پاکستان میں ڈرون حملے سے قبل آئی ایس آئی کے جنرل کو باقاعدہ اطلاع دی جاتی ہے، امریکی اخبار کا انکشاف

پاکستان میں ڈرون حملے سے قبل آئی ایس آئی کے جنرل کو باقاعدہ اطلاع دی جاتی ہے، امریکی اخبار کا انکشاف

واشنگٹن(جنگ نیوز) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکام ڈرون حملوں سے قبل ممکنہ اہداف والے علاقوں کے بارے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک فوجی جنرل کو مہینے میں ایک مرتبہ قبل از وقت بذریعہ فیکس تحریری طور پر آگاہ کرتے ہیں۔
یہ انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا، اخبار کے مطابق ڈرون آپریشن سے آگاہ امریکی عہدے داروں کے مطابق پاکستانی حکام اس پیغام کا جواب نہیں دیتے باوجودکہ وہ سرکاری طور پر ان میزائل حملوں کی مخالفت کرتے ہیں ۔
اس (پاکستان کی خاموشی) بنیاد پر اور اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ پاکستان ممکنہحملے والی جگہ کی فضائی حدود کو بھی مزاحمتوں سے آزاد رکھتا ہے، امریکی حکومت یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ اسے ایک خود مختار ملک کی حدود میں ایسے حملوں کی خاموش اجازت حاصل ہے۔
بعض مبصرین کے خیال میں امریکہ کا پاکستان کو قبل از وقت اہداف کے ممکنہ علاقوں کے بارے میں تحریری طور پرآگاہ کرنے کا مقصد ڈرون حملوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہوسکتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستانی سرزمین پرامریکی ڈرون سے میزائل حملوں کی مہم کے ابتدائی ایام میں ممکنہ اہداف کی فہرست پاکستانی حکام کی منظوری سے تیار کی جاتی تھی۔
آئی ایس آئی فیکس پیغام وصول ہونے کی تصدیق کردیتی تھی جسے ڈرون حملوں کی تائید سمجھا جاتا تھا۔
لیکن مئی 2011 میں پاکستان کی اجازت کے بغیر اسامہ بن لادن کے خلاف ابیٹ آباد میں خفیہ امریکی آپریشن کے بعد سے آئی ایس آئی نے ڈرون حملوں سے متعلق پیغامات موصول ہونے کی تصدیق کرنے کا سلسلہ بند کردیا۔
اخبار نے دعوی کیا ہے کہ جوابی پیغامات کی بندش پاکستانی حکام کی طرف سے اظہار ناراضگی تھا اور آئی ایس آئی کے سربراہ نے یہ راستہ اختیار کیا کیونکہ ڈرون آپریشن کی اجازت نہ دینے سے تصادم کا خدشہ تھا جبکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ میزائل حملے پاکستان کے اجازت کے بغیر بھی جاری رہتے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں