’کرمان‘ تاریخ کے آئینے میں

’کرمان‘ تاریخ کے آئینے میں

کرمان شہر کا شمار ایران کے پرانے عہد کے پانچ انتہائی اہم شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ تاریخی شہر ایران کے جنوب مشرق میں واقع ہے جو صوبہ کرمان کا صدرمقام بھی ہے۔ ملک کے جنوب مشرق میں سب سے بڑا اور ترقی یافتہ شہر کرمان ہے۔
اس شہر کی آبادی دوہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق چھ لاکھ اکیس ہزار سے زائد تھی۔ اس شہر کی شہرت اس کی شاندار تاریخ، ثقافتی پس منظر اور تاریخی مقامات کی وجہ سے ہے جہاں متعدد مساجد اور پارسیوں کی عبادتگاہیں موجود ہیں۔

’کرمان‘ ایران کی تاریخ میں:
پرانے دور میں جب ایران ایک عریض و طویل خطے پر مشتمل علاقے کا نام تھا، اس کے پانچ بڑے شہر تھے جن میں ایک ’کرمان‘ تھا۔ تاریخ دانوں اور جغرافی دانوں نے اس شہر کے کچھ اور نام بھی بتائے ہیں جیسا کہ ’کارمانیا‘، ’ژرمانیا‘، ’کرمانیا‘، ’کریمان‘، ’کارمانی‘ اور ’بوتیا‘۔
کرمان کو کیوں ’کرمان‘ کہاجاتاہے؟ اس بارے میں ’ابن کلبی‘ لکھتے ہیں: کرمان ’فلوج‘ کا بیٹا تھا جو حضرت نوح علیہ السلام کے پوتے تھے۔ جبکہ بعض کا خیال ہے ’کرمان‘ فرک بن سام بن نوح علیہ السلام کے بیٹے تھے جنہوں نے زبانوں کی کثرت کے بعد اس علاقے کو اپنا مسکن بنایا۔ شہر کا نام بھی انہی کے نام سے منسوب ہے۔

کرمان اسلامی فتح کے بعد:
مسلمان مورخین نے تصریح کی ہے کہ کرمان، اصفہان، سیستان اور مکران (بلوچستان) سنہ 23 ہجری (644ء) میں فتح ہوئے۔ کرمان اور اردگرد کے علاقوں کو عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان اور سہیل بن عدی نے فتح کیا۔
’المدائنی‘ نے لکھا ہے کہ عبداللہ بن بدیل بن ورقاء خزاعی نے خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب کے دور خلافت میں کرمان کو فتح کیا۔ بلاذری نے کہا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر ’ابن عامر‘ نے فارس کا رخ کیا؛ اس نے مجاشع بن مسعود سلمی کو ’یزدگرد‘ کی تلاش میں کرمان روانہ کردیا۔ مجاشع نے سیرجان کو محاصرہ کرکے بعد میں اسے فتح کیا۔ انہوں نے ’بم‘ اور ’جیرفت‘ کو بھی کرمان کے بعد اسلامی خلافت کا حصہ بنایا۔

مسجدوں کا شہر کرمان:
اسلامی فتح کے بعد کرمان اسلامی مشرقی علاقوں میں ایک علمی اور متمدن شہر بن گیا؛ کئی حکومتوں نے اس شہر کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ آٹھویں ہجری صدی میں ’آل مظفر‘ نے کرمان کو اپنی حکومت کا مرکز بنایا۔ ترک سلجوقی حکام نے یہاں ڈیرہ ڈال کر کئی باطل فرقوں کا مقابلہ کیا جن میں باطنیہ شامل ہے۔
کرمان میں متعدد مساجد و مدارس موجود تھے؛ دیگر بڑے شہروں (نیشابور، شیراز اور اصفہان) کی طرح یہ شہر بھی اہل سنت کے اہم دینی و علمی مرکز بن چکا تھا۔ متعدد عظیم اور عبقری شخصیات کی علمی پرورش اسی شہر میں ہوئی جنہوں نے عالم اسلام کو قابل قدر خدمات سے نوازا۔

کرمان کی بعض مشہور اور اب تک محفوظ تاریخی مساجد میں سے بعض کا نام درج ذیل ہے:

مسجدجامع:
اس مسجد کی بنیاد انتہاپسند فرقہ پرست صفویوں کی یلغار سے ڈیڑھ سو سال قبل رکھی گئی۔ ’مسجد جامع مظفری‘ کے نام سے معروف اس مسجد پر ’آقامحمدخان قاجار‘ نے حملہ کیا تھا جس کے بعض حصے مسمار ہوئے۔ جامع مسجد مظفری اسلامی ثقافت و معماری کی بہترین مثال ہے جو آٹھویں ہجری صدی میں تعمیر ہوئی۔

جامع مسجد ملک:
سلجوقی دور حکومت میں اس مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔ کرمان کی سب سے بڑی اور پہلی مساجد میں اس کا شمار ہوتاہے۔ ’جامع مسجد ملک‘ میں اسلامی علوم کی تعلیم بھی دی جاتی تھی؛ یہاں لوگ اپنے تنازعات کے تصفیے کیلیے اکٹھے ہوتے۔

خواجہ خضر مسجد:
یہ پرانی مسجد کرمان کے ’خواجہ خضر‘ محلے میں واقع ہے۔ یہ مسجد ساتویں ہجری صدی کے ابتدائی سالوں (1300ء کی صدی) میں تاسیس ہوئی۔ 1982ء کے زلزلے میں اس مسجد کے بعض حصے ویران ہوئے۔

بامنار مسجد:
یہ مسجد بھی آٹھویں صدی ہجری میں قائم ہوئی۔ اس مسجد کے بانی ’عماد الدین سلطان محمود‘ ہیں جو شاہ شجاع کے بھائی تھے۔ شاہ شجاع مظفری بادشاہوں میں سے تھے جنہوں نے آٹھویں صدی میں حکومت کی۔

گنجعلی خان مسجد:
یہ صفویوں کی پہلی مسجد تھی جسے غلط صفوی افکار و خیالات کے پھیلاؤ کیلیے مرکز کے طور پر تعمیر کی گئی۔ ان کے بعد قاجاریوں نے شہر کے سنی مسلمانوں کو قتل عام کرکے ’مسجد چہل ستون‘ کی بنیاد رکھی۔
درندہ صفت صفویوں کے بعد جابر و خون آشام قاجاریوں کی حکومت قائم ہوئی جنہوں نے کرمان کو اہل سنت سے خالی کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وحشی صفویوں نے کرمان کی تمام مساجد پر قبضہ کیا جنہیں سنی حکام نے تاسیس کیا تھا۔

کرمان کی مشہور علمی شخصیات:
کرمان اور اس کے آس پاس علاقوں میں متعدد عبقری شخصیات نے مختلف علمی و فنی میدانوں میں مہارت حاصل کرکے عالم اسلام کو اپنی مخلصانہ خدمات سے نوازا۔ ان ممتاز علماء و اہل فن کا اثرو رسوخ ملک کے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور علمی شعبوں پر کافی مضبوط تھا۔

ان نوابغ میں مایہ ناز حنفی فقیہ ابوالفضل کرمانی، امام احمدبن حنبل کے ممتاز شاگرد ابومحمد حرب بن اسماعیل کرمانی، قاضی کرمان اور کبار تابعین کے تلمیذ حسن بن ابراہیم بن عبداللہ کرمانی، شارح صحیح بخاری شمس الائمہ کرمانی، ماہر ریاضی و ہندسہ ابوعبداللہ محمد بن عیسی مدنی ماہانی اور معروف صوفی عارف و شاعر ’شاہ نعمت اللہ ولی‘ کے نام قابل ذکر ہیں۔

صفوی اور قاجاری یلغار کے سامنے اہل کرمان کی مزاحمت:
جب ایران کے شمالی علاقوں میں صفوی راج کی بنیاد رکھی گئی تو آہستہ آہستہ اس جنونی حکومت کے جنگجوؤں نے ایران کے مرکزی شہروں پر خونیں حملے کیے۔ اصفہان اور شیراز سمیت ہر علاقے میں جہاں ان کاقبضہ ہوتا انہوں نے لوگوں کے سامنے صرف دو آپشنز رکھے تھے: شیعہ اثناعشری بن جاؤ یا تلوار کا سامنا کرو! کرمان کے عوام کا مسلک بھی اہل سنت و الجماعت تھا، وہ صفوی حکم ماننے کیلیے تیار نہ تھے چنانچہ صفویوں اور قاجاریوں کے سامنے ڈٹ کر اپنا دفاع کرنے لگے۔

صفویوں کے خلاف محمود غزنوی کی جنگی مہم کو سب سے پہلے کرمان نے سپورٹ کیا؛ کرمانیوں نے محمودافغان سے درخواست کی صفوی حملوں کیخلاف ان کی مدد کرے۔ چنانچہ غزنوی صفوی حکام سے لڑنے کیلیے اصفہان پہنچ گیا۔

کرمان پر صفوی اور قاجار کی یلغار:
افغان جنگجو اور ان کے ایرانی سنی اتحادیوں کو پہلے حملے میں شکست کا سامنا ہوا۔ اس شکست سے صفویوں کو اہل کرمان پر مزید ظلم و جبر کرنے کی ہمت ہوئی۔ افغانیوں کا دوسرا حملہ کارگر ثابت ہوا چنانچہ اصفہان میں صفویوں کی فوج تباہ ہوگئی اور انہیں فاش شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ صفویوں کے بعد ’افشاری‘ اور ’زندی‘ حکام اقتدار میں آئے جو صفوی حکام کی نسبت سے کم ظلم و زیادتی کا مظاہرہ کرتے۔

کرمانیوں کیلیے بدترین دن وہ تھا جب قاجاریہ کے بانی آقا محمدخان قاجار(1742-1797ء) طویل محاصرے کے بعد کرمان میں داخل ہوا۔ اس نے اپنے جنگجوؤں کو حکم دیا تمام شہریوں کو قتل کیاجائے۔ ’تاریخ کرمان‘ نامی کتاب کے مطابق قاجار نے اپنے بے رحم فوجیوں کو حکم دیا لوگوں کی آنکھیں نکال کر اس کے سامنے ایک ڈھیر بنایاجائے۔ محمدخان قاجار کے حکم پر بیس ہزار کے قریب آنکھیں کھودی گئیں۔

قاجار کا رویہ اہل کرمان سے بہت ہی ظالمانہ اس لیے تھا کہ کرمانی لوگ اسے صفویت کی راہ پر چلنے والا تصور کرتے تھے۔ قاجاری دراصل آناتولی قزلباش تھے جن کے خیالات ایرانی قوم خاص کر اہل سنت کے بارے میں انتہائی منفی اور متعصابہ تھے۔ قاجاریوں نے سفاک صفویوں کے جھنڈے تلے بھی تلوار چلائی۔

ان سفاکانہ حملوں کے نتیجے میں کرمان کی معاشی، سیاسی اور علمی صورتحال انتہائی کمزوری اور تباہی کا شکار ہوگئی؛ کئی گھرانوں نے اپنا وطن چھوڑکر آس پاس ملکوں میں رہائش اختیار کی۔

آج کا کرمان:
موجودہ دور میں کرمان کا شمار ملک کے بڑے اور اہم شہروں میں ہوتاہے۔ شہر میں ایک چھوٹی سنی برادری آباد ہے جس کی اکثریت بلوچ سنیوں پر مشتمل ہے۔ کرمان کے سنی اکثر صوبے کے جنوبی بلوچ علاقوں اور ایرانی بلوچستان سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی کوئی مستقل جامع مسجد نہیں جہاں وہ جمعہ یا باجماعت نماز ادا کرسکیں اور اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلوائیں۔ ایران کے اکثر بڑے شہروں میں سنی برادری کو ان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

SunniOnline.us


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں