مسخ شدہ لاشیں، غم زدہ لواحقین

مسخ شدہ لاشیں، غم زدہ لواحقین
missing_balochبلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کے بعد مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور متاثرہ خاندان اس طرح کے قتل کی ذمہ داری سیکورٹی فورسز پر عائد کرتے ہیں۔ جبکہ سیکورٹی فورسز ایسے الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔ ’بلوچ نیشنل وائس‘ نامی ایک تنظیم کے سرکردہ کارکن نصراللہ بلوچ کہتے ہیں کہ جون سنہ دو ہزار دس سے بارہ اپریل سنہ دو ہزار گیارہ تک بلوچستان کے مختلف شہروں سے ایک سو ستائیس سیاسی کارکنوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔

کوئٹہ کے ہوائی اڈے سے باہر آئے تو پارکنگ میں فوجی گاڑیاں قطار میں کھڑی نظر آئیں، ہم تو ان سے پہلے روانہ ہوئے لیکن راستے میں وہ تیز رفتاری کی وجہ سے ہم سے آگے نکل گئیں۔
ایک قافلے کی صورت میں چلنے والی ان گاڑیوں میں مسلح فوجی بندوقیں تانے چوکس بیٹھے رہے اور آس پاس چلنے والی گاڑیوں اور ان میں بیٹھے لوگوں کو باز کی نظروں سے دیکھتے رہے۔
معلوم ہوا کہ گزشتہ کچھ ماہ سے فوج اور نیم فوجی فورس فرنٹیئر کور (ایف سی) والے شدت پسند بلوچوں کے حملوں کی وجہ سے کم از کم دو گاڑیوں کے قافلوں کی صورت میں گشت کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر ایک گاڑی پر حملہ ہو تو دوسری گاڑی ’بیک اپ‘ فراہم کرے۔
ظاہر ہے کہ اس سے سیکورٹی فورسز کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ لیکن بعض مقامی بلوچ رہنماؤں سے بات ہوئی تو انہوں نے ’ایف سی‘ پر الزام لگایا کہ وہ تیل بیچتے ہیں۔ ان سے ثبوت مانگا تو انہوں نے کہا کہ ’چور رسید نہیں دیتا‘۔ مگر ایف سی والے ایسے الزام کو من گھڑت کہتے ہوئے رد کرتے ہیں۔
لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کوئٹہ شہر میں کئی مقامات پر تیل بیچنے کی دکانیں قائم ہیں۔ یہاں عام پیٹرول پمپ کی نسبت پیٹرول یا ڈیزل دس روپے فی لٹر سستا بِکتا ہے۔ ایسی دکانوں کے متعلق مشہور ہے کہ یہاں ایران سے سمگل کیا ہوا تیل بیچا جاتا ہے۔
پہلے جب فوج یا ایف سی کے اہلکار گشت کرتے تھے یا ان کی گاڑیاں سڑک پر چلتیں تو لوگ اپنی گاڑیاں ان کے ساتھ لگا لیتے۔ کیونکہ وہ ایسا کرتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے۔ لیکن آج کل جہاں سے سیکورٹی فورسز کی گاڑیاں گزرتی ہیں تو لوگ ان سے اپنی گاڑیاں دور کرلیتے ہیں۔
جس کی ایک وجہ تو وہ خوف ہے کہ اگر کسی فورس کی گاڑی پر حملہ ہوا تو انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ سیکورٹی فورسز والے خود بھی خوف کی وجہ سے اپنی گاڑیوں کے قریب عام لوگوں کی گاڑیوں کو آنے نہیں دیتے۔
کوئٹہ شہر کی مختلف سڑکوں اور بازاروں میں ویسے تو زندگی معمول کے مطابق دکھائی دیتی ہے لیکن خوف کا ماحول ضرور موجود ہے۔ پٹھان آبادی والے علاقے قدرِ محفوظ سمجھے جاتے ہیں لیکن بلوچ آبادیوں والے علاقوں میں عام لوگ تو کجا سیکورٹی فورسز والے بھی کلمہ پڑھ کر گزرتے ہیں۔
پریس کلب میں دس کے قریب ایسے افراد کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی جن کے عزیز و اقارب کو ان کے بقول سیکیورٹی فورسز نے اغوا کرکے قتل کیا اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینک دیں۔
مقتولین کے ورثا میں اکثریت خواتین کی تھی اور بلوچ معاشرے میں خواتین کا اس طرح ذرائع ابلاغ کے سامنے آنا قابل ذکر تبدیلی ہے۔ مقتولین کی ماؤں، بہنوں سے بات چیت کے دوران اس بار ایک بڑی تبدیلی یہ نظر آئی کہ کسی ایک نے بھی حکومت یا عدلیہ سمیت کسی اور ادارے سے انصاف کی اپیل تک نہیں کی۔ بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔
لیکن اس کے باوجود بھی وہ مایوس نظر نہیں آئے بلکہ وہاں موجود تمام اہل خانہ جس میں ان پڑھ بلوچ خواتین بھی شامل تھیں، انہوں نے کہا کہ ’ہمارے بچے شہید ہیں اور آزاد بلوچستان کے لیے اپنے دیگر بچے بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔‘
انہوں نے اپنے مقتول پیاروں کی مسخ شدہ لاشوں کے جو قصے سنائے وہ بہت دردناک تھے۔ کسی نے کہا کہ ان کے پیارے کو آنکھ میں گولی ماری گئی تو کسی کو سینے میں ڈرل کرکے قتل کیا گیا، کسی لاش کے دانت سلامت نہیں تھے تو کسی کے جسم پر سگریٹ اور بجلی کے جھٹکوں کے نشان تھے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں