رپورٹ: سنی سٹیوڈنٹس اور علماء ودانشوروں کی ملاقات

رپورٹ: سنی سٹیوڈنٹس اور علماء ودانشوروں کی ملاقات

گزشتہ ہفتے میں ایرانی اہل سنت کی سب سے بڑی جامع مسجد ’مکی‘ میں سینکڑوں سنی طالب علم اپنے علماء اور دانشوروں سے ملنے کیلیے اکٹھے ہوئے۔ جمعرات 26اپریل کی صبح سے شروع ہونے والی میٹنگ کا عنوان ’’پندرھویں صدی؛ اسلامی بیداری و انصاف طلبی کا طلوع، آمریت وخودپرستی کا زوال‘‘ تھا۔

جلسے کے آغاز میں بلوچستان کے معروف قاری ’قاری اسماعیل رستاخیز‘ نے اپنی خوبصورت آواز میں قرآن پاک کی بعض آیات کی تلاوت کی جس سے اجتماع کی معنویت میں اضافہ ہوگیا۔

تلاوت کلام پاک کے بعد ایک مہمان طالب علم نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے مقالے میں صدراسلام کے مسلمانوں کی قربانیوں اور جاں فشانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے موجودہ بیداری و شعور اور اسلامی ممالک میں انقلابات کو انہی کی محنتوں کا نتیجہ قرار دیا۔

یونیورسٹی کے طالب علم نے ’تزکیہ و اصلاح‘ اور ’غرور و خودپرستی سے پرہیز‘ کو انسان کی ترقی میں سب سے اہم اور مؤثر اسباب قرار دیا خاص کر نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقوں کیلیے جنہیں ان موارد کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے ’فنی اور تجربی علوم میں ناکافی دھیاں‘ کو مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کا اہم سبب قرار دیا۔

اس کے بعد ’محبانِ صحابہ‘ نامی نظم خواں گروپ نے قرآن پاک کی تعریف اور نعت رسول مصطفی صلى الله عليہ وسلم پر مبنی نظم پیش کی جو حاضرین کی داد حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ نظم کے بعد ’’محمد یوسفی‘‘، شریک دورہ حدیث دارالعلوم زاہدان نے اپنا مقالہ پیش کیا جس کا عنوان ’سخنے با دانشجویان‘ (طلبہ سے گفتگو) تھا۔ یوسفی نے یونیورسٹیز کے معزز طلبہ کی جامعہ میں آمد پر انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے دینی مدارس اور عصری جامعات کے طلبہ کے باہمی تعلق کو انتہائی اہم اوراسلامی معاشرے کی ترقی کیلیے ضروری قرار دیا۔
انہوں نے اسلامی تمدن اور تاریخ کے استغناء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مغرب اسلامی تمدن و ثقافت کا خوشہ چیں رہاہے جس نے صدیوں تک اسلامی تمدن سے استفادہ کیا؛ اس لیے طلبہ ہر موضوع میں ان کی پروڈکٹس اور تحقیقات پر اکتفا کے بجائے اسلام کی قابل فخر تاریخ اور اس کی جامعیت کا غور سے مطالعہ کریں، اور اس کے اسباق اور قرآن و سنت کی تعلیمات سے مختلف میدانوں میں ترقی کیلیے فائدہ اٹھائیں۔

شیخ التفسیر مولانا محمدعثمان کی تقریر

’مدینۃ العلوم‘ خاش کے مہتمم اور خاش (بلوچستان) شہر کے خطیب مولانا محمدعثمان نے سورت الکہف کی بعض آیات کی تلاوت سے اپنے خطاب کا آغاز کیا۔
انہوں نے کہا: کیوں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بعض نوجوانوں کی کہانی تفصیل سے ذکر فرمایا؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ نوجوان چار صفات کے حامل تھے: ۱۔ ایمان؛ ۲۔ ایمان پر استقامت اور ان کے دلوں پر ایمان کا ثبت ہونا؛ ۳۔ ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا؛ ۴۔ ہر حال میں اللہ سے استعانت اور مدد مانگنا۔

آیات کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: اگرچہ یہ نوجوان وزیروں اور اہل علم کے بیٹے تھے لیکن قرآن مجید نے اللہ پر ایمان لانے کو ان کی اہم ترین خصوصیت قرار دیا۔

مشاجرات صحابہؓ کیجانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: صحابہ کی اہم خصوصیات میں سے ایک ان کی قوت ایمانی ہے۔ صحابہ رسول صلى الله عليہ وسلم کی تعریف کے بعد قرآن پاک میں ایک ایسی آیت آئی ہے جو ان کے اختلافات و نزاعات کے مسئلے میں فصل الخطاب ہے۔ ’’و نزعنا ما فی صدورھم من غل اخوانا علیٰ سْرر مْتقابلین‘‘ کے نزول کے بعد کسی یہ حق نہیں پہنچتا کہ ان کے نزاعات کے بارے کوئی حکم سنائے۔

مولانا عثمان قلندرزہی کی تقریر پرنور کے بعد ’انصار‘ نعت خواں گروپ نے ایک خوبصورت نعت پیش کی۔ نعت رسول مقبول صلى الله عليہ وسلم کے بعد ایک طالب علم نے اپنے بعض اشعار حاضرین کی خدمت میں پیش کی جو مشہور کتاب ’ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین‘ (مسلمانوں کا عروج و زوال) کو نثر سے نظم میں تبدیل کرچکے ہیں۔

مولانا مفتی قاسمی کا بیان

ممتاز عالم دین اور اہل سنت ایران کے مایہ ناز مفکر مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی دامت برکاتہم کا بیان سنی سٹیوڈنٹس اور علمائے کرام کی میٹنگ کے پہلے سیشن کا آخری حصہ تھا۔

سرپرست دارالافتاء دارالعلوم زاہدان نے مسلمانوں کی ماضی قریب کی تاریخ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: انیسویں صدی میں مسلم قومیں ایک گہری نیند میں تھیں، حالانکہ مغربی دنیا نیا نیا جاگ چکی تھی اور ماضی کے تجربوں کو سامنے رکھ کر ترقی کی منازل طے کررہی تھی جن میں اقتدار کے میدان کو طول دینا بھی شامل تھا۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے عالمی میگزین ’ندائے اسلام‘ کے مدیراعلی نے مزیدکہا: یورپی ممالک نے اپنے سامراجی مقاصد کے حصول کیلیے بطور خاص عالم اسلام کو نشانہ بنایا۔ اس غرض کیلیے تین حساس اور سٹریٹجک علاقوں کو ہدف بنایا گیا؛ ’بر صغیر ہند‘ جو ایک وسیع اور بڑی آبادی والا علاقہ تھا ان کے سامراجی عزائم کا نشانہ بنا۔ دوسرا ہدف ’مصر‘ تھا جو مسلمانوں کا ثقافتی اور فکری مرکز تھا۔ مغرب کا تیسرا نشانہ ’ترکی‘ تھا جو اسلامی خلافت کا قلب تھا۔ سامراجیوں نے برصغیر ہند پر تجارت کے بہانے اور ’ایسٹ کمپنی‘ کے ذریعے قبضہ کیا، جبکہ مصر میں تعلیمی اداروں اور ثقافتی مراکز میں گھسنے اور مسلمانوں کی افکارو ثقافت پر وار کرنے کے ذریعے اپنے پاؤں جمالینے کی کوشش کی۔ ترکی کا زوال بھی اسلامی خلافت کے زوال سے شروع ہوا۔

مفتی قاسمی نے مزیدکہا: سامراجی اور یورپین طاقتوں نے مختلف حیلے بہانوں سے مسلم معاشروں کی نوجوان نسل خاص کر طلبہ کو ہدف بنایا اور ان پر اثرگزار ہوئیں۔ مسلم طلبہ کو مغربی تعلیمی اداروں میں داخل کراکے ان کی برین واشنگ کی گئی، نتیجے میں ایسے طلبہ اسلام بیزار بن گئے جو وطن واپس آکر اسلامی شعائر اور علماء کی استہزا میں لگ گئے۔ یہ لوگ اسلام کے کٹر دشمنوں کی صفوں میں شامل ہوگئے۔ ان نسلوں نے مغربی ثقافت کو اسلامی ثقافت و تمدن کی جگہ پرچار کی، نتیجے میں عالم اسلام ہمیشہ مغربی دنیا کے دست نگر بن گیا۔

استاذ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے سنی سٹیوڈنٹس-علماء کی ملاقات کے تھیم (پندرھویں صدی؛ اسلامی بیداری و انصاف طلبی کا طلوع، آمریت وخودپرستی کا زوال) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: مشرق وسطی میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کی لہر برقرار رہنی چاہیے؛ اس کی حفاظت وصیانت کیلیے بعض نکات کو مدنظر رکھنا چاہیے: 1. قرآن و سنت اور سلف صالح کو اسوہ قرار دینا؛ 2. اعتدال؛ 3. مذکورہ تحریکوں کو اسلامی بنانا؛ 4. انصاف کے نفاذ اور ظلم سے دوری؛ 5. نئے حکام کا تقوا اور زہد؛ 6. سپیشلسٹ اور ذمہ د ار افراد کی تربیت؛ 7. میڈیا اور ذرائع ابلاغ کا استعمال۔

آخر میں مفتی محمدقاسم قاسمی نے کہا: مشرق وسطی کے انقلابات کیلیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کہیں یہ ’اسلامی بیداری‘ وقت گزرنے کے ساتھ ’اسلامی بیزاری‘ میں بدل نہ جائے۔ یہ خطرہ اس وقت زور پکڑے گا جب مذکورہ بالا نکات کو نظرانداز کیاجائے۔

حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی تقریر

اختتامی پروگرام میں تلاوت کلام اللہ کے بعد مہتمم دارالعلوم زاہدان اور خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید حفظہ اللہ نے حاضرین سے خطاب کیا۔
اپنے بیان کے پہلے حصے میں انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عظیم شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا: ابراہیم علیہ السلام تمام ادیان و مذاہب کے یہاں واجب الاحترام ہیں، سب کی کوشش ہے ان کی طرف اپنی نسبت کریں اور اس پر انہیں فخر ہے۔

اسلام اور مسلمانوں کو ابراہیم علیہ السلام کے حقیقی پیروکار قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: یہودی، عیسائی اور مشرکین مکہ خود کو ’ابراہیمی‘ گردانتے تھے؛ لیکن قرآن پاک نے تصریح کردی کہ ابراہیم علیہ السلام ہرقسم کی خرافات و بدعات سے دور تھے اور راہ راست اور دین حنیف کے متبع تھے۔ ان سے قریب ترین اسلام، نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم اور مسلمان ہیں۔ اسی لیے ملت ابراہیم اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

ممتاز عالم دین نے مزیدکہا: آپ کی خدمت میں تلاوت کی گئی آیت کی رو سے جو دین ابراہیمی اور اسلام سے انحراف کرتا ہے وہ نادان او سفیہ ہے، اگرچہ بظاہر فلاسفر، سیاستدان اور موجد ہی کیوں نہ ہو۔ بشر اللہ کی عبادت و بندگی کیلیے پیدا کیا گیا، مادیات، شکم پرستی اور ٹیکنالوجی یا ایٹم بم بنانے کیلیے پیدا نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ تمام کائنات اور اشیاء انسان کی خدمت کیلیے ہیں۔

حضرت شیخ الاسلام نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ اللہ کی معرفت حاصل کریں لیکن یاد رکھیں اللہ کی محض معرفت ناکافی ہے؛ بلکہ ’تسلیم‘ ہونے کی ضرورت ہے۔ اللہ کی احکامات پر پابندی سے عمل کریں۔ اسلام و قرآن پر سختی سے عمل کریں۔ قرآن کل بھی معجزہ تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی معجزہ رہے گا جس کے احکامات تمام زمانوں مین کارگر ہیں۔

انہوں نے ’مختلف علوم میں تخصص حاصل کرنے‘ کو قوموں کی ترقی کا اہم سبب گردانتے ہوئے گویا ہوئے: کوئی بھی قوم مختلف علوم میں مہارت اور تخصص حاصل کرنے کے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتی۔ تمام علوم چاہے دینی ہوں یا عصری ہمارے لیے ضروری ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کو ماڈرن سائنس پر فخر ہے، لیکن اگر آپ نے ان علوم میں مہارت حاصل کی تو آپ ان سے آگے بڑھیں گے چونکہ آپ کے پاس شریعت اور اسلام کا سرمایہ ہے جس کیلیے دنیا تڑپتی ہے۔

ایرانی اہلسنت حکومت اورشیعہ کیلیے خطرہ نہیں ’موقع‘ ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں بعض ملکی حالات اور اہل سنت کے مسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے ایرانی سنی برادری کو حکومت اور شیعہ کمیونٹی کیلیے ’موقع‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے: حکومت کو اہل سنت سے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہیے؛ جو لوگ ایسی رپورٹس شائع کرواتے ہیں کوتاہ نظر اور مغرض ہیں۔

جامع مسجد مکی میں سنی سٹیوڈنٹس کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: کچھ عناصر حکام کو رپورٹیں بھیجتے ہیں کہ سنی برادری موجودہ رجیم کیلیے ’بالقوہ‘ اور محتمل خطرہ ہے لہذا سنیوں کو ایک دوسرے سے تعلق قائم کرنے سے روک دیں! ہم ایسے سفیہ و نادان لوگوں سے اللہ کے دربار میں شکایت کرتے ہیں۔ ہم قانون سے ورا کچھ نہیں چاہتے۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا: ایران کی سنی برادری حکومت کیلیے موقع ہے، بشرطیکہ ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے، رجیم نعروں پر اکتفا مت کرے اور اتحاد کیلیے عملی اقدامات اٹھائے، ہمارے بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت فراہم کرے اور عہدوں کی تقسیم کے موقع پر یکساں نگاہ رکھے، سنیوں سے امتیازی سلوک بند کرے؛ ایسی صورت میں ایرانی اہل سنت اسلامی اتحاد کیلیے پوری دنیا میں بہترین کردار ادا کرسکتاہے۔

مولانا عبدالحمید نے سنی یونیورسٹی طلبا کی علمائے کرام و دانشوروں سے ملاقات کی خاطر بعض مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: بعض صوبائی حکام کا کہنا ہے طلباء سے ملاقات کیلیے باقاعدہ اجازت طلب کرنی چاہیے چونکہ وہ ہمارے اجتماع کو قانون کیخلاف سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ہماری یہ ملاقات مدارس و یونیورسٹیز کے اتحاد کے ضمن میں ہے؛ جو مصروفیات کے بناپر سال میں ایک مرتبہ ہوا کرتی ہے اور اس کے آخر میں کوئی بیان یا مطالبات کی فہرست شائع نہیں ہوتی۔ مسجد میں جمع ہوکر روحانی ملاقات کرنا ہرگز کانفرنس یا میٹنگ نہیں ہے۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: دنیا کے کسی بھی کونے میں ایسا قانون نہیں ہے کہ کوئی شہری اپنے ملک کے دوسرے صوبے کا سفر کرے تو اس سے داخلہ کی اجازت نامہ یا ویزا طلب کیاجائے۔ بعض حکام کی تنگ نظری کی وجہ سے بہت سارے طلبا و دانشور آج کی ملاقات میں شریک نہیں ہوسکے۔ حکام سے ہماری درخواست ہے کہ اہل سنت کو دیکھ لیں، اہل سنت ایک حقیقت ہے، ان کے وجود اور حقوق کا انکار ناممکن ہے جیسا کہ شیعوں کے وجود اور حقوق کا انکار ممکن نہیں۔ ایران مین آباد سنیوں کی تعداد کے بارے میں متعدد اور متضاد ارقام پیش ہوتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم کم ازکم پوری آبادی کی بیس فیصد ہیں یعنی ایران کی آبادی کا پانچواں حصہ۔ کوئی ہمارے حقوق کا انکار نہیں کرسکتا۔

مہتمم دارالعلوم زاہدان، ایرانی اہلسنت کا عظیم ترین دینی ادارہ، نے مزیدکہا: اہل سنت افراط و تفریط کی راہ پر نہیں، اعتدال، عقل و فکر ان کا راستہ ہے۔ ہم اپنے قانونی حقوق و آزادیوں پر زور دیتے رہیں گے اور پرامن طریقے سے اس کیس کی پیروی کریں گے۔ ہمارا خیال ہے اہل سنت ہر تعلیی ادارے اور عسکری مراکز میں پریشانی کے بغیر باجماعت نماز ادا کرنے کی آزادی حاصل کرے۔ ہماری باتوں میں اتحاد کیخلاف کوئی بات نہیں صرف اتحاد و یکجہتی کی بات کی جاتی ہے۔

حکام کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: موافقین و مخالفین سب کی بات سننی چاہیے، وہ لوگ جو جیلوں میں ہیں یا دیگر مذاہب و قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی بات بھی سن لیں۔ ہماری یہ درخواست مشرق وسطی میں کامیاب انقلابیوں سے بھی ہے، تیونس، لیبی، مصر اور یمن کی انقلابی قوتیں بھی پوری قوم کو اعتماد میں لیں، فراخدلی کا مظاہرہ کریں اور تمام ادیان کے پیروکاروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ ہمارے حکام بھی یاد رکھیں کہ ان کی بقا و پایداری کا راز نگاہ کی وسعت اور تمام شہریوں کے حقوق کی پاسداری میں ہے۔

ایران کی مختلف یونیورسٹیز کے سنی طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے نامورسنی عالم دین نے کہا: معیشت اور مادی مقاصد کیلیے علم حاصل نہ کریں۔ بلکہ تمہارا مقصد تعلیم کے حصول سے معاشرے کی خدمت ہونی چاہیے، اس طرح معیشت کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ بعض طلبا شکایت کرتے ہیں ہمارا کوئی مستقبل نہیں، چونکہ ہمیں ملازمت نہیں دی جاتی تو ہمیں مزید پڑھنے کی ہمت نہیں ہوتی! میرا جواب یہ ہے کہ دانش کا حصول ملازمت کیلیے نہیں ہونا چاہیے، تمہارے مقاصد دیگر لوگوں کی اغراض سے زیادہ اعلی ہوں۔ حالات ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے اور اللہ تعالی حالات میں تبدیلی لائے گا۔

انہوں نے مزیدکہا: بیٹے اور بیٹیاں اس محفل میں شریک ہیں؛ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ معاشرے میں ہماری عزت و آبرو ہیں۔ عفت و پاکی، شریعت پر عمل اور اخلاقی مسائل میں دوسروں کیلیے اسوہ و نمونہ بن جائیں۔ یہ شرم کی بات ہے کہ اگر کوئی سمجھتا ہے بے پردگی اور عریانیت سے ترقی حاصل ہوتی ہے۔ ترقی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ حجاب اور حیا کو دور پھینکا جائے اور عریانیت کا مظاہرہ کیا جائے۔ آپ خدانخواستہ ایسی راہ پر نہ چلیں جو ہمارا رستہ نہیں اور انحراف شمار ہوتاہے۔ وہ دن دور نہیں کہ آپ بھی ان شاء اللہ اس معاشرے میں کلیدی کردار ادا کرنے اور خدمت کرنے کا موقع پائیں گے۔

شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان کے سرپرست اعلی نے مزید کہا: یہ دنیا بے وفا ہے، آمریت و خودپرستی کا انجام فنائیت ہے۔ معاصر تاریخ میں حسنی مبارک، قذافی و۔۔جیسے آمر باہمت خواتین و نوجوانوں کی محنتوں اور قربانیوں کی وجہ سے سقوط کا شکار ہوئے۔ مشرق وسطی میں نوجوان مرد وخواتین انقلابات کے سرخیل تھے اور ہیں۔

ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: ہم کسی شیعہ کو اپنی برادری میں داخل نہیں کرنا چاہتے، بلکہ ہم اپنی ہی مذہبی و قومی شناخت کی حفاظت کیلیے تگ ودو کررہے ہیں، ہمارا خیال ہے ہر برادری کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی دینی و قومی شناخت کی پاسبانی کرے۔ ہم اپنے لباس کی تبلیغ نہیں چاہتے بلکہ ہر برادری اپنے لباس کی پاسداری کرسکتی ہے۔ جو قومیں شناخت سے محروم ہوں وہ مردہ قومیں ہیں۔

اجتماع کے حاشیہ میں:

جامع مسجد مکی زاہدان میں سنی طلبا کے اجتماع کے اصلی اور مقررہ پروگرامز کے علاوہ بعض ضمنی سرگرمیاں اور واقعات بھی پیش آئے:
1. جمعرات کی دوپہر سے لیکر مغرب تک علماء و طلباء کے درمیان سوال وجواب کی نشست کا انعقاد؛
2. دارالعلوم زاہدان کے میدان میں کتابوں کی نمائش؛
3. مقابلہ مشاعرہ؛
4. سکیورٹی حکام کی جانب سے بعض سنی طلبہ اور اساتذہ کو زاہدان کی طرف نہ آنے دینا اور علماء سے ملاقات میں رکاوٹ ڈالنا۔

رپورٹ: SunniOnline.us


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں