دارالعلوم زاہدان میں چودھواں مقابلہ تقریر ومضمون نگاری کا انعقاد

دارالعلوم زاہدان میں چودھواں مقابلہ تقریر ومضمون نگاری کا انعقاد

ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے سنی دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے درجنوں طلباء نے دارالعلوم زاہدان کے احاطے میں چودھواں مقابلہ تقریر، مضمون نگاری، مشاعرہ اور داخلی مجلے میں شرکت کی۔ مذکورہ تقریب کا آغاز بدھ 9مئی 2012ء میں ہوا جو اگلے دن سہ پہر تک جاری رہی۔

’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق چودھواں مقابلہ حسن تقریر و مضمون نگاری کی تقریب کا آغاز دارالعلوم زاہدان کے احاطے میں جامع مسجدمکی میں ہوا جس میں طلباء کے علاوہ اساتذہ کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ صوبائی سطح پر منعقد ہونے والے مقابلوں میں فارسی، عربی، بلوچی اور انگریزی زبانوں میں تقاریر اور مقالات پیش کیے گیے۔ اس تقریب کا انعقاد دارالعلوم زاہدان اور ’شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان‘ کے ذمہ داروں نے کیا۔

چارزبانوں میں تقریروں اور مضامین کے علاوہ دینی نظموں، مشاعرہ اور طلبہ مجلوں کا مقابلہ بھی منعقد ہوا۔ تقریب کے اختتامی پروگرام میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن جیتنے والے طلباء کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔

افتتاحی تقریب میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی نے ایسے مقابلوں کے انعقاد کو طلبہ کی صلاحیتوں کو تقویت کرنے اور پروان چڑھانے کیلیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا: آپ معاشرے کے مستقبل کے رہ نما ہیں اور قلم و زبان آپ کا ہتھیار ہے۔ امت کی صحیح قیادت کیلیے زورِ زبان و قلم بڑھانا چاہیے۔

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: ذرائع ابلاغ پوری دنیا میں راج کرتے چلے آرہے ہیں۔ لوگ مختلف مقاصد کے حصول کیلیے میڈیا کا استعمال کرتے ہیں؛ داعیان دین اور علمائے کرام کو بھی اس سلسلے میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ انہیں اسلام کی مبارک اور تابندہ تعلیمات دنیاوالوں تک پہنچانا چاہیے اور اس کا آسان ترین راستہ ذرائع ابلاغ کا استعمال ہے۔

چودھواں مقابلہ حسن تقریر و مضمون نویسی دو مختلف جگہوں پر منعقد ہوا، فارسی اور بلوچی زبانوں میں شرکت کرنے والے طلباء جامع مسجد مکی کی پہلی منزل میں جبکہ عربی اور انگریزی میں مقابلہ کرنے والے طلبا مسجد کی دوسری منزل میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

سرپرست دارالافتا دارالعلوم زاہدان مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی نے اختتامی پروگرام میں طلبہ و اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسلام کی تبلیغ اور اصلاح و دعوت کا حیاتی کام خواص امت کی ذمہ داری ہے۔ علمائے کرام کو عوام سے براہ راست رابطہ میں رہنا چاہیے۔ علماء کو سمرقند و بخارا کے اہل علم اور مدارس و خانقاہوں کے انجام سے سبق لینا چاہیے۔ اُن علاقوں کے علماء نے عزلت اور گوشہ نشینی اختیار کی، عوام سے لاتعلق رہے؛ جب کمیونسٹوں نے یلغار کی تو ان کا سب سے پہلا ٹارگٹ مدارس و مساجد، علما اور ان کی خانقاہیں تھیں۔

عالمی میگزین ’ندائے اسلام‘ کے مدیراعلی نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کو بغور مطالعہ کریں۔ بعض علماء کی غلط نگرانی اور بندوبست کی وجہ سے بغداد میں 18 لاکھ افراد وحشی تاتاریوں کے ہاتھوں مارے گئے، شہر کی کل آبادی 25لاکھ تھی! علماء کو ہمیشہ لوگوں اور معاشرے سے تعلق رکھنا چاہیے۔

انہوں نے مزیدکہا: صرف پختہ خطیب و مقرر بننا کافی نہیں۔ خطباء و لکھاریوں کو سوزِ درون اور آہِ سحر کی ضرورت ہے؛ انہیں ہمیشہ اللہ کی یاد میں رہنا چاہیے اور ذکر و دعا کا سہارا لیکر اپنا مشن آگے بڑھانا چاہیے۔

آخر میں چودھواں مقابلہ حسن تقریر و مضمون نویسی میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن جیتنے والے طلبہ کے ناموں کا اعلان کیاگیا۔ کامیاب طلبہ کو کیش انعامات اور ایوارڈز دیے گیے۔

SunniOnline.us


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں