آج : 18 October , 2012

النادی العربی کے حوالے سے دینی مدارس کے نمائندوں کامشاورتی اجلاس

النادی العربی کے حوالے سے دینی مدارس کے نمائندوں کامشاورتی اجلاس

صوبہ سیستان بلوچستان کے دینی مدارس میں “النادی العربی” کی بہتر کارکردگی پر مشاورتی اجلاس دارالعلوم زاہدان کی لائبریری میں منعقد ہوا جس میں صوبے کے مختلف مدارس کے نمائندوں نے شرکت کی۔

“النادی العربی” کے قیام کا بنیادی مقصد طلبہ کی علمی سطح کی ترقی، عربی زبان میں انہیں بول چال، مقالہ نویسی اور تقریر کرنے کی تربیت فراہم کرنا ہے۔ مشاورتی اجلاس کے بعد دارالعلوم زاہدان میں “النادی العربی” کی افتتاحی تقریب سترہ اکتوبر کو جامعہ کے احاطہ میں واقع جامع مسجدمکی میں منعقد ہوئی ۔

’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق مشاورتی اجلاس کا آغاز ’’سنی آن لائن ‘‘ عربی سیکشن کے نمائندے کے خطاب سے ہوا ۔ انہوں نے ویب سائیٹ کے شعبہ عربی کے قیام کی وجوہات اور سرگرمیوں کے حوالے سے عربی زبان میں اپنا خطاب پیش کیا۔

اس کے بعدجامعہ کے القسم العربی کے استاذ مولوی حبیب اللہ مرجانی نے مسلمانوں کے درمیان عربی زبان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا: الحمدللہ ’النادی العربی‘ کے قیام سے لیکر اب تک متعدد مدارس میں عربی بول چال عام ہوچکاہے۔

دارالعلوم زاہدان میں ’’معہد اللغۃ العربیۃ والدراسات الاسلامیۃ‘‘ کے قیام کو النادی العربی کے نتائج و خدمات سے شمار کرتے ہوئے مولوی مرجانی نے کہا: ان شاندار کارکردگیوں اور مثبت نتائج کے باوجود اس میدان میں وسیع تر سرگرمیوں کی ضرورت ہے تاکہ عربی ادب ومکالمہ میں زیادہ کام ہوجائے۔

تقریب کے اگلے مقرر نائب صدر دارالافتاء دارالعلوم زاہدان ’مفتی عبدالقادر عارفی‘ تھے ۔ مفتی عارفی نے شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ان جیسی تقاریب کے انعقاد کا مقصداہل علم کی درمیان ہم آہنگی و یکجہتی پیدا کرنا ہے تاکہ ایک دوسرے کی آراء و تجربوں سے فائدہ اٹھا کر دینی مدارس کے طلبہ کی عربی بول چال کو پروان چڑھائیں۔

النادی العربی دارالعلوم زاہدان کے سرپرست نے دینی مدارس میں طلبہ کی عربی زبان کے حوالے سے سستی دکھانے اور لائحہ عمل کے نہ ہونے پر افسوس کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا: یہ سوچ کہ اسلامی معاشروں میں صرف بڑے مدارس نے اہم اور کلیدی کردار ادا کیاہے اور دینی و ادبی خدمات سرانجام دیے ہیں ایک غلط فہمی ہے۔ معاصر اور سابق ادوار کے متعدد ممتاز علمائے کرام کا تعلق چھوٹے مدارس سے تھا۔ اس لیے مایوس نہیں ہونا چاہیے اور تمام ممکن اور میسر ذرائع کو طلبہ کی بہتر تربیت کیلیے بروئے کار لانا چاہیے۔
اپنے خطاب کے آخر میں سرپرست ’النادی العربی‘ نے حاضرین سے درخواست کی اپنے مشوروں، تجاویز اور شکایات کو زبانی یا تحریری طور پر انجمن کے علم میں لائیں تاکہ ان سے استفادہ کیاجائے۔

مشاورتی اجلاس کے آخری مقرر مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی دامت برکاتہم تھے جنہوں نے شرکائے تقریب کے خطابوں اور تجاویز پر خوشی اور امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا: کوئی بھی زندہ زبان زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ تبدیل و تغیر کا شکار ہوتی ہے۔ ایسی تبدیلیوں کو کوئی بھی زبان سیکھتے ہوئے مدنظر رکھنا چاہیے اور ان سے آگاہی حاصل کرنے کیلیے اہل زبان کے روزمرہ محاوروں اور بول چال کا مطالعہ ضروری ہے۔

عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے صدر دارالافتا دارالعلوم زاہدان کا کہنا تھا: آج کل جدید ذرائع مثلا ریڈیو، انٹرنیٹ، اخبارات وغیرہ نے عرب ممالک کے دورے سے آپ کو بے نیاز کیاہے۔ کہیں بھی آپ ان ذرائع کی مدد سے معاصر عربی سے تعلق قائم کرسکتے ہیں۔

مفتی قاسمی نے مزیدکہا: طلبہ مختلف یونیورسٹیوں کے شعبہ عربی سے تعلقات قائم کرکے اپنی عربی اپ ڈیٹ کرسکتے ہیں، نیز ملکی و غیرملکی عربی اخبارات اور ویب سائٹس میں اپنے عربی مضامین و کالمز شائع کرواکے آپ ترقی حاصل کرسکتے ہیں۔ عربی زبان سے تعلق جاری رکھنے کیلیے عربی کتابوں اور اخبارات کا مطالعہ کریں جو معاصر عربی پر آپ کو رسائی فراہم کرتے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں