آج : 6 October , 2011

”مکمل آزادی” کے بعد بنیادی تبدیلیاں لائیں گے:مصطفیٰ عبدالجلیل

”مکمل آزادی” کے بعد بنیادی تبدیلیاں لائیں گے:مصطفیٰ عبدالجلیل

طرابلس(العربیہ ڈاٹ نیٹ،ایجنسیاں) لیبیا کی عبوری قومی کونسل (این ٹی سی) کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا ہے کہ لیبی عوام کے درمیان پائے جانے والے موجودہ اختلافات ملک کی مکمل آزادی کے بعد نئی حکومت کے قیام کی راہ میں حائل نہیں ہوں گے۔
انھوں نے یہ بات العربیہ ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ لیبیا اس وقت ہر حوالے سے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور سرت پر کنٹرول کے بعد مرحلہ وار بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں گی۔
مصطفیٰ عبدالجلیل نے واضح کیا کہ شریعت لیبیا میں قانون سازی کے لیے بنیادی مآخذ ہوگی اور ملک میں متوازن دین اسلام کا اطلاق کیا جائے گا جس کا انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
لیبیا کے عبوری وزیراعظم محمود جبریل نے گذشتہ روز العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرت پر قبضے کے بعد عبوری قومی کونسل ملک میں جمہوری انتخابات کے عمل کا آغاز کرے گی اور اس کے لیے پورے ملک کی آزادی کا انتظار نہیں کیا جائے گا جبکہ قذافی کے حامیوں کے زیرقبضہ بنی ولید کے ساتھ باغی علاقے کے طور پر معاملہ کیا جائے گا۔
درایں اثناء لیبیا کی عبوری حکومت نے دارالحکومت طرابلس میں پانچ سو نئے فوجیوں کو بھرتی کیا ہے اور انھوں نے اپنی تربیت مکمل کرنے کے بعد فرائض سنبھال لیے ہیں۔طرابلس میں اس وقت مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی ملیشیاؤں کا راج ہے اور ان میں سے بعض گروپ این ٹی سی کے مقرر کردہ کمانڈروں کو تسلیم نہیں کرتے ہیں جس کے بعد اب عبوری حکومت نے دارالحکومت کے لیے ایک نئی فورس کی تشکیل کا آغاز کردیا ہے۔
عبوری کونسل کے تحت ایک فوجی کمانڈر نے دوروز پہلے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلح جنگجوؤں سے کہا تھا کہ وہ اپنے اسلحے سمیت واپس چلے جائیں لیکن ایک اور کمانڈر نے شہر میں اپنے جنگجوؤں کو برقرار رکھنے پر اصرار کیا ہے جس کی وجہ سے مسلح آویزش کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ قذافی مخالف ایک اور جنگجو نے طرابلس کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی ایک ملیشیا کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔
این ٹی سی نے اس سے پہلے ہزاروں مسلح افراد کو قذافی کے وفاداروں کی جانب سے مزاحمت کے خاتمے کے بعد پولیس فورس میں کھپانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں ملک کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کے بعد غیر مسلح کردیا جائے گا۔

سرت میں شدید لڑائی
ادھر معزول صدر معمرقذافی کے آبائی شہر سرت میں عبوری قومی کونسل کے تحت فورسز اور قذافی کے وفاداروں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے این ٹی سی کے جنگجوؤں کے محاصرے کے بعد شہر میں صورت حال بدتر ہوتی جارہی ہے اور وہاں انسانی بحران رونما ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
سرکاری فورسز گذشتہ کئی روز سے سرت کے مشرقی اور مغربی علاقے میں توپخانے سے گولہ باری اور راکٹ فائر کررہی ہیں اور انھوں نے شہر کے جنوبی علاقے البوحادی پر گذشتہ روز قبضہ کرلیا تھا۔سرت میں متحارب فوجوں کے درمیان لڑائی کے بعد وہاں پھنسے ہوئے شہری اپنا گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت پچھتر ہزار کے لگ بھگ عام شہری سرت میں موجود ہیں۔
عالمی امدادی اداروں نے روپوش صدر کے آبائی شہر میں اب تک موجود شہریوں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔وہاں خوراک، پانی، ایندھن اور ادویہ دستیاب نہیں ہیں۔سرت سے راہ فرار اختیار کرنے والے طبی عملے کے ارکان نے بتایا ہے کہ اسپتالوں میں مریض آکسیجن اور جنریٹرز چلانے کے لیے ایندھن کی عدم دستیابی کی وجہ سے آپریشن تھیٹرز میں مررہے ہیں۔
این ٹی سی کے ایک جنگجو نے کہا ہے کہ ”ہم نے سرت میں قذافی کے وفاداروں کا تمام اطراف سے محاصرہ کررکھا ہے اور ہمیں ہرطرح کا اسلحہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے”۔کرنل معمر قذافی کے وفاداروں نے گذشتہ ہفتوں کے دوران سرت میں عبوری قومی کونسل کے تحت جنگجوٶں کی سخت مزاحمت کی ہے۔وہ حملہ آور جنگجوٶں پر گھات لگا کر شدید فائرنگ کررہے ہیں جس کے بعد وہ کئی مرتبہ پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے تھے اور وہ لیبیا کے دوسرے شہروں کی طرح سرت پر تیزرفتاری سے قبضہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
سرت کی فضائی حدود میں نیٹو کے جنگی طیارے اور بغیر پائیلٹ ڈرون پروازیں کررہے ہیں اور وہ قذافی کے حامیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔اس دوران امریکی وزیردفاع لیون پینیٹا نے قاہرہ میں ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا میں قذافی کے حامیوں کی جانب سے مزاحمت کے خاتمے تک نیٹو کے جنگی طیاروں کی بمباری جاری رہے گی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں