آج : 19 February , 2012

’نامزد امیدواروں کومحدود کرنے سے ووٹرزکی تعداد کم ہوگی‘

’نامزد امیدواروں کومحدود کرنے سے ووٹرزکی تعداد کم ہوگی‘

ایرانی اہل سنت کے ممتاز رہنما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے حالیہ خطبہ جمعہ کیدوران آنے والے ایران کے پارلمانی انتخابات کو گزشتہ انتخابات سے کئی جہات سے مختلف قرار دیا۔

انہوں نے کہا: اس مرتبہ متعدد سیاسی دھڑے اور عوامی سیاستدان میدان میں موجود نہیں ہیں، درحقیقت اس اکثریت کو جان بوجھ کر وادی انتخابات سے دور رکھا گیا، بعض سیاستدان ’آئین کی سرپرست کونسل‘ (شورائے نگہبان) کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے خوف سے رجسٹریشن ہی کی ہمت نہ کرگئے۔ جبکہ متعدد قابل شخصیات کی اہلیت مسترد ہو گئی۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: ہم پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ سرپرست کونسل باڈی جو نامزد امیدواروں کی اہلیت کی چھان بین کرتی ہے کوشش کرے بلاوجہ رجسٹرڈ افراد کو نااہل قرار نہ دے، دانشور، آزاد (جن کا کسی سیاسی گروہ سے تعلق نہیں) اور قابل اشخاص کو انتخابی مقابلے کا موقع دینا چاہیے۔ بصورت دیگر عوام میں مایوسی پھیلے گی اور معاشرہ کا ایک بڑا حصہ ووٹ ڈالنے سے اجتناب کرے گا۔

انہوں نے کہا: پروفیشنل اور سرگرم نمائندے ہی عوام اور ملک کو سخت مشکلات سے نجات دلاسکتے ہیں۔ قابل افراد پارلیمنٹ میں ہوں تو مناسب قانون سازی ممکن ہوگی اور ملک کو صحیح رخ ملے گا۔

اعلی حکام اور سرپرست کونسل کے ذمہ داروں کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا: امیدواروں کی اہلیت صرف اعلی ڈگریوں پر منحصر نہیں ہے، البتہ تعلیم یافتہ اور مخلص افراد کی اہلیت مسترد کرنے سے ووٹوں کی تعداد کم سے کمتر ہوجاتی ہے۔

ممتاز سنی رہ نما نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اس مرتبہ مارچ کے آغاز میں ہونے والے انتخابات میں کسی امیدوار کی حمایت نہیں کروں گا، صوبے کے اندر اور باہر کہیں بھی ہو یہ عوام ہی ہیں جو اپنا حق استعمال کرکے کسی امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ لیکن خیرخواہی کی وجہ سے ایسے مواقع پر خاموشی اختیار کرنے کو ناجائز سمجھتاہوں، متعدد لوگوں کی حق تلفی ہوئی ہے اور انہیں بلاوجہ نااہل قرار دیاگیاہے۔

اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: مجھ سمیت دیگر ائمہ و خطباء اور سرپرست کونسل کے ارکان اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوں کہ صرف ہمیں سیاسی معاملات کی باریکیوں کا علم ہے اور باقی لوگوں کو کچھ پتہ نہیں چلتا کیا کچھ ملک میں ہوتا آرہا ہے! ایرانی قوم ایک زندہ اور سیاسی شعور رکھنے والی قوم کی بہترین مثال ہے۔ عوام کی پسندیدہ شخصیات کو نااہل قرار دیکر انہیں یہ پیغام دیاجاتاہے کہ تمہارے ووٹوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اچھا ہوتا سرپرست کونسل آیت اللہ خامنہ ای کی نصیحت پر عمل کرتی اور بلاوجہ عوامی رہنماؤں کو نااہل قرار نہ دیتی، اگر ایسا ہوتا تو ملک کے حالات کافی مختلف ہوتے۔

افغان باشندوں سے برا سلوک بندکیاجائے

خطیب اہل سنت زاہدان نے زاہدان کے مضافاتی علاقے کے مکینوں کے ایک خط کی جانب اشارہ کرتے ہوئے گویاہوئے: کچھ عرصے سے شکایات موصول ہورہی ہیں کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے افغان باشندوں کی وطن واپسی مہم کیدوران ان سے انتہائی برا سلوک کیاجاتاہے۔ یہاں تک کہ بعض ایرانی شہریوں کو بھی ملک بدر کیاجاتاہے۔ بعض سکیورٹی حکام غلط اطلاعات اور ذاتی دشمنیوں کی بنیاد پر کی گئی مخبریوں کو درست قرار دیکر ایرانی شہریوں کی شہریت مشکوک گردانتے ہیں اور پھر انہیں افغانستان کے بارڈر پر چھوڑ دیتے ہیں۔

مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: کئی موقع پرست لوگ حکام سے مخبری کا معاوضہ لیتے ہیں اور عوام سے ان کی مخبری نہ کرنے کی رشوت؛ یہ لوگ ذاتی چپقلش اور دشمنی کی وجہ سے ایرانی بلوچوں کیلیے مسائل پیدا کردیتے ہیں۔ حکام کو اس حوالے سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ پہلے القاعدہ وجنداللہ یا پھر اسمگلنگ کا الزام لگا کر لوگوں اٹھایا جاتا تھا اب الزامات کی فہرست میں ’افغانی‘ ہونے کا جرم اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا: اٖفغان باشندے ہماے مہمان ہیں، ان سے انسانی سلوک اختیار کرنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی مظلوم کی حق تلفی ہو یا ملک کی بدنامی ہوجائے۔ ایک مرتبہ ایک اکیلی خاتون کو بغیر کسی محرم کے زاہدان سے اٹھاکر افغان بارڈر پر چھوڑدیا گیا، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ زاہدان کی سکیورٹی کونسل سے درخواست ہے اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور آئندہ ایسے اقدامات کی روک تھام یقینی بنادے۔

سکیورٹی فورسز کیجانب سے داڑھی والوں کو تنگ کرنا افسوسناک ہے
زاہدان شہر کے بعض داخلی راستوں پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے باریش افراد کی بلاوجہ تفتیش اور انہیں ہراساں کرنے کی مذموم حرکت پر تنقید کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا: کچھ عرصے سے زاہدان کے داخلی راستوں پر موجود چوکیوں کے اہلکار داڑھی والوں کو بطور خاص گاڑیوں سے اتارتے ہیں اور ان سے فضول تفتیش کرتے ہیں۔ یہ بات عوام کیلیے پریشانی کا باعث ہے۔

انہوں نے مزیدکہا: ہمارا انقلاب اسلامی ہونے کا دعویدار ہے، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای باریش آدمی ہیں اور تمام علمائے کرام داڑھی رکھتے ہیں۔ ہم کسی سیکولر اسلام دشمن ملک میں نہیں رہتے! کسی اسلامی ملک میں داڑھی والوں کو ہراسان کرنا انتہائی بری بات ہے اور یہ ناپسند اقدام ایران کے بعض حکام کی خدمات پر سوالیہ نشان ہے۔

ممتاز سنی عالم دین نے مزیدکہا: زاہدان کے رکن مجلس پیمان فروزش نے ایک شخص کی کہانی سنائی کہ ایک مرتبہ وہ کسی سرکاری محکمے میں نوکری حاصل کرنے کیلیے چلے گئے، تو وہاں موجود ذمہ داران نے انہیں سب سے پہلے’کلین شیو‘ کرنے کا حکم دیا اور پھر اگلے مراحل کو طے کرنے کا مشورہ دیا! میں نے کہا یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ ہم نے تمہارے داڑھی منڈانے پر اعتراض نہیں کیا، آپ الٹا اعتراض کررہے ہیں کہ ہم داڑھی کیوں رکھتے ہیں؟

انہوں نے کہا: سارے لوگ ایک جیسے نہیں ہیں، ہوسکتاہے کوئی داڑھی رکھے مگر گناہ یا خیانت کا مرتکب بھی ہو، ایسی صورت میں جس سے جرم سرزد ہوا ہے صرف اسی کی ٹرائل ہونی چاہیے سارے داڑھی والوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا عقلمندی نہیں ہے۔ علمائے کرام، دینی مدارس کے طلبہ اور تبلیغی جماعت کے کارکن معاشرے کے نیک اور صالح افراد ہیں۔ اسی لیے سکیورٹی حکام احتیاط سے کام لیں اور لوگوں کو بلاوجہ تنگ مت کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں