آج : 15 October , 2011

طرابلس کے مرکز میں قذافی نواز اور عبوری حکومت کے حامیوں کے درمیان لڑائی

طرابلس کے مرکز میں قذافی نواز اور عبوری حکومت کے حامیوں کے درمیان لڑائی

طرابلس(ایجنسیاں) لیبیا کے معزول صدر معمر قذافی کے وفاداروں اور عبوری قومی کونسل (این ٹی سی) کے تحت ملیشیا کے درمیان دارالحکومت طرابلس میں جمعہ کو جھڑپ کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ عبوری ملیشیا نے سرت پر قبضے کے لیے دو اطراف سے بھرپور حملہ کیا ہے.
کرنل معمر قذافی کے بیس سے پچاس وفادار جنگجوٶں اور عبوری حکومت کی ملیشیا کے درمیان ابو سلیم کے علاقے میں لڑائی شروع ہوئی تھی جس کے بعد این ٹی سی کے جنگجو پک اپ ٹرکوں پر سوار ہو کر جائے وقوعہ کی جانب جاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق فریقین کے درمیان خودکار ہتھیاروں اور مشین گنوں سے فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا ہے۔
طرابلس کے اس علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ قذافی کے حامیوں نے لڑائی سے پہلے اچانک باہر آ کر نعرے بازی شروع کر دی تھی۔ گذشتہ روز کرنل قذافی نے اپنے ایک آڈیو پیغام میں اپنے پیروکاروں پر زور دیا تھا کہ وہ نماز جمعہ کے بعد مظاہرے کریں اور عبوری حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
لیبیا کی عبوری حکومت کے تحت جنگجوٶں نے قذافی کے آبائی شہر سرت پر قبضے کے لیے دو اطراف سے ایک بھرپور حملہ کیا ہے۔ وہ توپخانے اور بھاری ہتھیاروں سے مسلسل قذافی کے وفادار جنگجوٶں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کر رہے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے “اے ایف پی” نے سرت میں موجود اپنے نمائندے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کو دوپہر ایک بجے کے قریب عبوری ملیشیا نے پولیس ہیڈ کوارٹرز اور ڈالر کے علاقے میں حملہ کیا ہے۔
طیارہ شکن توپوں اور مشین گنوں سے لیس پک اپ گاڑیوں میں سوار جنگجوٶں نے گذشتہ ہفتے کے دوران دو تین مرتبہ سرت میں داخلے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی گئی تھی۔حملہ آوروں پر قذافی کے وفاداروں نے گھات لگا کر مشین گنوں سے فائرنگ کی تھی جس کے بعد وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے تھے۔سرت میں جاری لڑائی میں جمعہ کو عبوری کونسل کی ملیشیا کے دو جنگجو ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔
این ٹی سی کے ایک کمانڈر مصطفیٰ العبید نے بتایا ہے کہ قذافی کے وفادار مسلح جنگجوٶں کو شہر کے ان علاقوں میں محصور کر دیا گیا ہے اور ہم ان پر وقفے وقفے سے فائرنگ کر رہے ہیں۔
نیٹو کے جنگی طیاروں نے گذشتہ روز قذافی کے وفاداروں کے ایک اور مضبوط گڑھ بنی ولید میں چار فوجی گاڑیوں اور ایک راکٹ لانچر کو نشانہ بنایا تھا۔ لیبیا کی نئی فوجی قیادت کے ترجمان نے کہا کہ اتوار کی رات این ٹی سی کے جنگجوٶں کو طرابلس سے ایک سو ستر کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع قصبے کے اگلے مورچوں سے واپس بلا لیا گیا ہے۔ انھوں نے اس پسپائی کو ایک جنگی حربہ قرار دیا ہے۔
سرت اور بنی ولید پر ابھی تک لیبیا کی عبوری حکومت کے تحت ملیشیا کا قبضہ نہیں ہو سکا ہے اور ان دونوں شہروں میں کل کے باغیوں اور آج کے سرکاری جنگجوٶں کو قذافی کے وفاداروں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ بنی ولید پر قبضے کے لیے عبوری قومی کونسل نے گذشتہ ہفتے ایک ہزار جنگجوٶں اور کئی گاڑیوں پر مشتمل کمک بھیجی تھی۔این ٹی سی کی فورسز نے گذشتہ ایک ماہ سے بنی ولید کا محاصرہ کر رکھا ہے لیکن وہ متعدد حملوں کے باوجود کوئی پیش قدمی کرنے میں ناکام رہے ہیں اور قذافی کے حامی ان کی شدید مزاحمت کررہے ہیں۔
سرت اور بنی ولید میں سابق صدر کے حامیوں کی جانب سے شدید مزاحمت کے تناظر میں لیبیا کی عبوری قومی کونسل یہ اعلان کرچکی ہے کہ جب تک پورے ملک کو آزاد نہیں کرا لیا جاتا ،اس وقت تک نئی عبوری حکومت کی تشکیل نہیں کی جائے گی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں