رپورٹ: دارالعلوم زاہدان کی اکیسویں سالانہ تقریب دستاربندی

رپورٹ: دارالعلوم زاہدان کی اکیسویں سالانہ تقریب دستاربندی

ایران، زاہدان(سنی آن لائن) ایرانی اہل سنت کے سب سے عظیم ترین دینی ادارہ دارالعلوم زاہدان کے سالانہ جلسہ دستاربندی و ختم صحیح بخاری بروز سوموار 27رجب (18جون 2012ء) کو اہل سنت زاہدان کی مرکزی عیدگاہ میں منعقد ہوگیا۔

’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں فرزندانِ توحید کی موجودگی میں دارالعلوم زاہدان کے فضلاء و فاضلات کے اعزاز میں منعقدہ اکیسویں معنوی و روحانی تقریب دستاربندی و ختم صحیح بخاری کا آغاز ہوا۔ صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی تقریب میں ہزاروں خداپرست اور دین دوست مسلمان شریک ہوگئے جن کا تعلق ایران کے مختلف صوبوں اور آس پاس کے ملکوں سے تھا۔

علم و علماء سے شغف رکھنے والے مسلمان بہن بھائی تقریب کے با قاعدہ آغاز سے پہلے ہی دارالعلوم زاہدان پہنچ گئے تھے۔ اسی لیے شرکائے تقریب کیلیے بعض ضمنی پروگرامز کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اکیسویں تقریب ختم بخاری و دستاربندی دارالعلوم زاہدان دو سیشنز میں منعقد ہوگئی۔ پہلی نشست ظہر کی نماز تک جاری رہی جبکہ دوسرا سیشن عصر سے شروع ہوکر عشاء تک جاری رہا۔

تقریب کی پہلی نشست کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا، کوئٹہ (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے مشہور قاری کی تلاوت کلام پاک کے بعد ’’پیام آوران وحدت‘‘ نامی نظم خواں گروپ نے ایک خوبصورت نظم پیش کی۔ ہر تقریر کے بعد کوئی نظم خواں گروپ اپنی نظمیں پیش کرتا جو حاضرین کی داد لینے میں کامیاب ہوتا۔

تقریب کا پہلا مقرر ’مولوی عبدالحکیم ناروئی‘ تھے جنہوں نے اسلامی بیداری کے بارے میں اہم گفتگو کی ۔ مولوی عبدالحکیم شرکائے دورہ حدیث کی نمائندگی کررہے تھے۔
انہوں نے کہا: اسلامی بیداری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان گوشہ نشینی سے گزر کر میدان میں کود پڑے، اب ان کی کوشش ہے کہ حرکت میں آکر فکری وعلمی اور سیاسی پختگی حاصل کریں اور خود کو تکمیل کے اعلی درجے تک پہنچائیں۔ مغربی تہذیب آج نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں غیرپسندیدہ بن چکی ہے؛ لوگوں کو پتہ چل گیا ہے کہ دین دشمن خیالات و مکاتب ان کی کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

مہتمم ’’مدینۃ العلوم‘‘ خاش مولانا محمدعثمان قلندرزہی، تبلیغی جماعت کے سرگرم کارکن اور ممتاز عالم دین مولانا حافظ محمدکریم صالح، سیستان وبلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مجاہد، سنی رکن پارلیمنٹ یعقوب جدگال اور نائب مہتمم دارالعلوم زاہدان مولانا احمدناروئی پہلی نشست کے دیگر مکرم مقررین تھے۔

خطیب اہل سنت خاش (ایرانی بلوچستان) مولانا محمدعثمان نے مقام صحابہؓ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: جس طرح قرآن پاک ایک بے مثال کتاب ہے، سرورِ کونینﷺ افضل الرسل ہیں، آپﷺ کی تعلیمات بھی لاثانی ہیں اور آپﷺ کے صحابہؓ کی بھی کوئی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

تبلیغی جماعت کے مایہ ناز کارکن حاٖفظ محمدکریم صالح نے مساجد و مدارس کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے کہا: جس طرح مساجد تزکیہ واصلاح کے مراکز ہیں تعلیم و تعلم کے حلقے بھی وہاں لگتے ہیں۔ لہذا مساجد انسان کی نجات کیلیے ضروری ہیں تا کہ بندہ کامیابی پاسکے۔

اپنے بیان کے آخرمیں حافظ محمدکریم صالح نے مساجد اور قرآن پاک کو مسلمانوں کی ہدایت کیلیے دو ضروری نعمتیں قرار دیتے ہوئے اہل مغرب کو مخاطب کرکے کہا: اے اہل مغرب! ہمارے مدارس و مساجد سے خوفزدہ نہ ہوں، ہماری مسجدوں کا پیغام امن پسندی، محبت و بھائی چارہ، دوستی اور کامیابی ہے۔

سیستان بلوچستان یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر ڈاکٹر مجاہد نے شرکائے تقریب ختم بخاری سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہم اس غلط فہمی میں ہیں کہ ہماری اولاد ہماری طرح ترقی کررہی ہیں اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن یاد رکھیں انسان کی ترقی منصوبہ بندی اور بعض نکات کی خیال داری سے ممکن ہے۔ انسان شدت سے نگرانی اور تعلیم و تعلم کا محتاج ہے۔ بچوں کے سکول چھوڑنے کو معمولی مسئلہ مت سمجھیں۔ بچے پودوں کی طرح نگرانی و آبیاری کے محتاج ہیں۔ ان سے پیار کریں۔ مسلسل پیار کرنے سے بچوں کا حوصلہ بلند ہوتاہے اور وہ کسی اور جگہ سے پیار کی بھیک نہیں مانگیں گے۔ ایک مسڈکال یا ایس ایم ایس سے کوئی انہیں نہیں ورغلاسکتا۔

پہلے سیشن کے آخری مقرر مولانا احمد ناروئی صاحب نے صحابہ کرامؓ کے باہمی تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب بھی حضرت عمر سفر پر جاتے تو کسی کو اپنا نائب مقرر فرماتے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ آپؓ کے مشیراعلی تھے۔ ان حضرات میں بہت ہی اچھے تعلقات تھے اور باہمی محبت و خیرخواہی کی بنا پر امت مسلمہ کی خدمت میں مصروف تھے۔ جب حضرت عمرؓ شہادت سے سرفراز ہوئے تو حضرت علیؓ کسی خوف و جھجھک کے بغیر (البتہ نبی کریمﷺ کے صحابہ میں کوئی دشمنی نہیں تھی جیسا کہ بعض انتہاپسند جاہل لوگ دعویٰ کرتے ہیں ) حضرت عمرؓکے جسدخاکی کو مخاطب کرکے کہا: اللہ سے میری دعا ہے آپ کو آپ کے دو دوستوں کے ساتھ محشور فرمائے؛ چونکہ میں نے کئی مرتبہ آپﷺ سے سنا کہ ابوبکر وعمر کا نام ایک ساتھ لیا کرتے تھے۔ یہ ہے صحابہ کی پرفخر زندگی جو تواضع و بھائی چارہ اور محبت سے بھری تھی۔

سوموار اٹھارہ جون کی عصر کے بعد دوسری نشست کا آغاز مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی کے پرفیض خطاب سے ہوا۔ مفتی دارالعلوم زاہدان اور استاد الحدیث مولانا قاسمی نے اولاد کی تربیت کی اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے کہا: خاندان اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ قرآن پاک اور متعدد احادیث میں شادی کرنے اور خاندان بنانے پر بہت تاکید آئی ہے۔ خاندان کسی بھی معاشرے کا پہلا یونٹ ہے؛ اگر خاندان جو معاشرے کی جڑ ہے اصلاح ہوجائے تو پورا معاشرہ ٹھیک ہوجائے گا۔ اگر خاندان اصلاح ہوجائے تو قوم اصلاح ہوجائے گی۔ اگر قوم ٹھیک ہو تو اسے اچھے حکمران نصیب ہوں گے۔ چونکہ جابر حکمران لوگوں کے اعمال کے نتائج ہیں؛ ’اعمالکم عمالکم‘، تمہارے اعمال تمہارے حکام ہیں۔

انٹرنیشنل ’ندائے اسلام‘ میگزین کے مدیراعلی نے ’حرام سے بچنے‘ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: اگر ہمیں نیک اولاد چاہیے تو حرام چیزوں سے سختی کیساتھ بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہرحال میں قناعت و توکل کا سہارا لینا چاہیے۔ اگر بچوں کے پیٹ میں حرام کھانا چلاگیا تو اس کا منفی اثر ان کی حرکات وسکنات پر بھی پڑے گا۔ دنیا میں موثر کردار ادا کرنے والی شخصیات حلال کھاتے اور استعمال کیاکرتے تھے۔ جو حرام کھانے سے پرورش پاتاہے ایک دن اپنے باپ پر ہاتھ اٹھائے گا اور طپانچہ مارنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ایسا بچہ اپنے خاندان اور ملک کیلیے عار و ننگ کا باعث ہوگا۔

مہتمم ’عین العلوم‘ گشت (سراوان) شیخ الحدیث مولانا محمدیوسف حسین پور اور بلوچستان کے ممتاز عالم دین مولانا نظرمحمد دیدگاہ دوسرے سیشن کے خطبا تھے جنہوں نے حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے پہلے شرکائے تقریب سے خطاب کیا۔

مولانا حسین پور نے وفات النبیﷺ کے بعد اٹھنے والی بغاوت کوکچلنے میں خلفائے راشدین کے اہم کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب تمام مسلمان نبی کریمﷺ کے فقدان کے غم میں تھے اور انہیں سخت پریشانی کا سامنا تھا حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے تمام فتنوں کو ختم کرنے کیلیے کمرہمت باندھ لی۔ آپؓ نے مرتدین اور مانعین زکات کو کسی لچک کے بغیر سیدھا کرکے تمام اسلام دشمن عناصر کو واضح پیغام دیا۔ اللہ تعالی نے خلیفہ اول اور اس کے ساتھی صحابہؓ کے ذریعے تمام فتنوں کو ختم کرایا۔ یہ وہی کردار ہے جو قرآن پاک میں اس کی تشریح آئی ہے۔
ایرانی بلوچستان کے با اثر عالم دین اور سابق رکن پارلیمنٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا: آج دنیائے کفر وشرک نے ہر طرف سے ہمارا گھیراؤ کیا ہے۔ امریکا نے افغانستان پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں اپنے دشمنوں سے لڑتا رہتاہے۔ میں افغان قوم کو ان کی بہادری و استقامت پر خراج تحسین پیش کرتاہوں۔ اس عظیم قوم نے بیس سال تک سوویت یونین کا مقابلہ کیا، اب دس سالوں سے امریکا اور نیٹو کیخلاف بر سرپیکار ہے۔ افغان قوم اعلائے کملۃ اللہ کیلیے لڑرہی ہے۔

مولانا نظرمحمد دیدگاہ نے مزیدکہا: اسلام کے ابتدائی شیدائی غرباء اور مساکین تھے۔ جب آپﷺ نے فرمایا: ’قولوا لاالہ الا اللہ تفلحوا‘، تو اکٹھے ہوئے لوگ سب بکھر گئے۔ حضرت محمدﷺ کے آس پاس صرف غرباء مکہ رہ گئے۔ اکثر شہدا بھی غریب تھے۔ مالدار لوگ کم ہی قربانی کیلیے تیار ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی مالدار اس کیلیے تیار ہو اور اپنی جان و مال اللہ کی راہ میں خرچ کردے تو اسے مبارکباد دینی چاہیے۔

اکیسویں تقریب ختم بخاری و دستاربندی دارالعلوم زاہدان کے آخری خطیب حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم تھے۔ ان کی تقریر کا پورا متن ملاحظہ ہو۔

صدر جلسہ حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی کا بیان:

خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی دامت برکاتہم نے دارالعلوم زاہدان کی اکیسویں تقریب دستاربندی وختم صحیح بخاری (2012-06-18ء) کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایران کی اہل سنت برادری اپنے ملک میں اقتدار و مقام کے درپے نہیں بلکہ عزت و کرامت سے جینا چاہتی ہے۔

انہوں نے مزیدکہا: ہم ایران کے باشندے ہیں جو ایک کثیرالقومی ملک ہے جہاں متعدد مذاہب و مسالک اور زبانوں کے لوگ آباد ہیں، یہ سب ایرانی ہیں۔ ہم تمام مسلمانوں سے بھائی چارہ چاہتے ہیں اور پوری انسانیت کے خیرخواہ ہیں۔ اگر ملک کسی بڑے نقصان، حملہ یا قحط و پابندی کا شکار ہوجائے تو شیعہ وسنی دونوں کو نقصان پہنچے گا۔

زاہدان کی مرکزی عیدگاہ میں ہزاروں فرزندان توحید سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں مولانا عبدالحمید نے کہا: اہل سنت والجماعت کی راہ بھائی چارہ اور ہم آہنگی ہے؛ ہم نے ملکی مفادات کے خاطر ہر میدان میں قربانیاں دی ہیں۔ طرح طرح کی معاشی مشکلات اور اقتصادی پابندیاں برداشت کی۔ اسی لیے عالم اسلام میں اسلامی بیداری و شعور کی پیدائش کے تناظر میں ہمیں امید ہے ایرانی اہل سنت کے جائز حقوق پر توجہ دی جائے گی۔ ایرانی اہل سنت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے، جیسا کہ شیعہ برادری کا وجود بحث سے بالاتر ہے۔ لہذا اہل سنت کے حقوق و مطالبات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت اہل سنت والجماعت کی ہے، ان کی بات ہرصورت میں سننی چاہیے۔ ہماراخیال ہے جتنی قومیں اور نسلیں ایران میں آباد ہیں ان کے حقوق کاخیال رکھنا ضروری ہے۔ ہم نے سب سے پہلے انقلاب کیا اور کامیاب ترین انقلاب وہ ہے جس کے بعد سارے لوگ عزت اور حقوق پائیں۔

ممتاز سنی عالم دین نے بات آگے بڑھاتے ہوئے مزیدکہا: ایرانی اہل سنت کے مطالبے آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں۔ ملک میں انصاف اور قانون کا بول بالا ہونا چاہیے۔ ہمارے معتبر سروے کے مطابق ایران کی آبادی کی بیس فیصد سنی مسلمان ہیں، یعنی کم سے کم دو کروڑ سنی مسلمان ایران میں رہتے ہیں۔ لہذا اہل سنت کے لائق افراد کو روزگار دینا چاہیے۔ مناصب کی تقسیم میں انہیں نظرانداز کرنا غلط کام ہے۔

بڑے شہروں میں سکیورٹٰی حکام کے خوف کے بغیرنمازقائم کرنا ہمارا مطالبہ

ایرانی سنی برادری کے سب سے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز دینی رہنما نے کہا: ہر سنی مرد اور خاتون کا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں ایران کے کسی بھی حصے میں خاص کر بڑے شہروں میں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ یہ اہل سنت کا اسلامی و قانونی حق ہے کہ وہ آزادانہ طورپر اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں اور مسجد و مدرسہ بنائیں۔ ہمارا ایک اہم مطالبہ جسے آخری دم تک پیروی کرتے رہیں گے تہران میں مساجد تعمیر کرنے کا مطالبہ ہے؛ ہم چاہتے ہیں تہران میں بغیر کسی خوف و ہراس کے اللہ کی عبادت کریں، کوئی حکومتی و سکیورٹی ادارہ ہمیں تنگ نہ کرے تاکہ ہم بآسانی اپنے مسلک کے مطابق نماز پڑھیں، اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں، جہاں ضرورت ہو مسجد تعمیر کریں اور نمازجمعہ و جماعت قائم کریں۔ ایرانی حکام اور آیت اللہ خامنہ ای سے اہل سنت کے ہرفرد کا یہی مطالبہ ہے۔

صحابہ کرامؓ وخلفائے راشدین کی شان میں گستاخی کرنیوالوں کومانیٹر کرناچاہیے

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے ملک میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیخلاف ہرزہ سرائی کے بڑھتے رجحان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم کسی کو اجازت نہیں دیتے اہل تشیع کی مقدسات کی توہین کرے، اسی طرح کسی کو اہل سنت کی مقدسات خاص کر صحابہ کرام، ازواج مطہرات اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جو افراد ایسا کرتے ہیں ان کا ٹرائل ہونا چاہیے۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے مزیدکہا: ایرانی اہل سنت کا وجود حکام کیلیے ایک موقع ہے؛ اگر وہ واقعی مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سنی برادری کا دل جیتنا پڑے گا، انصاف کی فراہمی اور برابری کے نفاذ سے حقیقی اتحاد حاصل ہوگا۔ ہم ایران کی عزت و ترقی کا خواہاں ہیں۔

ملکی وغیرملکی مہمانوں پرپابندی لگانا افسوسناک ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں بعض حکومتی پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: سب سے پہلے انتظامیہ سے تشکر کا اظہار کرتے ہیں کہ تقریب کی سکیورٹی و نظم میں ہمارے ساتھ تعاون کیا، لیکن ہمیں اس بات پر شکوہ ہے کہ بعض ملکی اور غیرملکی مہمانوں کو زاہدان آنے نہیں دیاگیا۔ اس سے قبل عالم اسلام کی ممتاز شخصیات اس محفل میں شریک ہوتے، اگر یہ عمل جاری رہتا تو عالم اسلام میں اتحاد کی راہ مزید ہموار ہوتی۔

انہوں نے مزیدکہا: ہمیں افسوس ہے کہ ابھی تک بعض شیعہ علماء اور حکام صحیح طورپر ہمیں نہیں پہچان سکے اور وہ ہماری نیک خواہشات و نیات سے واقف نہیں ہیں۔ میں اللہ کے بندوں کو گواہ لیتاہوں کہ ہم کسی کے بدخواہ نہیں ہیں، بلکہ ہم شیعہ و سنی، رعیت و حاکم اور پوری انسانیت کے خیرخواہ ہیں۔ ہماری تنقید مثبت ہے کردارکشی کیلیے نہیں ہے۔ کاش ایسی محفلوں میں نامور علماء شریک ہوتے، ہم پاکستانی اور سعودی قوموں کو ایرانی قوم سے قریب کرنا چاہتے ہیں، نفرتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں متعین ایرانی سفیر اور ’تقریب بین المسالک‘ کے صدر آیت اللہ تسخیری نے خود اعتراف کیا ہے کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں اس محفل کے انعقاد سے انہیں بہت فائدہ پہنچاہے، اس محفل دستاربندی کی وجہ سے جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات شرکت کیا کرتی تھیں، انہیں تقریبی پروگراموں میں پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: تقریب ختم بخاری و دستاربندی اتحادامت اور بھائی چارے کا سیمبل ہے۔ اس کا انعقاد ملک اور پورے عالم اسلام کے مفادمیں ہے۔ ذمہ داری کا احساس ہمیں بعض اوقات حکام سے تنقید پر مجبور کرتاہے، ہماری تنقید یاددہانی کیلیے ہے۔ ہم مفید تنقید کے حق میں ہیں لیکن بہتان لگانے اور الزام تراشی کے خلاف ہیں۔ بعض عناصر ہم پر الزام لگاتے ہیں اور اسے تنقید کا نام دیتے ہیں۔ ہم تہمت و افترا کے سخت مخالف ہیں اور الحمدللہ اب تک ہم نے کسی پر الزام نہیں لگایاہے۔ اسی لیے ہمیں امید ہے حکام اپنی نگاہوں کو وسیع تر بنادیں۔

آخرمیں خطیب اہل سنت مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: ایرانی اہل سنت اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ملک میں اس وقت تک انہیں عزت حاصل نہیں ہوگی جب تک ان سے مختلف ملکی اداروں اور محکموں میں استفادہ نہیں ہوگا۔ ایرانی سنی برادری اقتدار و جاہ و مقام کی لالچ میں نہیں ہے بلکہ وہ عزت و کرامت کی پیاسی ہے۔ ہم اس عزت کو پانے کیلیے قانونی راستوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

یاد رہے تعلیمی سال 1432-33ہ۔ق میں دارالعلوم زاہدان کے 134فضلاء اور 76 فاضلات کی دستاربندی ہوگئی۔ جبکہ 32 حفاظ کرام اور تخصص فی التجوید کے تین فارغ التحصیل طلباء کو بھی خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔

رپورٹ: SunniOnline.us


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں