29رمضان: محفل ختم قرآن میں حضرت شیخ الاسلام کابیان

29رمضان: محفل ختم قرآن میں حضرت شیخ الاسلام کابیان

خطیب اہل سنت زاہدان اور مایہ ناز سنی عالم دین حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم انتیس رمضان المبارک 1433ہ۔ق میں تراویح میں ختم قرآن پاک کے لیے منعقد جامع مسجد مکی زاہدان کی محفل کے آخری مقرر تھے؛ انہوں نے انتیس رمضان کو انتہائی اہم رات قرار دیتے ہوئے کہا: یہ رات شب قدر ہوسکتی ہے، دعا ہے اللہ تعالی اس شب میں اپنی رحمتوں کو ہم پر نازل فرمائے تاکہ ایک ہزار مہینے کا ثواب ہمیں حاصل ہوجائے، ان شاء اللہ۔

ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: ارشادالہی ہے: ’’واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ ثم توفی کل نفس ماکسبت وھم لایظلمون‘‘، یہ آیت ہمارے لیے ایک وارننگ ہے۔ اللہ تعالی ہمیں خبردار فرماتاہے کہ اس دن سے ڈرو جب تم میرے پاس آؤگے۔ ہم سب نے موت کا مزہ چکنا ہے۔ سفر آخرت درحقیقت اللہ سے ملاقات کا سفر ہے۔ اکثر لوگ اس سفر آخرت سے غافل ہیں۔ ہم سب کو اپنے اعمال و کرتوتوں کے لیے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ اس دن کیلیے توشہ اکٹھا کرنا چاہیے۔

خطیب اہل سنت نے موت کے بعد ہولناک واقعات کو ’’ناقابل برداشت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا: مجھے اور آپ کو موت کے بعد بہت سخت قسم کے حالات کا سامنا ہے۔ ایسے حوادث اور واقعات جن کی برداشت ناممکن ہے۔ اس دن ہرشخص اپنی کوتاہیوں پر نادم ہوجائے گا لیکن اس وقت پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ آج کل اکثر لوگوں کو آخرت کی فکر نہیں، سب دنیا اور مادیات کے پیچھے پڑگئے ہیں۔ ہمیں زندگی کے سنہری موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور نیک اعمال کے ذریعے اپنی ابدی زندگی سنوارنے کی محنت کرنی چاہیے۔

حضرت شیخ الاسلام نے مسلمانوں کا مسئلہ ’علم پر عمل‘ نہ کرنے کو قرار دیتے ہوئے کہا: مسلمانوں کو احکام اور حقوق اللہ و حقوق العباد کا علم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ علم پر عمل نہیں ہوتا، اس بارے میں سستی دکھایا جاتاہے۔ اس سستی و غفلت کی بنیادی وجہ کمزور ایمان اور یقین ہے، جس کا یقین موت پر پکا ہو وہ ہرگز غافل نہیں رہتا۔

انہوں نے مزیدکہا: انسان کس چیز کے منتظر ہے کہ اسے یقین ہوجائے ابدی زندگی آنے والی ہے؟ کیا اسے موت کا انتظار ہے تاکہ عمل پر مجبور ہوجائے؟ لیکن اس وقت پشیمانی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ زندگی کے موقع کو ضائع مت کریں اور گناہ و معاصی سے توبہ کریں۔

بیان کے بعد حضرت شیخ الاسلام اور مسجد اور آس پاس کی گلیوں میں موجود ہزاروں مسلمانوں نے اللہ کے سامنے دوزانو ہوکر تضرع اور خشوع و خضوع سے دعا کی۔ انہوں نے مظلوم مسلمانوں خاص کر برمہ اور شام کے نہتے مسلمانوں کی نجات کیلیے خصوصی دعا کی اور مشرق وسطی میں جاری آزادی پسند تحریکوں کی کامیابی اور مجاہدین اسلام کی فتح کیلیے دعا کی۔

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں