دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ) شام سے انسانی حقوق کے کارکنوں نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو علی الصباح ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے شامی فوج نے دیر الزور شہر پر چڑھائی کر دی۔ توپخانے کے کور فائر میں کی جانے والی پیش قدمی سے شہر کی مساجد سے بلند ہونے والی آذان کی آواز دب کر رہ گئی۔
انسانی حقوق کی “آبزرویٹری” کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ فوج کارروائی کا آغاز شہر کے مغربی سمت سے کیا گیا۔ حملے کے عین وقت شہر کی مرکزی شاہراہ “ویلی روڈ” سے فائرنگ اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
مسٹر رامی نے بتایا کہ تقریبا دو سو پچاس بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں نے دیر الزور کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے لیا اور پھر رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو حملے کی پوزیشن میں مستحکم کیا۔ کالمز کی شکل میں پیش قدمی کرتے ہوئے بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں نے الجورہ کالونی پر گولا باری کی، جو چند منٹ جاری رہی۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹینکوں کے کالم لیبر کالونی میں داخل ہو گئے۔
ادھر شام کی حکومت مخالف کوارڈینشن کمیٹیوں نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ الجورہ پر حملے کے وقت شام فوج کی صفوں میں بڑے پیمانے پر اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والے فوجی شہریوں کو اپنے ہی بھائی بندوں کے حملوں سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادھرادلب شہر میں نماز تراویح کے بعد نکلنے والے احتجاجی مظاہرے پر سیکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
داریں اثناء اقوام متحدہ کے پریس آفس کے ایک بیان کے مطابق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے مطالبہ کیا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد شہریوں کے خلاف فوج کی تعیناتی کا سلسلہ بند کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بشار الاسد کے ساتھ ہفتہ کو ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل نے گزشتہ دِنوں کے دوران وہاں تشدد کے واقعات اور ہلاکتوں میں اضافے پر اپنی اور بین الاقوامی برادری کی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوگلو منگل کو شام کا دورہ کریں گے۔ ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ احمد اوگلو دمشق حکومت کے لیے انقرہ کا پیغام لے کر جائیں گے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ شامی فوج کی شہریوں کے خلاف کارروائیاں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں جس سے ترکی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

آپ کی رائے