آج : 20 April , 2011

لیبیا: ہنگامی انسانی امداد پر زور

لیبیا: ہنگامی انسانی امداد پر زور
libya_injuredبن غازی(بی بی سی) برطانیہ کے ایک اعلیٰ وزیر لیبیا میں لڑائی میں پھنسے ہوئے ہزاروں شہریوں کو تیزی سے امداد پہنچانے کے لیے اقوام متحدہ میں ہنگامی مذاکرات کرنے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی امداد کے وزیر اینڈریو مچل ملاقات کے دوران اقوام متحدہ میں اعلیٰ سفارتکاروں اور اقوام متحدہ کے حکام سے اس موضوع پر بات کریں گے کہ لیبیا میں امداد کی ترسیل کو بہتر کرنے کے لیے کیا مزید کیا جا سکتا ہے۔
اینڈریو مچل خاص طور پر مصراتہ میں امداد پہنچانے کے بارے میں بات کریں گے جو ایک ماہ سے کرنل معمر قذافی کی حامی فوج کی طرف سے حملوں کا شکار ہے۔ اتوار کو بھی اطلاعات کے مطابق مصراتہ میں راکٹوں کے حملے میں چھ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
برطانوی وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ نئی امداد مصراتہ میں پھنسے غیر ملکی مزدوروں کو نکالنے پر خرچ کی جائے گی۔ اس سے قبل لیبیا کے ساحلی شہر مصراتہ میں کرنل قذافی کی فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی تھیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر بائلز نے بن غازی سے خبر دی ہے کہ حالیہ چند روز میں سینکڑوں لوگ مصراتہ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باغی رہنماء اور شہر میں موجود ڈاکٹر وہاں کی صورتحال سے پریشان ہیں۔ مصراتہ کی آبادی تین لاکھ ہے۔
نامہ نگار نے کہا کہ لیبیا کی عبوری قومی کونسل کے ارکان نے نیٹو سے کہا ہے کہ وہ کرنل قذافی کی فوج کے پاس موجود دور مار کرنے والے میزائیلوں کو نشانہ بنائیں۔
سرکاری فوج مصراتہ کو باغیوں کے قبصے سے چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔ مصراتہ کو فوج نے گزشتہ دو ماہ سے گھیرے میں لیا ہوا ہے جو ملک کے مغربی حصے میں واحد علاقہ ہے جہاں باغیوں کا کنٹرول ہے۔
بین الاقوامی امداد کے محکمے کے مطابق مصراتہ میں فروری سے لے کر اب تک تین سو شہری ہلاک اور ایک ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ اتوار کو شہر سے ایک سو خمیوں کو کشتی کے ذریعے تیونس پہنچایا گیا تھا۔
طبی مراکز میں زخمیوں کا رش ہے اور بہت سے زخمی لڑائی کی وجہ سے شہر نہیں چھوڑ سکتے۔ اقوام متحدہ کو فکر ہے کہ شہر میں پانی سے لگنی والی وبا کا خطرہ ہے۔
لیبیا میں اس سال فروری میں کرنل قذافی کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تھی جس کے بعد سے ملک کرنل قذافی کے حامیوں اور باغیوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں