آج : 24 April , 2012

رپورٹ: گیارھواں بین الصوبائی مقابلہ حسن قرائت و حفظ قرآن

رپورٹ: گیارھواں بین الصوبائی مقابلہ حسن قرائت و حفظ قرآن

زاہدان(سنی آن لائن) گیارھواں مقابلہ حسن قرائت و حفظ قرآن جو ایرانی اہل سنت کے دینی مدارس کی سطح پر منعقد ہوتاہے، تین دن تک جاری رہنے کے بعد دارالعلوم زاہدان میں اختتام پذیر ہوچکاہے۔
’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے طلباء منگل سترہ اپریل 2012ء کی صبح دارالعلوم زاہدان پہنچے تھے جہاں گیارھواں مقابلہ حسن قرائت و حفظ قرآن مجید آغاز ہوا۔ مذکورہ محفل جمعرات انیس اپریل تک جاری رہی تھی۔
اصحاب مدارس نے بے مثال گرمجوشی کا مظاہرہ کیاتھا چنانچہ 180 طلباء مختلف صوبوں بشمول خراسان جنوبی، خراسان رضوی، سیستان بلوچستان، کردستان اور ہرمزگان سے زاہدان آ پہنچے تھے جہاں انہوں نے حسن قراء ت و حفظ قرآن میں مقابلہ کیا۔
افتتاحی پروگرام میں سرپرست دارالافتاء دارالعلوم زاہدان مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے قرآن پاک کے موضوع اور اخلاص کی ضرورت کے حوالے سے بعض اہم نکات پیش کیے۔ انہوں نے قرا و حفاظ حضرات کے استغنا، حب دنیا و شہرت پرستی سے اجتناب پر زور دیا۔
اختتامی پروگرام اور فائزین میں تقسیم انعامات کے موقع پر قاری محمدامین اسدی نے اپنی خوبصورت آواز میں قرآن پاک کی تلاوت سے حاضرین کی داد حاصل کیا جبکہ ’’انصار‘‘ نظم خواں گروپ نے ایک نظم پیش کی۔
نظم و تلاوت کے بعد خطیب اہل سنت و مہتمم دارالعلوم زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے حاضرین سے خطاب کیا۔
حضرت شیخ الاسلام نے تقریب کے ذمہ داروں کو مشکلات سہنے پر شاباش دیتے ہوئے گویاہوئے: اللہ کی راہ میں مشکلات برداشت کرنا بہت مسرت بخش اور دلکش ہے۔ ہمارے تمام کاموں کی روح اخلاص ہے اور ہمارا مقصد اللہ کی رضامندی کا حصول ہے۔ اس راستے میں ہر طرح کی مشکلات و سختی منفعت اور سودمند ہوتی ہیں اور ان کی برداشت آسان ہوتاہے۔ اسی لیے قراء کرام اور ائمہ مساجد کو میری نصیحت یہ ہے کہ تلاوت و قرائت کے موقع پر اللہ کی جانب متوجہ ہوں اور رضائے الہی ان کا مقصد ہو۔ جو پیش امام ہوتے ہیں انہیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ کون ان کے پیچھے اقتدا کرتے ہیں بلکہ اللہ کی طرف دھیان کریں۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے انسانوں کو پھنسانے کیلیے شیطانی حیلوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: شیطان ہر شخص کو دھوکہ دینے کیلیے اسی کے لباس میں ظاہر ہوتاہے اور اسی راستے سے اسے فریب دیتاہے۔ مولوی، حافظ اور قاری کو بہکانے کیلیے شیطان وسوسہ ڈالتاہے کہ تم صاحب علم ہو اور تمہارا مقام بہت اونچا ہے! حفاظ کرام کو دغا دینے کیلیے وسوسہ کرتاہے کہ تم تراویح پڑھا کر پیسہ اور شہرت کماتے ہو۔ قاری کو وسوسہ کرتاہے تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے اور لوگ واہ واہ کرکے تیری تعریف کرتے ہیں۔ اس لیے ہم سب کو ہوشیاری و بیداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے؛ شیطان کی چالیں خطرناک ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیں دھوکہ دینے کے درپے ہے۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے قرآن پاک کو ’’عظیم ترین گنج‘‘ قرار دیتے ہوئے مزید گویاہوئے: قرآن پاک ہمارے لیے سب سے بڑا گنج اور خزانہ ہے۔ اگر مسلمان قرآن کو سمجھ لیں اور اس کے روشن احکامات پر عمل کریں تو پوری دنیا ان کے سامنے جھک جائے گی۔ اگر مسلم معاشرے کے حضرات و خواتین قرآن پاک کے الفاظ و مفاہیم سے بیخبر ہوں، ان پر عمل پیرا نہ ہوں اور قرآن مجید پر ضروری اعتقاد نہ رکھتے ہوں تو وہ حقیقی مسلمان نہیں بن سکیں گے، ان کی مثال ’غثاء السیل‘ (سیلاب کے جھاگ) کی ہوگی۔ مسلمانوں کو قرآن کے الفاظ و معارف پر توجہ دیکر ان پر عمل کرنا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی نے علماء و قراء کو احکام الہی پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ہم سب کو اللہ تعالی کے احکام و دستورات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنا چاہیے۔ جو شخص علم کی نعمت سے سرفراز ہو مگر اسے دنیا کی راہ میں لگادے تو اس کا مطلب ہوگا اس نے اپنی پوری فصل آگ لگادی۔ علماء و قراء اخلاص و للہیت کیساتھ دینی احکام کی تبلیغ کریں۔
شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان کے سرپرست اعلی نے ’لادین قوموں‘ کو ’مردہ اقوام‘ قرار دیتے ہوئے کہا: مردہ قومیں وہی ہیں جو دین اور علم کی نعمت سے محروم ہیں؛ نیز جس قوم کے پاس علم ودین کا سلاح ہو مگر تخلیقی صلاحیت نہ ہو اس قوم کو ترقی یافتہ نہیں کہاجاسکتا۔ علمائے کرام اور قراء حضرات اپنی سرگرمیوں میں ایجادی کام دکھائیں اور اپنی تخلیقی صلاحیت بروئے کار لائیں۔ اساتذہ کوشش کریں تدریس کے میدان میں نئی راہیں اور طریقے کیا ہوسکتے ہیں۔ ترقی اس وقت حاصل ہوسکتی ہے جب ماضی کے تجربوں اور عصرِحاضر کی تحقیقوں سے استفادہ کیاجائے۔
آخر میں حضرت شیخ الاسلام نے مذکورہ تقریب کے ذمہ داروں کو مشورہ دیا کہ اس جیسے مقابلوں کی تقاریب کیلیے مستقل دفتر کھولاجائے۔ اس طرح مقابلوں کی نظم و ترتیب میں بہتری آئے گی۔
مقابلوں کے اختتامی پروگرام فائزین میں انعامات کی تقسیم اور استاذالحدیث دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالرحمن محبی کی عاجزانہ دعا سے مکمل ہوگیا۔
گیارھواں مقابلہ حسن قراء ت و حفظ قرآن کریم میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والوں اور ان کے متعلقہ مدارس کے نام جنہوں نے مختلف پیمانوں پر مقابلہ کیا درج ذیل ہیں:

حْسن قراء ت:
پہلی پوزیشن: فاضل مجدی، دارالعلوم زاہدان؛
دوسری پوزیشن: فاروق اربابی، منبع العلوم کوہ ون، سرباز؛
تیسری پوزیشن: احمدریگی، دارالعلوم امام ابوحنیفہ زابل۔

حفظ قرآن کامل (نوجوان):
پہلی پوزیشن: احمد عزیزی، دارالعلوم خلیل آباد خواف خراسان؛
دوسری پوزیشن: حسام الدین کریم زایی، جامعۃ الحرمین چابہار؛
تیسری پوزیشن: احمد خواجہ احمدی، مدرسہ دینی بیرجند۔

حفظ قرآن بیس پارے (نوجوان):
پہلی پوزیشن: عبدالباسط تشت زرین، دارالعلوم زاہدان؛
دوسری پوزیشن: نعیم اللہ میربلوچ، دارالعلوم زاہدان؛
تیسری پوزیشن: علی شیخ جامی۔ دارالعلوم احناف تایباد، خراسان۔

حفظ قرآن کامل (نابالغ بچے):
پہلی پوزیشن: میکائیل ریگی، دارالعلوم زاہدان؛
دوسری پوزیشن: نذیر رنگیدن، دارالعلوم عزیزیہ انزاء (سرباز بلوچستان)؛
تیسری پوزیشن: محمود زاروزہی، مدرسہ عبداللہ بن عباس زاہدان۔

حفظ قرآن بیس پارے (نابالغ بچے):
پہلی پوزیشن: مرتضی عرب، ترتیل القرآن زاہدان؛
دوسری پوزیشن: ابوذر آبتین، دارالتحفیظ مسجد النبی مشہد؛
تیسری پوزیشن: عارف رحیمیان، دارالعلوم احناف خواف۔

حفظ قرآن دس پارے (نابالغ بچے):
پہلی پوزیشن:احمد نوذری، تحفیظ القرآن زاہدان؛
دوسری پوزیشن: سعید شریفی، بدرالعلوم زاہدان؛
تیسری پوزیشن: محمود عظیمی فر، دارالعلوم احناف خواف۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں