’علماء کی دنیاوآخرت کی عزت کاراز استغنا میں ہے‘

’علماء کی دنیاوآخرت کی عزت کاراز استغنا میں ہے‘

شورائے اتحاد مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان کے صدر حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے صوبے کے سرکردہ علمائے کرام اور دینی مدارس کے مہتممین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علماء کے استغنا و خودکفیلی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: یہ علمائے کرام کیلیے بہت ہی اہم اور حیاتی ہے کہ مخلوق کے بجائے خالق کے دست نگر ہوں اور زر و زوروالوں پر سے اپنا انحصار کم کریں؛ ان کی دنیا وآخرت کی عزت اسی میں ہے۔ مخلوق سے بے نیازی ہمارے سلف صالح کی خصوصیات میں سے ہے۔

 

بدھ پانچ ستمبر کو اپنے دفترمیں موجود علمائے کرام سے خطاب میں انہوں نے مزیدکہا: ہردور میں قوی نیز سست و کمزور علماء موجود ہوتے ہیں؛ حقانی و ربانی علماء کی کوشش ہوتی ہے مالدار اور صاحبان اقتدار سے دور رہ کر خود کو ان کے محتاج نہ بنائیں۔ ہمارے قوی اور حقانی علماء بھوک اور ہرقسم کی سختی برداشت کرنے کیلیے تیار تھے لیکن ہرگز خود کو دوسروں کے محتاج نہیں بناتے۔ روزی کے حصول کی خاطر محنت مزدوری کرتے تھے حالانکہ مدارس میں تدریس کے عوض پیسہ نہیں لیتے تھے۔ جو کچھ علماء کو اصحاب اقتدار کے محتاج بناتا اس سے پرہیز کرتے تھے؂
آنکہ شیران را کندروباہ مزاج احتیاج است احتیاج احتیاج
جو شیروں کو لومڑی مزاج بناتاہے وہ صرف اور صرف ضرورت واحتیاج ہے۔

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: دوسرا اہم مسئلہ دینی مدارس کے استقلال و آزادی ہے۔ دینی مسایل میں ہمیں اپنی آزادی و استقلال محفوظ رکھنا چاہیے۔ آئین نے ہمیں آزادی دی ہے۔ اسلام میں بھی قرآن و سنت کی رو سے ہرشخص اپنے عقائد میں آزاد ہے؛ افکار وخیالات میں ہمیں کسی سے وابستہ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزیدکہا: انتہائی افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ آج کل سرعام ایمان کی نیلام کی ہوتی ہے۔ بعض لوگ انتہائی کم اورحقیر پیسے کے بدلے بک جاتے ہیں۔ جو جھوٹی قسم کھاتا ہے یا جھوٹی گواہی دیتاہے اور وعدہ خلافی کرتاہے بلاشبہ اس نے اپنا ایمان نیلام پر رکھ دیاہے۔ جولوگ کسی عہدے یا پیسے کی خاطر خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں دراصل اپنا ایمان اور ضمیر بیچتے ہیں۔

ممتاز سنی عالم دین نے مزیدکہا: سب سے زیادہ مشکل اور ہلا دینے والی بات یہ ہے کہ کوئی عالم دین اپنا ایمان نیلام پر لگادے اور اپنا دین بیچ کر اللہ کو ناراض کرے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص کہے میں صاحب ایمان ہوں اور خیانت بھی کرے جو ایمان سے تضاد میں ہے۔

صوبہ سیستان بلوچستان کے سرکردہ علماء کو مخاطب کرکے مولانا عبدالحمید نے کہا: اپنے مدارس و مساجد کے استقلال کے حوالے سے ہوشیار رہیں۔ اللہ کے فضل وکرم سے ہمارے صوبے میں ابھی تک مدارس و مساجد کا زمام اہل سنت ہی کے ہاتھوں میں ہے۔ چونکہ یہاں کے مدارس و مساجد کو ہم نے خود تعمیر کرایا اور ان کا کنٹرول بھی ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے اب کوئی دباؤ نہیں ہے کہ حکومتی منصوبہ بندی شورا سے وابستہ ہوجائیں۔ قانون بھی یہی ہے کہ دینی مدارس حکومتوں سے الگ رہیں اور ان سے وابستہ نہ ہوں۔ اگر کسی حکومتی ذمے دار نے دباؤ ڈالا تو یہ اس کا انفرادی اور خلاف قانون فعل شمار ہوگا۔ کسی کی دھمکی قابل قبول نہیں ہے۔ حسب اعلان کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے؛ آپ اپنے مدارس کو حکومتوں سے وابستہ مت کریں۔ استقلال کا کوئی عوض نہیں ہوسکتا۔ اگر آپ اپنے طلبہ کی ترقی چاہتے ہیں تو اس کیلیے کئی راستے ہیں؛ مثلا آپ نصاب میں تبدیلی لاکر انہیں اپ ٹودیٹ کریں۔ طلبہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیز میں بھی تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ چنانچہ اب بہت سارے طلبا اندرون و بیرون ملک کی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

انہوں نے مزیدکہا: حکومت ہمارے مدارس پر نظر رکھ سکتی ہے؛ ہم حکام کے مفید مشوروں سے استفادہ بھی کرتے ہیں لیکن مدارس کا اختیار ان کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے۔

علمائے کرام مدارس کی چاردیواری تک محدود نہ رہیں
اپنے بیان کے ایک حصے میں حضرت شیخ الاسلام نے اہل علم کی سنگین ذمہ داری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزید گویا ہوئے: ہمیں ’’علماء‘‘ کے عنوان سے یاد کیاجاتاہے؛ اگر ہم کوئی تاجر یا کسان ہوتے تو ہماری ذمہ داریاں اتنی سنگین نہ ہوتیں۔ کسان اور تاجر جیسے طبقے کے لوگوں سے اللہ کی امیدیں کم ہیں لیکن ہم جیسے لوگ جو صاحب علم ہیں خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ ہماری کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ ارشاد الہی ہے: ’’لو لاینھاھم الربانیون والاحبار‘‘، اس سے معلوم ہوا نہی کرنا اہل علم کا کام ہے۔ قرآنی تعلیمات سے معلوم ہوتاہے معاشرے کی اخلاقی تباہی کی ایک اہم وجہ اہل علم کی سستی ہے۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: معاشرے کے فساد و انحطاط اور مشکلات کی ذمہ داری ان علماء پر عائد ہوتی ہے جو خود کو اپنے مدارس و مساجد کے حدود تک محصور رکھتے ہیں، عوام سے براہ راست رابطے میں نہیں ہوتے اور معاشرہ سے الگ ہوکر رہتے ہیں۔ جب علماء مدرسے کے حدوداربعہ سے نکل جاتے ہیں اور قریب سے لوگوں کی باتیں سنیں گے تو انہیں ذمے داری کا احساس ہوجائے گا۔ کہاں سننا اور کہاں دیکھنا؟ یہ ہرگز برابرنہیں ہوسکتے۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: مدرسے سے نکل جانے میں خیروبرکت ہے؛ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سرگرمیاں مدرسوں تک محدود نہ رکھیں۔ بلکہ تدریس کے ساتھ ساتھ عوام سے بھی رابطے میں رہیں؛ ان سے ملاقات کریں اور ان کی دینی و دنیوی مشکلات سے خود کو باخبر رکھیں۔ ہمارے لوگوں کے ایمان و عقائد کے شکارچی مورچہ زن ہیں؛ وہ بھیس بدل کر میدان میں اترچکے ہیں، ان کی خیال داری ہم نہ کریں تو کون ان کا ایمان بچائے گا؟ عوام کے چرواہے ہم ہیں، اگر چرواہا رعیت کا خیال نہ رکھے، ان سے دور رہے تو بھیڑیا اپنا کام کرے گا۔ لوگوں کا حال پوچھنے اور ان سے ہمدردی میں خیر ہے؛ اس سے لوگ خوش ہوں گے اور اپنائیت کا احساس بڑھے گا۔

اسلامی ممالک میں ’اسلامی بیداری‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ممتاز عالم دین نے مزیدکہا: آج کل مسلم ممالک میں جو بیداری کی لہر نظر آرہی ہے، مسلمان مرد وخواتین اسلام کی جانب لوٹ رہے ہیں اور اس راہ میں قتل ہوجانے کی پرواہ بھی نہیں کرتے ہیں اس کی وجہ علماء اور اہل علم دانشوروں کی رہنمائی ہے؛ وہاں کے علماء اور دانشور اپنے عوام سے براہِ راست رابطے میں ہیں اور ان کی رہنمائی کرتے چلے آرہے ہیں۔ شام، مصر، تیونس، لیبیا اور یمن میں اسلامی بیداری کی کرنیں کسی سے مخفی نہیں ہیں۔

بڑے شہروں میں اہل سنت کو باجماعت نماز کے قیام میں مشکلات کاسامناہے
اہل سنت والجماعت برادری کے اہم رہنما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران میں سنی کمیونٹی کے بعض مسائل ومشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جیسا کہ آپ حضرات کو معلوم ہے ملک میں اہل سنت کو بعض مشکلات کا سامنا ہے؛ چھاؤنیوں میں سنی برادری کے جوانوں کو نماز کیلیے اپنی مستقل جماعت قائم کرنے نہیں دیاجاتا۔ اس حوالے سے ہمیں شکایات موصول ہوئی ہیں اور ہم نے حکام سے بھی گزارش کی ہے ایسے اقدامات کی روک تھام کیلیے کوشش کریں۔ بہت سارے سنی فوجی قید بھی ہوچکے ہیں چونکہ انہوں نے شیعہ ائمہ کے اقتدا میں نماز پڑھنے سے انکار کیا ہے۔ شیعہ وسنی بھائی بھائی بن کر رہنا چاہتے ہیں لیکن کوئی انہیں ادغام نہیں کرسکتا، ہمیں شیعہ نہیں بننا ہے۔ نہ ہی کسی شیعہ سے ہماری توقع ہے ہمارے پیچھے نماز پڑھے۔ بعض مسائل کی وجہ سے ہم ان کے اقتدا میں نماز ادا نہیں کرسکتے۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: تہران میں سنی برادری کو نمازعید قائم کرنے نہیں دیاگیا۔ تہران سمیت دیگر بڑے شہروں مثلا اصفہان، یزد اور کرمان میں اہل سنت کو جماعت کے ساتھ نماز قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ علمائے کرام ان جیسے مشکلات کے حل کیلیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

شورائے اتحاد مدارس اہل سنت کے صدر نے اپنے بیان کو اختتام پذیر کرتے ہوئے کہا: ضرورت اس بات کی ہے کہ مسائل کی شناخت کرکے ان کے حل کیلیے غور وفکر کریں؛ جب علماء ان جیسے مشاکل کے حل سے انکار کریں تو کون ان کا حل کرے گا؟


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں