فریڈم فلوٹیلا۔۔۔۔کیا منزل تک پہنچ پائےگا۔۔۔۔۔؟

فریڈم فلوٹیلا۔۔۔۔کیا منزل تک پہنچ پائےگا۔۔۔۔۔؟

غزہ کے عوام نے شاید کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ عام انتخابات میں حماس کو ووٹ دینے کا نتیجہ اتنی مشکلات کی صورت میں نکلے گا کہ چند لاکھ نفوس پر مشتمل اس قطہ ارض کو دنیا کی سب سے بڑی جیل کہا جائے گا۔فریڈم فلوٹیلا (اول) کا قصہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے اور اب کسی ناکردہ گناہ کی سزا بھگتنے والے اور گزشتہ 4سال سے فضائی، زمینی اور بحری تینوں اطراف سے محصور غزہ کے باسیوں کیلئے امدادی سامان، خوراک، بنیادی ضروریات زندگی اور ادویات لے جانے والے فلوٹیلا)دوئم) کو بھی اسرائیل کی جانب سے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے منزل تک نہیں پہنچنے دیاجارہا ہے۔
اسرائیلی نیوی امدادی سامان لے کر غزہ جانے والی آخری کشتی کو بھی روکنے میں کامیاب ہوگئی ہے جس میں فرانسیسی باشندے سوار تھے جو غزہ کیلئے امدادی سامان لے جانے والے قافلے فریڈم فلوٹیلا دوئم کا حصہ تھے۔دوسری جانب ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے آئندہ چند دنوں میں غزہ کی پٹی کا دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور اس حوالے سے ترکی کی وزارت خارجہ نے صورتحال کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
گزشتہ برس غزہ کیلئے امداد لے جانے والے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی بحریہ نے دھاوا بول کر9افراد کو شہید اور متعدد کو زخمی کردیا تھا۔جس کے بعد ایک بار پھر مختلف سماجی تنظیموں نے باہمی تعاون سے فریڈم فلوٹیلا دوئم “Stay Human”کے نام سے ایک اور امدادی قافلہ غزہ لے جانے کا اعلان کیا ۔قافلے کا مقصد غزہ کے عوام کو غذائی اشیا، زندگی کی بنیادی ضروریات اور ادویات فراہم کرنا تھا۔ 22 ممالک کے500سے زائد انسانی حقوق اور زندگی کے نمایاں شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے فریڈم فلوٹیلا کے قافلے میں شرکت کا اعلان کیا۔27 جون کو فلوٹیلا انتظامیہ نے یونان کے شہر ایتھنز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ غزہ کے محصورین کیلئے3000 ٹن خوراک و ادویات کا سامان لے جایا جائے گا،قافلہ تقریباًایک درجن جہازوں اوردیگر چھوٹی بڑی کشتیوں پر مشتمل ہوگا جوبحیرہ روم میں مختلف ممالک کی بندرگاہوں سے روانہ ہوں گے اور پھر بین الاقوامی پانیوں میں یکجا ہوکر غزہ کی جانب بڑھیں گے۔ منصوبے کے مطابق فلوٹیلا ٹو اسرائیل کی ناکہ بندی توڑتے ہوئے 5 جولائی 2011 کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونا تھا۔فلوٹیلا دوئم میں امریکا کی مشہور مصنفہ ایلس والکر بھی شامل تھیں، امید کی کرن نامی اس کشتی میں دنیا بھر سے غزہ کے عوام کیلئے لکھے جانے والے امید بھرے خط بھی تھے جس میں ان سے یکجہتی اور محبت کا اظہار کیا گیا تھا۔
فلوٹیلا دوئم مقررہ تاریخ پر روانہ نہ ہوسکا جس کی مختلف وجوہات سامنے آئیں۔ آئرلینڈ اور یونان کی بندرگاہوں پر لنگرانداز جہازوں کے منتظمین نے الزام عائد کیا کہ ان کے جہازوں کو اسرائیل نے نقصان پہنچایا جب کہ وکلاءکے ذریعہ یونان میں مقدمات دائر کرکے اور قانونی نکات اٹھا کر بھی فلوٹیلا دوئم کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی۔دوسری جانب اسرائیل نے فریڈم فلوٹیلاکے منتظمین پر اسرائیل مخالف اشتعال انگیزی پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
قافلے کے منتظمین نے حکمت عملی اپنائی کہ وہ مختلف ممالک کی بندرگاہوں مثلا کینیڈا، یونان اور فرانس سے روانہ ہوں گے اور پھر بین الاقوامی پانیوں میں منظم ہوکر ایک ساتھ غزہ کی جانب بڑھیں گے۔اس موقع پر امریکا نے متعدد بار فلوٹیلا پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے شہریوں کی فلوٹیلا میں شمولیت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔اسرائیلی حکومت کی جانب سے یونان پر سفارتی دباؤبھی ڈالا گیا جس کے بعد 2 جولائی کو یونانی کوسٹ گارڈز نے سیکورٹی خدشات کو وجہ بناتے ہوئے فلوٹیلا دوئم کے تمام جہازوں اور کشتیوں کے بندرگاہ چھوڑنے پر پابندی عائد کردی اور کینیڈا، فرانس اور افریقہ سے آنے والے جہازوں کو بھی غزہ جانے سے روک دیا۔یونانی حکومت کو اپنے اقدامات پر قافلے میں شامل افراد اور انسانی حقوق کے کارکنوں اورتنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا دوسری جانب غزہ کے سینکڑوں باسیوں نے ریلی نکالی اس موقع پر یونانی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا کی امداد اپنے ذریعہ غزہ پہنچانے کی پیشکش کی تاہم منتظمین نے پیشکش کوردکردیا۔
انسانی حقوق کے کارکنان نے الزام عائد کیا ہے کہ یونان، اسرائیل کی شہہ پر قافلے کو روک رہا ہے اور تل ابیب سیکورٹی خدشات کو بہانہ بنا کر فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کا مرتکب ہورہا ہے، اور ان کی آزادی کو سلب کرتے ہوئے بقیہ دنیا سے تنہاکر رہا ہے۔اس موقع پر اسرائیل نے صحافیوں کو بھی نہ بخشا اور دھمکی دی کہ جو صحافی فلوٹیلا میں شامل ہوگا اس کی اسرائیل میں داخلے پر10سال کےلئے پابندی عائد کردی جائے گی۔
اسرائیلی حکومت نے امدادی کارکنان کو یہ پیش کش کی وہ چاہیں تو قافلے کو مصر یا اسرائیل کی بندرگاہ پر لنگر انداز کرسکتے ہیں اور انتظامیہ ان کے امدادی سامان کو غزہ پہنچا دے گی تاہم تحریک کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی غیر قانونی ہے اور وہ غزہ پہنچنے پر ہی مصر رہے۔
سمندی راستے سے امداد لے جانے میں ناکام ہونے کے بعدتقریبا 500 افراد نے”ائر فلوٹیلا” کے نام سے مختلف فلائٹس کے زریعہ اسرائیل کے بن گورین ائرپورٹ پر پہنچنے اور وہاں سے پھر غزہ جانے کا منصوبہ بنایا تاہم صیہونی حکومت نے یہ منصوبہ بھی کامیاب نہ ہونےدیا۔ اسرائیل نے ایسے تمام افراد کی فہرست مرتب کرکے انہیں بلیک لسٹ کرتے ہوئے اپنی حدود میں داخلے پرپابندی عائد کردی اور یہ فہرستیں تمام فضائی کمپنیوں کو فراہم کردی گئیں جہاں انھیں روانگی سے قبل ہی ائر پورٹس پر آف لوڈ کردیاگیا۔ اس موقع پر فرانس سے آنے والی پرواز جس میں فلوٹیلا کے کارکنان سوار تھے کو انتظامیہ نے ائرپورٹ پر ہی روک دیا۔جس کے بعد ائرپورٹ پر انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا گیا۔ اسرائیل نے2007ءمیں ہونے والے فلسطین کے عام انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد سے غزہ کی پٹی کی فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے لیکن اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے لب کیوں سلے ہوئے ہیں۔یہ کیا راز ہے کہ عرب ممالک میں آمروں کا اقتدار اور مخالفین پر ظلم و ستم تو کسی کو نہیں بھاتالیکن غزہ میں اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر عالمی امن کے ٹھیکے داروں کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہے۔اسرائیل کو غزہ کے مسلمانوں سے کس بات کا ڈرہے کہ خوراک و ادویات کی فراہمی تک روکی جارہی ہے۔کیا یہ صرف ہٹ دھرمی اور انا کا مسئلہ ہے یاپھر غزہ میں صیہونی بربریت کے نشانات کے افشا ہونے کا خطرہ ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں