آج : 15 April , 2011

مصراتہ، قذافی فورسز کی بمباری، 13 افراد ہلاک، لیبیا پر حملے، نیٹو وزراء خارجہ میں شدید اختلافات

مصراتہ، قذافی فورسز کی بمباری، 13 افراد ہلاک، لیبیا پر حملے، نیٹو وزراء خارجہ میں شدید اختلافات
libya_war_4دوہا،بن غازی (ایجنسیاں)لیبیا کے شہر مصراتہ قذافی فورسز نے بمباری کرکے13افراد کو ہلاک کردیاہے،دوسری جانب لیبیا پر حملوں کے حوالے سے نیٹو وزرائے خارجہ کے مابین شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں.

لیبیا کیلئے بنائے جانے والے بین الاقوامی رابطہ گروپ نے صدر معمر قذافی کو لیبیا میں بحران کے حل کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر عہدہ چھوڑ دیں۔دریں اثناء اے ایف پی کے مطابق صدر معمر قذافی کے گھر(صدارتی محل) کے قریب زور دار دھاکے کی آواز سنی گئی ہے کانفرنس میں پہلی بار لیبیا کے باغیوں کی سفارتی نمائندگی بھی ہوئی، رابطہ گروپ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لیبیا کے باغیوں کو امداد جاری رکھی جائے گی۔
گروپ نے یہ مزید کہا ہے کہ لیبیا کے باغیوں کو اپنے مستقبل کا تعین کرنے دیا جائے۔ قطر کے دارالحکومت دوہا میں لیبیا کی صورتِ حال پر غور کے لیے منعقد کی جانے والی کانفرنس کے حتمی بیان میں قطر کے ولی عہد کی طرف سے کیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے قطر کانفرنس میں مندوبین سے خطاب میں کہا کہ لیبیا کی 60لاکھ کی آبادی کے نصف کو امداد کی ضرورت ہوگی۔ قطر کے ولی عہد کا کہنا تھا کہ ہر گزرتے دن کا مطلب ہے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔اس کانفرنس میں باغیوں کو فوجی، سیاسی اور مالی امداد دینے اور نیٹو کے کردار پر بھی بات چیت ہوئی۔ کانفرنس سے پہلے، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ نیٹو کو چاہیے کہ وہ لیبیا میں اپنے دائرہِ عمل میں اضافہ کرے۔ وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ لیبیا میں فوجی صورتِ حال اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ انھوں نے کہاکہ لیبیا کی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے سیاسی اور فوجی دباؤ میں اضافہ ضروری ہو سکتا ہے۔فرانس اور برطانیہ چاہتے ہیں کہ نیٹو میں شامل ممالک لیبیا میں کارروائی کے لیے جنگی جہاز فراہم کریں۔ فرانس کا کہنا ہے کہ لیبیا میں نیٹو کی اب تک کی کوششیں کافی نہیں ہیں۔
ادھر لیبیا میں نیٹو کارروائیوں کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں نیٹو درست کام کر رہی ہے۔نیٹو نے لیبیا پر غیر پروازی علاقہ یا نو فلائی زون قائم کر رکھا ہے جس کا مقصد عام لوگوں کو سرکاری فوج سے بچانا اور اسلحے پر پابندی شامل ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں