فتح کے امریکی دباؤ سے باہر آنے پر ہی مفاہمت کامیاب ہوگی: اسماعیل ھنیہ

فتح کے امریکی دباؤ سے باہر آنے پر ہی مفاہمت کامیاب ہوگی: اسماعیل ھنیہ
haniyaفلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوششیں ایک بار پھر ناکامی سے دو چار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں انفرادی اور اجتماعی سکیورٹی مہیا کرنے والی فورسز اب کسی صورت کسی کو بھی غزہ میں دوبارہ تسلط جمانے کا موقع نہیں دیں گی۔

فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے پیر کے روز ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کئی سالوں سے سکیورٹی، فوجی، اقتصادی اور ذرائع ابلاغ کا ہدف بنا ہوا ہے۔ غزہ پر یہ حملے ہمہ جہت اور جامع نوعیت کے ہیں جو مربوط ہونے کے ساتھ ساتھ ہر شعبہ زندگی پر حاوی بھی ہیں۔ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے غزہ کو خصوصی نشانے پر رکھا گیا ہے۔ تاہم غزہ کو منشتر کرنے کی ان کوششوں کی وجہ سے اہل غزہ کی ہمت میں کمی کے بجائے ان کی ثابت قدمی میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔
اسماعیل ھنیہ نے زور دیا کہ ان کی حکومت فلسطینی جماعتوں کے درمیان جامع اور ایسی واضح مفاہمت کی شدید خواہش مند ہے جو کسی کو سائیڈ پر لگانے کی پالیسی سے پاک ہو۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم کو آج ایسے نئے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ان کی ثابت قدمی میں اضافہ ہوسکے۔
اسماعیل ھنیہ نے مصر کے ساتھ اپنے تعلقات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو مصر تاریخی، جغرافیائی، انسانی وسائل، ثقافت، سیاست، ذرائع ابلاغ، فوجی اور اقتصادی قوت کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی مفاہمت میں مصر کے کسی بھی کردار کو خوش آئند سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مصر ایک بڑا اور اہم ملک ہے اور فلسطینی مفاہمت میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ذیل میں فلسطینی وزیر اعظم کا یہ انٹرویو پیش کیا جارہا ہے۔

اطالوی رضا کار کے قتل،  پھر غزہ میں دوبارہ شورش برپا کرنے کی کوششیں اور یہاں پر انتہاء پسند جماعتوں کی موجودگی کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

ہم پہلے بھی کہ چکے ہیں کہ غزہ میں وقوع پذیر ہونے والا اطالوی شہری کے قتل کا سانحہ ایک استثنائی صورتحال تھی جس کا یہاں کی ثقافت یا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم غزہ میں انتشار کی کوششوں کے بارے میں ہم کہیں گے کہ یہاں پر اس کی ہر کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز نے امن کو سبوتاژ کرنے کی تمام انفرادی اور اجتماعی کوششوں پر قابو پا لیا ہے۔
اسی ضمن میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ غزہ ایک طویل عرصے سے مختلف علاقائی اور عالمی سازشوں کا ہدف رہا ہے۔ سکیورٹی، فوجی، اقتصادی، فکری اور اقتصادی طور پر اس کو تباہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، غزہ کے خلاف ریشہ دوانیوں میں اسرائیل اور اس کے اتحادی پیش پیش ہیں تاہم دشمن کی تمام تر کوششوں اہل غزہ، یہاں کی حکومت اور سیاسی اور معاشرتی حلقوں کی ثابت قدمی کے سامنے ناکام ہوچکی ہیں۔
ہماری حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ اطالوی رضا کار کے قتل جیسا کوئی واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے اور غزہ کی مجموعی پرامن صورتحال کو کوئی ٹھیس نہ لگے تاہم ہم اس بات کا بارہا اعادہ کرچکے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کا فائدہ صرف اسرائیل کو جاتا ہے چاہے ایسے کام کرنے والا کا ایسا کوئی ارادہ ہو یا نہ ہو۔ بہرحال ہماری حکومت اور قیادت نے اس قسم کے حادثات کو روکنے کا عہد کر رکھا ہے اور اس ضمن میں ہم اپنی پوری کوششیں صرف کر رہے ہیں۔

فلسطینی مفاہمت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے بالخصوص جب آپ محمود عباس کو غزہ کے دورے کی دعوت دے چکے ہیں اور فتح کے ساتھ حماس رہنماؤں کی غیر اعلانیہ ملاقاتوں کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے؟

ہمارے نزدیک مفاہمت ایک اصول اور اسٹریٹجی ہے جس کی کامیابی ہمارا مقصد ہے جس کے لیے ہم سازگار حالات پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مفاہمت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام جماعتیں مثبت اقدامات اٹھائیں تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں، لیکن یہ چیز اب تک تحریک فتح میں مفقود نظر آرہی ہے جس نے  عملی میدان میں اب تک کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ فتح کی جانب سے فلسطینی مفاہمت کے لیے تاحال کوئی مثبت اشارہ بھی سامنے نہ آسکا ہے۔
ہم اب بھی فلسطینی مفاہمت پر پوری سنجیدگی اور اخلاص سے کام کر رہے ہیں، ہم قوم کو صرف نعروں، دعووں اور دکھائے کے اقدامات سے نہیں بہلائیں گے جیسا کہ پچھلے معاہدوں میں ایسا ہوتا رہا۔ ضرورت ایک ہمہ جہت اور واضح مفاہمت کی ہے جس میں تمام شعبوں اور تمام پروگراموں پر محیط ہو اور کسی بھی فریق کو نظر انداز کرنے سے دور ہو۔
بہ قول اسماعیل ھنیہ مفاہمت کی کامیابی کے لیے فتح کی قیادت کو امریکا اور عالمی برداری کے دباؤ سے باہر آنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ پرانے مذاکرات ناکام ہوچکے اب فلسطینی قوم کو ایسے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے جس میں مسئلہ فلسطین کے مسلمہ حقوق کی پاسداری یقینی ہو۔
جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم اب تک مصر کو اس ضمن میں اہم ملک گردانتے ہیں۔ فلسطینی مفاہمت میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ مفاہمت کی کامیابی کے لیے ہم مصری کردار کو مثبت انداز میں دیکھیں گے۔

غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایک نئی جنگ شروع ہونے کا امکان پیدا ہوگیا تھا، کیا صہیونی مذہبی تہوار ایسٹر کے گزرنے کے بعد غزہ پر کسی نئی غارت گری کے امکانات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ اگر ایسا ہوا تو آپ کیسے نمٹیں گے؟ مزید برآں غزہ میں پرامن حالات کے بارے میں مختلف فلسطینی جماعتوں کے مابین اختلاف رائے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

ہمیں اسرائیل پر اعتماد نہیں اور نہ ہم اس پر کبھی اعتبار کرسکتے ہیں، ہمیں اس سے صرف برائی کی توقع ہی ہے۔ فلسطینی فوج روزانہ کی بنیاد پر ہمیں نشانہ بنا رہی ہے وہ بزور قوت کھیل کے اصول تبدیل کرنا چاہتی ہے لیکن فلسطینی قوم اور مزاحمت کار اس طرح کے تمام اوچھے ہتھکنڈوں سے بخوبی واقف ہیں۔
میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ فلسطینی قوم کی ثابت قدمی، اس کی مزاحمت، صبر اور مہارت ہی اس کی وہ انفرادیت ہے جس سے اسرائیل محروم ہے وہ جانتا ہے کہ فلسطینی قوم خاموش رہے گی اور نہ اپنی وحدت کو متاثر کرنے والی کسی قوت کے سامنے سرنگوں ہوگی۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل نے فلسطین کے خلاف نفسیاتی اور میڈیا وار شروع کردی ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کے مورال کو نیچے لانا ہے۔ وہ من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی خبریں اور میڈیا رپورٹوں کے ذریعے دنیا کو گمراہ کر رہا ہے تاہم فلسطینی قوم اس کے تمام جھوٹے پروپیگنڈے کی حقیقت جان چکے ہیں اور ان کو مزید دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔
ہماری حکومت اور مزاحمتی گروہ اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے میرے خیال میں فلسطینی مزاحمت تنظمیں فلسطینی عوام کی بہتری کے لیے انتہائی اعلی درجے پر احتیاط کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مزاحمتی انتظامیہ انتہائی ذمہ دار ہے۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ فلسطینی بندوق انتہائی بصیر، نگہبان اور ذمہ دار ہے ہم جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اسے اچھی طرح سمجھتے ہیں اور پھر کامیابی سے  ہمکنار ہوتے ہیں۔

یہ واضح ہے کہ نئی مصری حکومت کے حماس کے ساتھ تعلقات پہلے سے مختلف ہیں، ان تعلقات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ہم نئی مصری قیادت سے کیا چاہتے ہیں؟

ہم نے کہا ہے کہ مصر کے ساتھ ہمارے تعلقات انتہائی اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں، ہم ان تعلقات کو مجموعی اور جامع حیثیت کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر بھی دیکھتے ہیں۔ ہمارے اور پوری امت کے لیے مصر ایک تاریخ، جغرافیہ، انسانی وسائل، ثقافت، فکر، سیاست، ذرائع ابلاغ، فوجی اور اقتصادی حوالوں سے انتہائی اہم ملک ہے۔ مصر میں برپا ہونے والا حالیہ انقلاب ہمارے لیے مثبت اثرات لیے ہوئے ہے۔ ہمسایہ اپنے ہمسائے کے پھیپڑوں سے ہی سانس لیتا ہے۔ مصر کی حالیہ قیادت نے فلسطین کے متعلق مثبت اقدامات اٹھائیں ہیں تاہم اہل غزہ مصری حکام کی جانب سے محاصرے کے خاتمے، تعمیر نو، رفح کراسنگ کے ذریعے مصر آمد و رفت میں آسانی، بجلی، گیس، تیل اور تعمیراتی میٹریل جیسی بنیادی ضروریات کی اشیا کی غزہ ترسیل جیسے براہ راست اقدامات کے منتظر ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ محمود عباس کا حالیہ مصری دورہ  مصری قیادت کو حماس کے خلاف ترغیب دینے کے لیے تھا، آپ کیا سمجھتے ہیں؟

ہمارے دبانے کی تمام کوششں نہ صرف ناکام ہوئیں بلکہ کرنے والے کے گلے کا پھندا بن جاتی ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ مصری قیادت کسی کے اکسانے میں آکر ہمارے خلاف ہوجائے گی۔ ہمیں امید ہے کہ مصر کی جانب سے فلسطینی معاملات میں مثبت کردار ہی سامنے آئے گا۔

شالیت کا معاملہ تاحال کٹھائی میں پڑا ہوا ہے۔ متضادات اطلاعات کے مطابق اس ضمن میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے جرمنی کے انخلاء اور نئے یورپی ملک کی مداخلت کی خبریں ہیں، حقیقت امر کیا ہے؟ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو کس چیز نے روکا ہوا ہے؟

مزاحمتی تنظیموں اور اسرائیل کے مابین اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے فلسطینی اسیران کی رہائی کے مذاکرات سے فلسطینی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم کسی بھی ایسے معاہدے کی تائید کریں گے جس کے نتیجے میں فلسطینی اسیران کی صہیونی عقوبت خانوں سے رہائی ممکن ہو سکے۔

مرکز اطلاعات فلسطین


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں