اہل سنت ایران پربڑھتے دباؤکے حوالے سے شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید کاخصوصی انٹرویو

اہل سنت ایران پربڑھتے دباؤکے حوالے سے شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید کاخصوصی انٹرویو
shaikh-abdolhameed-interviewنوٹ: صوبہ سیستان وبلوچستان میں سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای کے نمایندے کے نائب نے گزشتہ دنوں منعقد ہونے والے مقابلہ حفظ قرآن وحسن قراء ت اور سالانہ کانفرنس برائے سنی سٹیوڈنٹس کے بارے میں بعض عجیب اور حیرت انگیز بیانات دیے تھے، اس کے علاوہ صوبے سے تعلق رکھنے والے متعدد علمائے کرام کو خصوصی عدالت برائے علماء اور بعض سیکورٹی اداروں کی جانب سے طلب کیاگیا جن سے جامع مسجد مکی کے تعمیرنو منصوبے کے بارے میں پوچھ گچھ ہوئی ہے؛ یہ سب ایسے مسائل تھے جن کو ’’سنی آن لائن‘‘ نے نامور سنی عالم دین اور مذہبی رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم کے سامنے رکھ کر ان کا نقطہ نظر معلوم کیا۔ انٹرویو کا متن پیش خدمت ہے:

سنی آن لائن: نمایندہ سپریم لیڈر کے نائب اور صوبائی ادارہ اوقاف کے جنرل ڈائریکٹر نے کہا ہے مقابلہ حفظ قرآن وحسن قراء ت کا دسواں اجتماع حکومتی اجازت کے بغیر منعقد ہوا ہے، اس بارے میں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟

مولانا عبدالحمید: پہلی بات یہ ہے کہ یہ مقابلے معروف معنوں میں نہیں تھے، چونکہ ہمارے پاس وسائل و سہولیات کی کمی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس طرح کی تقاریب کا انعقاد ہمارا آئینی حق ہے۔ اسی طرح یونیورسٹی کے طلباء کا اجتماع اور علماء سے ان کی ملاقات اہل سنت کی مذہبی آزادی اور آئینی حق کے تحت وقوع پذیر ہوئے۔ یہ ملاقات مقررہ تاریخ پر صوبائی حکام وسیکورٹی اداروں کی مخالفت کی وجہ سے نہ ہوسکی۔ان تقاریب میں کوئی نعرہ لگایا جاتاہے نہ ہی کوئی بیان شائع ہوتاہے۔ بلکہ مقصد مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کو قریب تر لانا ہے۔
یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ مذکورہ نائب نے قرآنی محفلوں کے انعقاد کو دشمن کیلیے مفید اور اپنے اغراض تک بآسانی پہنچنے کا ذریعہ قرار دیاہے! بلاشبہ ان کے خیال کے برعکس، قرآنی مجالس اور طلباء کی علماء سے ملاقات بھائی چارہ اور قومی اتحاد کی مضبوطی کیلیے ازحد مفید ہے۔ سرحدی علاقوں میں امن کی صورتحال بہتر ہوگی۔ امن کیلیے خطرہ اور فرقہ واریت کا فروغ دراصل مذہبی دباؤ ڈالنے، بیجامداخلت اور قانونی آزادیوں اور حقوق سے محروم رکھنے سے ہوتاہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ ایسی محفلوں کیلیے اجازت کی درخواست کی جائے، یہ بالکل اجازت نہیں دیتے یا پھر اس قدر محدود تقریب کی اجازت دی جاتی ہے کہ منعقدکرنے والے حضرات اجازت مانگنے پر پشیمانی کا اظہار کرتے ہیں۔ چنانچہ مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ کی یاد میں تقریب کی اجازت نہیں دی گئی، نیشنل یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل طلباء کے اعزازمیں متعلقہ حکام نے تقریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں بلکہ متعدد شہروں میں باجماعت نماز پڑھنے، جمعہ و عیدین اور قرآن پاک سیکھنے سکھانے کیلیے بھی حکومتی اجازت ضروری قراردی گئی ہے، جو لوگ اجازت کے حصول کیلیے بھاگ دوڑ کرتے رہے انہیں کو نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے حالیہ برسوں میں تنگ نظر حکومتی عناصر اہل سنت ایران کی مذہبی آزادی برداشت کرنے کیلیے بالکل تیار نہیں، ان کا تعصب اپنے عروج کو پہنچاہے، یہ بات اہل سنت ایران کیلیے ناقابل برداشت ہے۔
میرے خیال میں اگرحکام واقعی اتحاد کے خواہاں ہیں پھر انہیں افراط کا راستہ بند کرکے تحمل وبرداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، صوبائی ووفاقی حکام ہمارے قانونی حقوق دینے اور آزادیوں کی برداشت سے اتحاد یقینی بناسکتے ہیں۔
جوتبدیلیاں مشرق وسطی اور بعض مسلم ممالک میں واقع ہورہی ہیں یہ سب عدم برداشت، بیجا تعصب، دباؤ، قانون کے نفاذ میں امتیازی رویہ اور عوامی مطالبات نہ ماننے کی وجہ سے رونما ہوئے۔ ان میں سے بعض حکومتیں لوگوں کے تمام مسائل حتی کہ نماز، مساجد اور مدارس کے امور میں مداخلت کرنا چاہتی ہیں جس کا انجام انتہائی خطرناک ہے۔
صوبہ سیستان وبلوچستان کے سنی عوام کا شکوہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کا دفتر جو اہل سنت کے امور کیلیے ہے اپنی تاسیس سے لیکر اب تک اہل سنت کو نامحرم سمجھتا ہے، کسی بھی شعبے میں ایک سنی شہری کو سربراہ نہیں بنایا جاتا حالانکہ یہ دفتر سنی برادری کے لیے وجود میں آیاہے۔ اس محکمے کا کردار مثالی ہونا چاہیے۔

سنی آن لائن: سیستان وبلوچستان کے متعدد علمائے کرام کو خصوصی عدالت برائے علماء (مشہد) اور بعض دیگر سیکورٹی اداروں کی جانب سے طلب کیاگیا ہے، اس بارے میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟

مولاناعبدالحمید: صوبے کے تمام شہری خاص طور پرسنی برادری ان اقدامات سے پریشان ہیں اور اس طرح کی عدالت طلبیوں کو سیاسی ومذہبی دباؤ ڈالنے کی حکومتی کوشش سمجھتے ہیں۔
بعض علماء کو اس وجہ سے عدالت طلب کیاجارہاہے کہ دوسال نو مہینے قبل سیستان میں دارالعلوم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تخریب پر انہوں نے اعتراض کیاتھا۔ بعض حکام یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے، حالانکہ صرف ذات باری تعالی مواخذہ سے پاک ہے، ’’لایسئل عما یفعل و ہم یسئلون‘‘۔ ایرانی حکام نے ’مسؤل‘ کا عنوان اپنے لیے اختیار کیا ہے کہ ان کی کارکردگی پر ان سے پوچھا جاسکتاہے۔ عوامی حکومتیں بھی اسی طرح ہیں کہ عوام کے سامنے انہیں جوابدہ ہونا پڑتی ہے۔ عوام کی تنقید سے انہیں پریشان نہ ہونا چاہیے۔ تنقید کے بغیر اصلاح مشکل ہے۔
اس کے علاوہ ایران میں تمام حکمران و حکومتی ذمہ دار بالواسطہ یا بلاواسطہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ جو ووٹ دیکر انتخاب کرتاہے پھر تنقید بھی کرسکتاہے۔ تنقید سے صرف آمر حکمران پریشان ہوتے ہیں۔ ہمارے متعدد علماء کو سیکورٹی ادارے طلب کرتے چلے آرہے ہیں، اب بھی دارالعلوم زاہدان کے دو اساتذہ خفیہ اداروں کی قید میں ہیں۔

سنی آن لائن: کہاجاتاہے کہ بعض افراد کو جامع مسجد مکی زاہدان کے تعمیرنو منصوبے کے حوالے سے پوچھ گچھ کیلیے طلب کیا گیا ہے، بعض فرقہ پرست ویب سائٹس نے تو معین ملکوں کا نام لیاہے کہ مسجد کی تعمیر نو کیلیے فنڈ مہیا کرتے ہیں، آپ کیاکہتے ہیں؟

مولانا عبدالحمید: اللہ کے فضل وکرم سے عوام عقیدت واعتقاد کی وجہ سے بڑھ چڑھ کر مسجد کے ترقیاتی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں اور بالکل مفت میں کام کرتے ہیں۔
انتہائی تعجب کی بات ہے کہ ایران پوری دنیا کے اکثر شیعوں کی مالی مدد کرتاہے، حتی کہ بعض سنیوں کی مدد سے بھی دریغ نہیں کرتا؛ کئی مرتبہ ہمارے اور دیگر علماء کے سامنے سرکاری وذمہ دار حکام نے کہاہے کہ ایران متعدد ممالک میں شیعہ مدارس کے اخراجات برداشت کرتاہے اور شیعوں سے مالی تعاون کرتاہے۔ جو کام ایران خود کرتاہے اگر وہی کام کوئی دوسرا ملک کرے تو آسمان سر پر اٹھالیاجاتاہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ دو وجوہات کے بنا پر ہم اسلامی ممالک سے مالی تعاون قبول نہیں کرتے:
پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمارے عقیدے میں اکثر حکومتیں اپنے سیاسی مفادات کے خاطر مالی مدد کرناچاہتی ہیں اور اللہ کی رضامندی ان کا مقصد نہیں، ہم ایسے پیسوں کی وصولی کیخلاف ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں اسلامی جمہوریہ ایران کی حساسیت و غصہ کا اندازہ ہے، ہم حکومت کو اشتعال نہیں دلاناچاہتے ہیں۔
اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو خفیہ اداروں کی نظر سے ہرگز مخفی نہ رہتی جو لوگوں کی پرائیویٹ زندگی اورمسائل سے بھی آگاہ ہیں۔
میری تجویز یہ ہے کہ متعلقہ محکمے ایسی باتوں کی تحقیق میں اپنا وقت ضائع نہ کریں، چونکہ اس کاکوئی خارجی وجود نہیں ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں