے اعتبار سے دونوں جماعتیں یکساں نظریات کی حامل ہیں لیکن طریقہ کار میں جوہری فرق ہے۔

مال میں سرگرم القاعدہ کی ذیلی تنظیم تحریک توحید والجہاد سرحد پار بھی عسکری کارروائیوں پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہماری جماعت ایک علاقائی گروہ ہے۔ اس کے بنیادی اصول بھی اسلامی ہیں لیکن ہم مالی کے عوام کے حقوق کے حصول کے لیے لڑ رہے ہیں اور توحید والجہاد اسلامی خلافت کے احیاء کے لیے جدو جہد کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے دورہ الجزائر کے بعد یہ خبریں بھی گردش کرنے لگی تھیں کہ امریکا، افریقہ کے اپنے دوست ملکوں کی مدد سے مالی میں اسلامی شدت پسند تنظیموں کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ انہی خبروں کے جلو میں مالی کی ایک مقامی مذہبی تنظیم انصار الدین نے ممکنہ فوجی کارروائی کی روک تھام کے لیے الجزائر اور دوسرے ملکوں میں اپنے وفود بھیجے ہیں۔ تاکہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔

دبئی ۔ رمضان بلعمری
العربیہ ڈاٹ نیٹ


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں