رپورٹ: سیستان وبلوچستان کے مدارس کے مہتممین کااجلاس

رپورٹ: سیستان وبلوچستان کے مدارس کے مہتممین کااجلاس

گزشتہ ہفتے میں ایران کے صوبہ سیستان وبلوچستان کے سرکردہ علمائے کرام اور ’شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان‘ کے ممبر مدارس کے مہتممین کا اہم اجلاس دارالعلوم زاہدان کے احاطے میں منعقد ہوا۔

اجلاس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا محمدیوسف حسین پور کررہے تھے۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد صدر شورائے مدارس اہل سنت حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے حاضرین کو خوش آمدید کہتے ہوئے تمام علماء خاص طور پر مولانا محمدیوسف حسین پور کا شکریہ ادا کیا جو علالت کے باوجود اجلاس میں شرکت کیلیے زاہدان پہنچ چکے تھے۔

اس کے بعد ’’شورائے مدارس‘‘ کے بعض ذمہ داروں نے اپنی رپورٹیں پیش کیں اور تعلیمی سال کے دوسرے ٹرم کا آڈٹ بیان کیا۔ اس کے علاوہ استاذ الحدیث دارالعلوم زاہدان مولانا مفتی قاسمی اور مولانا عزیزاللہ دورانی نے اپنی تجاویز حاضرین کی خدمت میں پیش کی۔

حضرت شیخ الاسلام کا بیان
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان نے اپنی گفتگو کا آغاز قرآنی آیت: ’’و جاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھو اجتباکم‘‘ کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: آج شہروں، قصبوں اور بستیوں میں دیکھنے میں آتاہے کہ عوام علمائے کرام کو انبیا کا وارث سمجھتے ہیں اور ان سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام نے اپنی جان ومال کی قربانی دی تا کہ عوام کو نجات دلائیں۔ انہوں نے معاشرے کی راحت و سکون کیلیے ہر طرح کی مشکلات برداشت کی۔

مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: جس قدر لوگ آپ علماء سے توقع رکھتے ہیں کسی اور برادری سے اتنی توقع نہیں کرتے۔ عوام کا تصور یہ ہے کہ دوسرے لوگ شاید بِک جائیں اور ان کے مفادات کو خاطر میں نہ لائیں لیکن علمائے کرام وطن فروش ہیں نہ دین فروش! وہ اپنی راحت دوسروں کی آسایش پر ترجیح نہیں دیتے۔ علماء اپنے بال بچوں کی پوزیشن نہیں دیکھتے بلکہ موم بتی کی طرح خود جلتے ہیں تاکہ دوسروں کو روشنائی مل جائے۔

انہوں نے مزیدکہا: حدیث شریف ’’کلکم راع و کلکم مسؤل عن رعیتہ‘‘ کی رو سے علمائے کرام لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کیلیے کوشش کریں، عوام کیلیے پیش امام یا خطیب و مدرس ہونا ناکافی ہے بلکہ انہیں ایک شفیق خیرخواہ کی ضرورت ہے جو دن رات ان کا خیال رکھے تاکہ غفلت کا شکار نہ ہوں۔ علماء و مدرسین مدارس و مساجد کی چاردیواری تک محدود نہ ہوں۔ آج اگر صوبے میں دینی بیداری نظر آتی ہے اور عوام اسلام کے شیدائی ہیں تو یہ ہمارے علماء کی شاندار خدمات کا نتیجہ ہے جن کے سرخیل مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ ہیں۔ وہ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لہذا اب آپ کی باری ہے کہ آستین ہمت اوپر چڑھاکر عوام کی ہدایت کیلیے محنت کریں۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے صوبے کے علماء کی یکجہتی و اتحاد کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا: ہمارے علماء اینٹی رجیم نہیں ہیں اور ان کی خواہش اسلامی بھائی چارہ اور اتحاد کا فروغ ہے۔ آج اگر ملک میں قومی و مذہبی اتحاد محسوس ہوتاہے تو یہ علماء کی موثر کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہیں علماء کی وجہ سے تمام انتخابات میں گھاگھمی دیکھنے میں آتی ہے۔ اگر علماء پیچھے ہٹ جائیں تو بہت کم ٹرن آؤٹ سے امیدوار حضرات کامیاب ہوتے ہیں۔

ایرانی اہل سنت کسی بھی پارٹی یا تحریک سے وابستہ نہیں

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں ایران کی سنی برادری کے استقلال و عدم وابستگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایران کی سنی برادری کسی بھی پارٹی سے وابستہ نہیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ بعض پارٹیوں سے ان کے خیالات و افکار زیادہ قریب ہوں لیکن ہرحال میں اہل سنت اپنے فیصلوں اور مطالبات کی پیروی میں مستقل ہے اور کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتی ہے۔ ہمارا موقف میانہ روی ہے اور ہم افراط و تفریط سے دور ہیں۔

’’مذہبی آزادی‘‘ کو سنی برادری کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: ہمیں ’’مذہبی آزادی‘‘ کی شدید ضرورت ہے اور ہمارا مطالبہ بھی یہی ہے، آئین نے جو آزادی ہمارے لیے مقرر کیا ہے ہمارا مطالبہ بھی وہی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

حضرت شیخ الاسلام نے ’’شیعہ وسنی کی برابری‘‘ کو اہل سنت کا دوسرا اہم مطالبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: جیسا کہ بانیء انقلاب نے کہا تھا کہ ’شیعہ وسنی بھائی بھائی ہیں اور حقوق میں برابر‘ ہم بھی برابری کا خواہاں ہیں اور امتیازی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

دینی مدارس کا استقلال ہر صورت میں محفوظ رہنا چاہیے

صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان نے مدارس کے استقلال کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے کہا: آپ علماء کے اتحاد کی برکت سے مدارس کی آزادی محفوظ رہی۔ ہمارا خیال ہے اگر ہماری اولاد ہمیں چھوڑدیں، بیوی طلاق مانگے اور بھوک سے پیٹ پر پتھر باندھنا پڑے تب بھی ہم مدارس کو کسی بھی حکومت کے حوالے نہیں کریں گے؛ مدارس کی عدم وابستگی سے عقائد کی حفاظت ہوگی اور اس سے اللہ کی رضامندی حاصل ہوگی۔ امت کی خیر بھی اسی میں ہے۔

اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں انہوں نے بعض مشکوک سرگرمیوں کی طرف اشارہ کیا جو اہل سنت کو مسلک کی تبدیلی کیلیے ترغیب دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا: بعض موقع پرست عناصر ہمارے عوام کی ثقافتی و معاشی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور مختلف حیلوں میں ان کے عقائد بدلنے کی کوشش کرتے ہیں؛ رپورٹس کے مطابق بعض مقامات پر صحت کی فراہمی کے روپ میں سنی عوام کے عقائد بدلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ یا ایک ان پڑھ و نادان شخص کو ٹی وی سکرین پر لاتے ہیں جو تسنن سے تشیع کی طرف منتقلی کی کہانی سناتاہے اور پھر اہل سنت والجماعت کے عقائد پر وار کرتاہے، بے بنیاد الزامات اور جھوٹوں کے سہارے گمراہ سازی مہم چلائی جاتی ہے۔ ہم ایسے اوچھے ہتکھنڈوں کے مخالف ہیں جو دوراندیشی کے خلاف ہیں۔ ہم نے کبھی کسی کو منظرعام پر نہیں لایا کہ یہ شخص سنی ہوچکاہے۔ ہمارا خیال ہے لوگ آزاد ہیں کہ تحقیق کریں اور جس بات کو صحیح سمجھتے ہوں اسی کو مان لیں۔

مولانا عبدالحمید نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض بستیوں میں سنی عوام کو مسجد تعمیر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور حکومتی اداروں کی جانب سے رکاوٹیں سنی مسلمانوں کیلیے دردسر بن چکی ہیں۔ بستیوں میں ہزاروں تعمیراتی کام رسمی اجازت کے بغیر انجام پاتے ہیں لیکن مسجد کی تعمیر کیلیے پرمٹ لینے کا کہاجاتاہے جو آئین کی کسی بھی شق میں نہیں آیاہے۔ ایسی چیزوں پر حساس ہونا جاہلانہ فعل ہے۔

ہمارے علماء ’مولوی جنگیزہی‘ کے قتل میں ملوث نہیں

مولانا عبدالحمید کے بیان کے بعد ’سرباز‘ کے ایک عالم دین نے ’راسک‘ اور ’پارود‘ کے خطبا مولانا نقشبندی اور مولوی عبداللہ ملازادہ کی گرفتاری پر گہری پریشانی کا اظہار کیا جو حکومت نواز مولوی جنگیزہی کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام پر گرفتار ہوئے ہیں۔ انہوں نے حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید سمیت دیگر موجود علماء سے درخواست کی کہ ان کی رہائی کیلیے کوشش کریں۔

مولانا عبدالحمید نے ان کے جواب میں کہا: مولانا نقشبندی خطے کے تجربہ کار اور سرگرم علماء سے ہیں جنہوں نے شدید مشکلات برداشت کرتے ہوئے راسک کی جامع مسجد تعمیر کروائی۔ یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ مولوی نقشبندی جیل میں ہو اور ان کی جگہ کوئی اور شخص مسجد میں امامت و خطابت کرے۔ ہمارے علماء انتہاپسندی کے مخالف ہیں اور صوبے کی تاریخ میں کبھی بھی علما نے کسی کے قتل میں حصہ نہیں لیاہے۔ ایسے میں معلوم نہیں کیوں مولوی علی دہواری کے قاتل گرفتار نہیں ہوئے جو چند برس پہلے شہید ہوئے۔

آخر میں اجلاس میں موجود علمائے کرام نے صوبائی گورنر اور دیگر متعلقہ اداروں کے نام ایک خط لکھا۔ خط میں حکام سے جلداز جلد گرفتار علماء کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں