یمن: فوج کی مظاہرین پر فائرنگ، پندرہ ہلاک

یمن: فوج کی مظاہرین پر فائرنگ، پندرہ ہلاک
yemen_army-صنعا(خبررساں ادارے) یمن کے شہر تعز میں فوج نے حکومت مخالف مظاہرین پر گولی چلائی ہے جس سے اطلاعات کے مطابق پندرہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں تیس کی حالت نازک ہے۔

خبروں کے مطابق نشانہ بازوں نے بحرِ احمر پر واقع یمن کے چوتھے بڑے شہر حدیدہ میں بھی صدارتی محل کی جانب ایک مارچ میں شریک مظاہرین کو نشانہ بنایا۔
تشدد کا یہ واقعہ یمن میں حکومت کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کی ایک کڑی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ صدرعلی عبداللہ صالح اقتدارچھوڑ دیں۔ تاہم صدر نے جو پچھلے بتیس برس سے حکمران ہیں، کہا ہے کہ وہ اقتدار سے الگ نہیں ہوں گے۔
تعز کے شہر میں تشدد اس وقت شروع ہوا جب مظاہرین نے فریڈم سکوائر کی طرف مارچ کیا۔ رائٹرز کے مطابق یہ وہ جگہ ہے جہاں مظاہرین حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوتے ہیں اور بیٹھے رہتے ہیں۔
جب احتجاجی مارچ گورنر کے ہیڈ کوارٹرز سے آگے بڑھا تو فوج نے جلوس کا راستہ روکا جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹینک اور فوجی گاڑیاں تعز شہر اور فریڈم سکوائر کے ارد گرد جمع ہیں جہاں ہزاروں افراد موجود ہیں۔ کئی ایسے مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو فوج کا حصار توڑ کر باہر نکلنا چاہتے ہیں۔
فریڈم سکوائر میں مظاہرین نے ایک عارضی کلنک بھی قائم کر رکھا ہے جہاں کے ایک ڈاکٹر نے رائٹرز کو بتایا کہ جو افراد ہلاک ہوئے ہیں ان کو سر اور سینے پر گولیاں لگی ہیں۔
حدیدہ میں مظاہرین تعز شہر میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی پر غم و غصے کے اظہار کے لیے جمع ہوئے لیکن جھڑپوں میں یہاں پر بھی دو افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔حدیدہ کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نو افراد کو گولی ماری گئی جبکہ پچاس زخمی ایسے تھے جنھیں پتھر مارے گئے تھے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں