آج : 14 April , 2011

کیا شیئرزکا کاروبار جائز ہے؟

کیا شیئرزکا کاروبار جائز ہے؟
sharesسوال: میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شیئر مارکیٹ کاکام ہمارے مذہب میں جائزہے یا نہیں؟ براہ کرم، جواب دیں۔

جواب:
مذہب میں بیان کردہ شرائط کے ساتھ شیرز مارکیٹ کا کاروبار عند الاحناف جائز ہے اور شرائط کے بغیر ناجائز ہے وہ شرائط یہ ہیں:
(۱) وہ کمپنی حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو۔ وہ سودی بینک نہ ہو، سود اور قمار پر مبنی انشورنس کمپنی نہ ہو، شراب کا کاروبار کرنے والی کمپنی نہ ہو یا ان کے علاوہ دوسرے حرام کام کرنے والی کمپنی نہ ہو، حرام کام میں ملوث کمپنی کے شیرز لینا کسی حال میں جائز نہیں نہ ابتداءً جاری ہوتے وقت اور نہ ہی بعد میں اسٹاک مارکیٹ سے۔
(۲) اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں بلکہ اس کمپنی نے کچھ منجمد اثاثے حاصل کرلیے ہوں، مثلا: اس نے بلڈنگ بنالی ہو یا زمین خریدلی ہو، اگر اس کمپنی کا کوئی منجمد اثاثہ وجود میں نہ آیا ہو بلکہ تمام اثاثے ابھی تک سیال یعنی نقد رقم کی شکل میں ہوں تو اس صورت میں اس کمپنی کے شیئرز کا فیس ویلو سے کم یا زیادہ میں لین کرنا جائز نہیں۔
(۳) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہو تو اس کی سالانہ میٹنگ میں آواز اٹھائی جائے کہ ہم سودی لین دین کو درست نہیں سمجھتے، سودی لین دین پر راضی نہیں ہیں اس لیے اس کو بند کیا جائے۔
(۴) جب منافع کی تقسیم ہو اس وقت جتنے نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو اسے بلانیت ثواب صدقہ کردیا جائے۔
(۵) شیرز کی خرید وفروخت سے مقصود حصہ داری حاصل کرنا ہو، نفع ونقصان برابر کرکے نفع کمانا مقصود نہ ہو جس میں نہ تو شیرز پر قبضہ ہوتا ہے اور نہ قبضہ پیش نظر ہوتا ہے کیوں کہ یہ سٹہ بازی کی شکل ہے جو حرام ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
فتوی(ب): 1336=1072-7/1431


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں