آج : 1 February , 2012

ایران: مولاناعبدالحمیدپر الزام تراشی سے حکومتی جلسہ ادھورا رہ گیا

ایران: مولاناعبدالحمیدپر الزام تراشی سے حکومتی جلسہ ادھورا رہ گیا

خاش(سنی آن لائن) ایرانی بلوچستان کے شہر خاش میں منعقد حکومتی جلسہ شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اور ممتاز سنی دینی اداروں پر گستاخی اور بعض فرقہ وارانہ بیانات کی وجہ سے نامکمل رہ گیا۔ ’’بصیرت وشفافیت‘‘ کے عنوان سے قائم جلسہ سنیچر28 جنوری کو منعقدہوا تھا۔

’’سنی آن لائن‘‘ کے انتہائی معتبر ذرائع نے کہا وسطی بلوچستان کے شہر خاش کے گورنر نے سنی علما و مقامی قبائلی عمائدین کو مذکورہ میٹنگ میں شرکت کیلیے مدعو کیا تھا. جلسے کی حقیقت اس وقت طشت از بام ہوگئی جب صوبائی انٹیلی جنس چیف کے نائب نے حاضرین کو ایک قیدی کی ریکارڈشدہ ویڈیو کلپ دکھائی جس میں ایک شخص اپنے آپ کو دارالعلوم زاہدان کے فارغ التحصیل اور افغان شہری ظاہر کر رہاتھا۔ قیدی نے بظاہر اعترافی بیان دیتے ہوئے کہا: اس نے جعلی شناختی کارڈ پر دارالعلوم زاہدان میں داخلہ لیاتھا۔

مذکورہ شخص نے دعوی کیا ’جامع مسجد مکی‘ اور ’دارالعلوم زاہدان‘ حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی سربراہی میں ایک تحریک چلارہے ہیں اور سنی برادری کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں، جامع مسجد مکی کے منبر سے اہل سنت کے مطالبات پیش ہوتے ہیں، یہ ’’تحریک‘‘ حکومت پر امتیازی سلوک کا الزام لگاتی ہے اور دعوی کرتی ہے سنی شہریوں کو سرکاری محکموں میں ملازمت نہیں دی جاتی ہے۔

مشکوک ویڈیو کلپ دکھاکر وزارت انٹیلی جنس کے نائب نے حاضرین کو مخاطب کرکے کہا: آپ لوگ امام ابوحنیفہ کے مقلد ہیں، آپ کی ’حنفی حمیت‘ کہاں ہے؟ امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے خطیب و امام حکومت وقت کی اجازت کے بغیر متعین نہیں ہوسکتے؛ مکی مسجد کے منبر سے ایک شخص (مولانا عبدالحمید کیطرف اشارہ ہے) خطبا کیلیے حکومت کی اجازت کو غیرضروری قرار دیتا ہے، تم لوگ کیوں خاموش ہو؟ سوائے چند لوگوں کی باقی علماء نے کیوں چپ سادھ لی ہے؟

سیکورٹی عہدیدار نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے مزیدکہا: ’عطامحمد‘ نامی ایک شخص نے دارالعلوم زاہدان میں داخلہ لینا چاہا، دارالعلوم کے ذمہ داروں نے اس کا نام ’عطاء اللہ‘ میں بدل دیا کہ عطامحمد کا مطلب ہے ’محمد کا دیا ہوا‘۔ کیا یہ وہابیت کا عقیدہ نہیں ہے؟

دریں اثنا جب اعلی سیکورٹی عہدیدار ہرزہ سرائی اور گستاخی میں لگا ہواتھا اور اپنے زعم میں ’مکی تحریک‘ کے اسرار فاش کررہا تھا، خاش کے ممتاز عالم دین اور مدینۃ العلوم خاش کے مہتمم مولانا محمدعثمان قلندرزہی کھڑے ہوکرگویا ہوئے: ہمارا خیال تھا ان حالات میں جب ملک اندرونی و بیرونی بحرانوں میں گھرا ہواہے ہمیں اکٹھا کرکے اسی حوالے سے بات ہوگی، ہمیں پتہ نہ تھا ایک مجہول شخص کے بے بنیاد دعؤوں کو بیناد بنا کر اہل سنت ایران کے سب سے عظیم دینی اداروں کی کردارکشی کی جائے گی۔ ایسے شخص کی باتوں کو سند بناکر پیش کی جارہی ہے جو مجہول ہے اور خود ہی کہتاہے سرکاری کاغذات میں جعل سازی کا مرتکب ہوچکاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دارالعلوم زاہدان اور جامع مسجد مکی ایرانی اہل سنت کی دینی نمائندگی کررہے ہیں، ان اداروں میں ہمیشہ اتحاد کی بات ہوتی ہے فرقہ واریت کی نہیں، اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ سالانہ اسی دارالعلوم زاہدان کے تحت سنی برادری کا اجتماع منعقد ہوتا ہے جس میں اعلی حکام اور عوامی نمائندوں کے علاوہ عام مسلمان شریک ہوتے ہیں اور وہاں صرف اتحاد و یکجہتی کی بات ہوتی ہے۔ وہاں سب کیلیے پرامن زندگی کی بات کی جاتی ہے، اس کے باوجود یہ اجتماع بعض حکومتی عناصر کیلیے ناقابل برداشت ہے۔

مولانا عثمان کی گفتگو کے بعد حکومتی عہدیدار نے پوچھا: مہاجروں کو اپنے مدارس میں کیوں داخلہ دیتے ہو؟ اس کے جواب میں خاش کے دیگر ممتاز عالم دین مولانا محمدگل نے کہا: ایرانی حکومت نے مہاجر خاندانوں کو ایران میں رہنے کی اجازت دی ہے، پھر ہم ان کے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم سے کیسے محروم رکھ سکتے ہیں؟ ہم ان کے سامنے سے قرآن نہیں اٹھا سکتے۔

اس دوران مخزن العلوم خاش کے ایک مدرس مولانا ابراہیم یارمحمدزہی نے انٹیلی جنس عہدیدار کو مخاطب کرکے کہا: انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آپ ایسی شخصیت کے حوالے سے بات کررہے ہیں جو آپ کے منصب کے لائق نہیں ہے۔ آپ اہل سنت ایران کے سب سے بڑے دینی ادارے پر الزام لگاتے ہیں اور ان کے عظیم رہنما کی توہین کرتے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا: کیا اہل سنت کے آئینی اور جائز حقوق کا مطالبہ اسلامی اتحاد کیخلاف ہے؟ شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کے مطالبات پوری سنی برادری کے مطالبات ہیں، کیا یہ بصیرت و شفافیت کا تقاضا ہے کہ ایسے ابتر حالات میں اہل سنت کے عظیم ترین اداروں پر الزام لگایا جائے اور ان کے رہنما کی شان میں گستاخی کی جائے؟

اس کے بعد ’مخزن العلوم‘ کے مہتمم مولانا محمدگل نے کہا: حکومت کو مولانا عبدالحمید کے شکرگزار ہونا چاہیے، چونکہ خطے میں امن کی بحالی اور تمام مسالک کے پیروکاروں کیلیے باہمی برداشت و امن کی زندگی لانے میں ان کا کردار اہم اور محوری رہا ہے۔

یہ کہہ کر مولانا محمدگل احتجاجا جلسہ گاہ سے خارج ہوئے، احتجاج کا دائرہ وسیع ہوگیا اور جلسہ گاہ سے تمام شرکا نے واک آؤٹ کرتے ہوئے غم وغصے کا اظہار کیا۔ میٹنگ روم سے باہر بھی مدعوین نے آواز اٹھائی: گورنر خاش نے ہمیں ایسے جلسے میں آنے کی دعوت کیوں دی جو فرقہ وارانہ ہے؟ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں دھوکہ دیاگیا کہ ’بصیرت‘ کے حوالے سے کوئی جلسہ ہوگا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں