رپورٹ: بیسویں تقریب ختم بخاری و اجتماع اہل سنت ایران

رپورٹ: بیسویں تقریب ختم بخاری و اجتماع اہل سنت ایران

بیسویں تقریب ختم بخاری دارالعلوم زاہدان اور ایرانی اہل سنت کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع جمعرات ۳۰ جون ۲۰۱۱ء (۲۷ رجب ۱۴۳۲) کو زاہدان کی مرکزی عیدگاہ میں منعقد ہوئی۔ اس اجتماع میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔ یہ تقریب ہر تعلیمی سال کے آخر میں علم اور علمائے کرام کے عظیم مقام کے اعزاز میں منعقد ہوتی ہے جہاں ایران میں سنی برادری کے سب سے بڑے دینی و تعلیمی ادارہ ’’دارالعلوم زاہدان‘‘ کے فضلاء کی دستاربندی بھی ہوتی ہے۔ اس روحانی و معنوی محفل میں ملک کے مختلف شہروں اور صوبوں سے ہزاروں عاشقان دین و دانش اور علم کی اہمیت سے واقف مسلمان شریک ہوتے ہیں، بعض دیگر ممالک خاص طور پر پاکستان، افغانستان اور تاجکستان سے بھی متعدد شخصیات اپنی شرکت سے تقریب کی معنویت میں اضافہ کرتی ہیں۔
’زاہدان‘ ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان وبلوچستان کا صدر مقام ہے جس کا موسم گرم اور خشک ہے، اس کے با وجود لوگ سفر کی سختیوں اور زاہدان کی گرمی کو دل و جان سہہ کر اپنی حاضری ضروری سمجھتے ہیں۔ ایمانی بھائی ثقافتوں، زبانوں اور لہجوں کے اختلاف کے باوجود انتہائی محبت و خوشدلی کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر مقررین کی تقاریر سنتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس تقریب کی نورانیت و روحانیت اور عوام کی دین دوستی کی نشانیاں ہیں۔
بیسویں تقریب ختم بخاری جو حال ہی میں منعقد ہوئی، ایک ایسی ہی فضا میں اپنے اختتام کو پہنچی۔ حکومتی مخالفت کی وجہ سے اس تقریب پرنور کو ایک دن تک محدود کیا گیا جو دو سیشنز میں منعقد ہوئی۔ صبح و شام کے اوقات انعقاد پانے والے اجتماع کی روداد کا خلاصہ پیش خدمت ہے:

پہلے سیشن کے پروگرامز

پہلی نشست ہزاروں دلدادگان علم و دین کی موجودی میں جمعرات کے روز صبح آٹھ بجے شروع ہوئی۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد ’’محبان صحابہ‘‘ نظم خواں گروپ نے ایک نظم پیش کی جس میں اشعار کی صورت میں مہمانوں کو خوش آمدید کہا گیا۔ اس کے بعد مولوی جمعہ مرہ ای نے شرکائے دورہ حدیث اور فضلا کی جانب سے تقریر کی۔ آپ نے ’ترویج اسلام میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کردار‘ کے بارے میں گفتگو کی۔ مولوی جمعہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلیفہ مقرر کرنے کے لیے شورا کی تاسیس، نیز دعوت و تبلیغ اور جہاد کے میدانوں میں صحابہ کرام کے ناقابل فراموش خدمات کو ترویج و تبلیغ اسلام اور اسلامی ثقافت کی اشاعت کے سلسلے میں اہم ترین اقدامات قرار دیا۔
فضلائے دارالعلوم زاہدان کے نمائندے کے بعد حافظ محمد کریم صالح اسٹیج پر آئے۔ معروف مبلغ و داعی نے کہا اسلام دشمن عناصر علماء اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں، ان کو معلوم ہے جب تک عوام علماء کے ساتھ ہوں ان کی غلامانہ پالیسیاں ناکار آمد ہیں۔ عوام کی علماء سے دوری کا مطلب ہے عوام کا خدا سے فاصلہ اختیار کرنا۔
حافظ محمد کریم نے سب کو اس حوالے سے ہوشیار اور چوکنا رہنے کی نصحیت کی۔
تقریب کے پہلے سیشن میں تیسرا مقرر حجۃ الاسلام کاظم طباطبائی تھے۔ خطیب اہل تشیع زابل نے مشترکہ دشمن کی فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا شیعہ و سنی ایک دوسرے کی مقدسات کا احترام کریں اور نزاع پیدا کرنے والے امور سے بچیں۔
زاہدان سے منتخب رکن پارلیمنٹ انجینئر پیمان فروزش دوسرے مقرر تھے۔ ایک کامیاب حکومت کی علامات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا تمام مسالک و قومیتوں میں انصاف کا معاملہ کرنا اور عوام پر بھروسہ کرنا کامیاب حکومتوں کا کام ہے۔
انجینئر فروزش کی تقریر کے بعد، مولوی فضل اللہ رئیسی نے امت مسلمہ کی بیداری کے حوالے سے ایک نظم پیش کی۔
اس سیشن کے چوتھے مقرر مولانا احمد ناروئی تھے۔ نائب مہتمم دارالعلوم زاہدان نے سورت الفتح کی آخری آیت کی روشنی میں مقام صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں تقریر کی۔ ان کا کہنا تھا ’اہل بیت نبوی‘ کو بھی لفظ صحابہ شامل ہے۔ آپ علیہ السلام کے وصال کے بعد کوئی صحابی -العیاذباللہ- مرتد نہیں ہوا بلکہ منافقین نے اپنی حقیقت ظاہر کردی جن سے صحابہ کرام نے مقابلہ کیا۔ حقیقی مسلمان وہی ہے جو مہاجرین و انصار کے نقش قدم پر چلے اور ان کے لیے خیر کی دعا کرے۔
مولانا احمد کی تقریر کے بعد ’’ندائے قرآن‘‘ نظم خواں گروپ نے قرآن پاک کے بارے میں اپنی نظم پیش کی۔
پہلی نشست کے آخری مقرر مولوی اسحاق مدنی تھے جن کا موضوع محدثین ایران کے حالات کا بیان تھا۔ مشیر صدر نے امام بخاری و مسلم رحمہمااللہ کی جمع احادیث کے سلسلے میں کی جانے والی قربانیوں کا تذکرہ بھی کیا۔
اس کے بعد دارالعلوم زاہدان سے منسلک مدرسۃ البنات عائشۃ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ۶۶ فاضلات کا نام پڑھا گیا جن کی دستار بندی مدرسۃ البنات کے احاطے میں ہوئی، نیز شعبہ تحفیظ القرآن کے ۱۶ حفاظ قرآن کو عیدگاہ میں انعامات سے نوازا گیا۔
آخر میں مولانا محمد انور ملازئی نے اپنی عاجزانہ دعاؤں سے تمام دلوں کو اللہ کی جانب متوجہ کیا جس سے سب کی ندامت کے آنسو نکل آئے اور اللہ کی بے انتہا رحمتوں پر امید میں اضافہ ہوا۔
نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد جو مقام تقریب – مرکزی عیدگاہ اہل سنت- میں باجماعت ادا ہوئی۔ دیگر علاقوں سے آنے والے معزز مہمانوں نے عیدگاہ ہی میں کھانا کھایا اور عصر کی نماز تک آرام کے لیے وقفہ ہوا۔

دوسرے سیشن کے پروگرامز
اس حصے کا آغاز محترم مہمان قاری ’’غفاری‘‘ کی پر سوز تلاوت سے ہوا۔ تلاوت قرآن کے بعد مسٹر کمالی نے خطیب اہل سنت طالش شیخ قریشی نیز خلخال، طالش اور اردبیل (شمال مشرق ایران) کے عوام کی نمایندگی کرتے ہوئے علم و علماء کی وصف میں چند اشعار پیش کیے۔
دوسرے سیشن کے پہلے مقرر مہتمم عین العلوم گشت (سراوان) شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف حسین پور تھے۔ آپ نے پڑھنے پڑھانے کو اسلام کی ایک خصوصیت قرار دیتے ہوئے کہا انسانی تاریخ میں کامیاب تحریکوں کی بنیاد علم پر تھی، آپ (ص) کی تحریک کی بنیاد علم پر ہے، اس وجہ سے کوئی اسے شکست نہیں دے سکتا۔ علم دینی ہو یا دنیائی دونوں جہانوں میں ترقی و کامیابی کا ذریعہ ہے۔
حضرت شیخ الحدیث کے بعد محمدعمر خمر اور اس کے کم عمر بیٹے نے ایک خوبصورت نظم پیش کی۔
اس کے بعد سرپرست دارالافتاء دارالعلوم زاہدان مفتی محمد قاسم قاسمی نے ’’دعوت الی اللہ اور مسلم امہ کی ذمہ داری‘‘ کے بارے میں چند اہم نکات پیش کیے۔ انہوں نے کہا آپ (ص) کی بعثت کے ساتھ ساتھ امت بھی مبعوث ہوئی ہے۔ یہ امت انسانیت کو نجات دلاسکتی ہے ار دعوت الی اللہ اس کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔
حضرت مفتی صاحب کی تقریر کے بعد فورا نماز مغرب ادا ہوئی۔ نماز کے بعد ’’آوائے مکی‘‘ نظم خواں گروپ نے نعت رسول اکرم (ص) کے بارے میں اشعار پیش کیے۔
مغرب کے بعد پہلے مقرر خطیب اہل سنت چابہار مولانا عبدالرحمن چابہاری تھے جنہوں نے قرآن پاک کی تلاوت کی اہمیت کو واضح کردی۔ انہوں نے کہا قرآن پاک تزکیہ و اصلاح کی کتاب اور انسانی معاشرے کا آئین ہے۔ قرآن سے استفادہ اس وقت ممکن ہے جب اس کے الفاظ کو پڑھا جاسکے۔
خطیب اہل سنت زاہدان، صدر دارالعلوم زاہدان اور سرپرست شورائے مدارس اہل سنت سیستان و بلوچستان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم بیسیویں تقریب ختم بخاری کے آخری مقرر تھے۔
حضرت شیخ الاسلام نے اپنے بیان کے پہلے حصے میں اسلام وقرآن کو عظیم نعمتیں قرار دیتے ہوئے کہا: اسلام و قرآن دو عظیم نعمتیں ہیں، مسلمانوں کو چاہیے ان نعمتوں کی موجودی میں خود کو مسلکی و گروہی اختلافات و نزاعات سے دور رکھیں تا کہ دنیا میں سپر پاور بن سکیں۔
آپ کی تقریر کا دوسرا حصہ اہل سنت ایران کمیونٹی کی حکومت سے توقعات و مطالبات کے تذکرے پر مخصوص تھا۔ آپ نے مذہبی آزادی، شیعہ و سنی میں برابری، بڑے شہروں میں باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت، حکام کی فراخدلی اور اہل سنت کی مقدسات کے احترام کو اہل سنت ایران کے اہم ترین مطالبات قرار دیا۔
حضرت شیخ الاسلام کی تقریر کے بعد دارالعلوم زاہدان کے ۱۰۴ فضلاء اور حوزہ علمیہ اشاعۃ التوحید زاہدان کے ۳۰ نوجوان فضلاء کی دستاربندی موجود علماء و ثقافتی شخصیات کے ہاتھوں عمل میں لائی گئی۔
بیسویں تقریب ختم بخاری دارالعلوم زاہدان کا اختتام حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید حفظہ اللہ کی پر سوز دعا اور نماز عشاء کی ادائیگی سے ہوا۔

تقریب کی حواشی:
دیگر تقاریب کی طرح اس تقریب کے بھی بعض حاشیے تھے:
۱۔ جلسہ قرآنی کے انعقاد اور شعبہ قرائت و تجوید کے ۳۰ فضلاء میں انعامات کی تقسیم۔ (یہ تقریب بدھ ۲۹ جون کو بعد نماز مغرب جامع مسجد مکی میں منعقد ہوئی)
۲۔ دارالعلوم زاہدان کے احاطے میں کتب میلہ اور بعض صوبائی پبلشرز کی شرکت۔
۳۔ ذرائع ابلاغ و میڈیا کی نمائش؛ سنی آن لائن ویب سائٹ، ندائے اسلام میگزین اور سنی سٹیوڈنٹس کے امور کے دفتر اس نمائش کے اہم شرکاء تھے۔
۴۔ علاقائی انٹر نیٹ کی تقریب سے چند دن قبل بندش جو تقریب کے بعد جاری رہی۔
۵۔ نامعلوم ہیکرز کا ’’سنی آن لائن‘‘ کے سرور (server) پر شدید حملے اور چند دنوں تک ویب سائٹ کی عدم دستیابی۔
۶۔ غیر ملکی مہمانوں اور بعض ملکی علماء کو زاہدان آنے اور تقریب میں شرکت کرنے سے روک دینا۔
۷۔ صوبہ خراسان کے شہر تربت جام سے تقریب میں شرکت کے غرض سے آنے والے دو مہمانوں کا نہبندان کے قریب ایکسڈنٹ۔ اس سانحے میں ایک شہری انتقال کر گئے جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔ (اللہ تعالی مرحوم کو غرق رحمت فرمائے اور زخمی کو شفائے عاجل و کامل عطا فرمائے۔)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں