آج : 21 August , 2011

لیبیا: دارالحکومت طرابلس میں شدید لڑائی، شہر میں زور دار دھماکے

لیبیا: دارالحکومت طرابلس میں شدید لڑائی، شہر میں زور دار دھماکے

طرابلس(العربیہ ڈاٹ نیٹ) لیبیا میں عینی شاہدین نے اطلاع دی ہے کہ باغیوں کی جانب سے دارالحکومت طرابلس کا گھیرا تنگ کیے جانے کے بعد شہر میں شدید لڑائی اور زور دار دھماکے ہوئے ہیں۔ کرنل قذافی کی وفادار فوجوں اور باغیوں کے درمیان شدید فائرنگ جاری ہے۔ طرابلس کے قریب بڑے شہروں زلیتن اور زاویہ پر قبضے کے بعد باغیوں کو البریقہ پرقبضے میں کرنل قذافی کی وفادار فوجوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ دوسری جانب لیبیائی باغیوں کی قائم کردہ عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا ہے کہ معمر قذافی کی رخصتی کا وقت آن پہنچا ہے، بہت جلد طرابلس کو ان سےآزاد کرالیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی “رائیٹرز” کے رپورٹر نے بتایا ہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب دارالحکومت طرابلس رات بھر شدید فائرنگ، اینٹی ایئرکرافٹ راکٹوں اور زور دار دھماکوں سے گونجتا رہا۔ خبر رساں ادارے “رائیٹرز” کے نامہ نگار نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ طرابلس کے مضافاتی قصبوں میں باغیوں اور قذافی کی فوجوں کے درمیان دو بدو لڑائی ہو رہی ہے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دارالحکومت کے مضافاتی علاقے “تاجورا” کو قذافی کی فوجوں سے آزاد کرالیا گیا ہے۔ دوسری جانب کرنل معمر قذافی کی جانب سے دارالحکومت کے شہریوں میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں جن میں شہریوں کو باغیوں کے خلاف اسلحہ لے کر میدان میں آنے کا کہا گیا ہے۔

باغی کونسل کے سربراہ کا موقف
درایں اثناء لیبیائی انقلابیوں کی قائم کردہ عبوری نیشنل کونسل کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل نے کہا ہے کہ ان کے کرنل قذافی کے قریبی حلقوں سے رابطے ہیں اور امید ہے کہ کرنل قذافی اللہ کے فضل سے بہت جلد اقتدار چھوڑ دیں گے۔
“العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق بن غازی شہر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر عبدالجلیل کا کہنا تھا کہ “میں پورے وثُوق سے کہتا ہوں کہ کرنل قذافی اور اس کے پیروکاروں کے لیے رسوا کن انجام کا وقت آچکا۔ طرابلس میں کیشدہ صورت حال بھی اس امر کی غماض ہے کہ قذافی انتشار کا شکار ہوچکے ہیں”۔ باغی کونسل کے سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب میڈیا میں کرنل معمر قذافی کی ملک سے فرار کی بھی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ صدر کے ممکنہ فرار بارے ایک سوال کے جواب میں باغی کونسل کے رہ نما نے کہا کہ ” اگر ایسا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے، اگر قذافی ملک سے چلے گئے ہیں تو یہ ہم سب کے لیے نیک شگون ہے، کیونکہ اس سے ملک میں مزید خون خرابے کے بجائے تمام امور پر امن طریقے سے طے پا جائیں گے اور باغیوں کو بھی مزید جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا۔ لیکن مجھے ایسے لگتا نہیں کہ قذافی ملک چھوڑ گئے ہیں”۔
دارالحکومت طرابلس میں جاری لڑائی کے حوالے سے مصطفیٰ عبدالجلیل نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کے جان ومال کا تحفظ کریں۔ انہوں نے برسر جنگ باغیوں کو ہدایت کی کہ وہ شہروں پرقبضے کے دوران عوامی املاک اور اداروں کا تحفظ یقینی بنائیں اور لوٹ مار سے گریز کریں۔ کیونکہ عوامی املاک ہم سب کا مشترکہ اثاثہ ہیں اور ان کا ضیاع ہمیں مہنگا پڑے گا۔
خیال رہے کہ لیبیا میں پانچ ماہ سے کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے لیے جاری لڑائی میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ باغی لیبیائی “مرد آہن” کرنل معمر قذافی کے گڑھ تک پہنچے ہیں۔
گذشتہ چند روز کے دوران باغیوں نے زلیتن اور زاویہ سمیت دارالحکومت کے اطراف کے کئی شہروں پرقبضہ کر کے طرابلس کا بیرونی دنیا سے رابطہ کافی حد تک ختم کر دیا ہے۔ پرسوں جمعہ کے روز سے طرابلس کے مشرقی شہر اور تیل کی دولت سے مالا مال صنعتی علاقے “البریقہ” پر قبضے کے لیے باغیوں کی قذافی کی حامی افواج کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔
البریقہ طرابلس کے قریب ایک ایسا شہر ہے جس پر گذشتہ پانچ ماہ میں باغیوں اور کرنل قذافی کی وفادار فوجوں نے ایک دوسرے کو شکست دے کر باری باری قبضہ کیا ہے تاہم کوئی ایک فریق بھی قبضہ مستحکم نہیں کرسکا۔
ہفتے کو باغیوں کے ترجمان کرنل عمر بنی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ “ان کی فوجیں البریقہ کے بعض مقامات سے تزویراتی تقاضوں کے تحت پیچھے ہٹی ہیں۔ ہمارے جنگجوؤں کی عارضی پسپائی کا مقصد تیل کی تنصیبات کو تباہ ہونے سے بچانا اور تنصیبات پر پُرامن طریقے سے قبضہ کرنے کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
کرنل عمربنی نے مزید کہا کہ ہماری فوج نے البریقہ کے مشرق کی جانب پسپائی اختیار کی ہے تاہم صنعتی علاقے اب بھی ہمارے محاصرے میں ہیں جبکہ کرنل قذافی کی فوجیں مغرب کی جانب پسپا ہوگئی ہیں اور وہ مسلسل تیل کی تنصیبات پر حملے کر رہی ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں