آج : 19 March , 2011

فرانسیسی جیٹ طیاروں کی بن غازی پر پروازیں

فرانسیسی جیٹ طیاروں کی بن غازی پر پروازیں
bin-ghaziپیرس(بى بى سى) فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہا ہے کہ فرانسیسی جیٹ طیارے اس وقت بن غازی کے شہریوں کو لیبیائی فوج کے حملوں سے بچا رہے ہیں۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے بعد یہ پہلی بیرونی مداخلت ہے۔

فرانسیسی صدر سرکوزی نے کہا کہ’ہماری فضائہ کسی بھی جارحیت کی مخالفت کرے گی۔‘
اس سے پہلے فرانس کی فوجی ذرائع کا کہنا تھا کہ فرانس کے جیٹ طیارے نے ’ دشمن کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کے لیے‘ لیبیا کے تمام حدود پر پروازیں کی ہیں۔
دریں اثناء پیرس میں ایک اجلاس ہو رہا ہے جس میں فرانس، برطانیہ ، جرمنی ، اقوام متحدہ کے سربراہان، اور عرب لیگ کے نمائندے شریک ہوں گے۔
اس اجلاس میں فوجی کارروائی کے بارے میں جائزہ لیا جائے گا۔
فرانسیسی صدر کے بیان سے پہلے لیبیا میں بی بی سی کے ایک صحافی کے مطابق کرنل قذافی کی حامی فوج کے ٹینک باغیوں کے مضبوط گڑھ بن غازی شہر کے اندر موجود ہیں۔
شہر میں موجود صحافیوں کے مطابق گلیوں میں ٹینک موجود ہیں اور جنوب مشرقی حصے میں واقع یونیورسٹی کے اطراف میں لڑائی ہو رہی ہے۔
بن غازی میں لیبیا کا جیٹ طیارہ گرا ہے۔ اس جیٹ طیارے میں پہلے ہی سے آگ لگی ہوئی تھی۔
اسی دوران باغیوں کے رہنماء نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ کرنل قذافی کی فوج کی جانب سے بمباری کو روکیں تاہم حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
بن غازی کے اطراف میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں جبکہ شہر سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نکل رہی ہے۔
مصطفیٰ عبدل جلیل نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو بتایا کہ بن غازی کے تمام اضلاع پر راکٹوں اور آرٹلری سے گولہ باری کی جا رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ’ اگر عالمی برادری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردار پر عمل نہیں کیا تو یہاں پر بڑی تباہی ہو گی۔‘
اقوام متحدہ کے سکیرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ لیبیا کے مسلئے پر دنیا کو لازمی یک زبان ہونا ہو گا۔
اس سے قبل امریکہ، برطانیہ، فرانس اور کچھ نامعلوم عرب ممالک نے لیبیا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے باغیوں کے گڑھ بن غازی کی طرف پیش قدمی کو نہ روکا اور اپنی فوجوں کو باغیوں کے قبضے سے چھڑائے ہوئے علاقےمسراٹہ اور زاویہ سے واپس نہ بلایا تو اس کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔
سکیورٹی کونسل کی قرار داد کی منظوری کے بعد امریکہ کے لہجے میں یک لخت تلخی آ گئی ہے اور صدر اوباما نے جمعہ کو اپنے سخت ترین بیان میں کہا ہے کہ اگر کرنل قدافی اب بھی اقتدار سے علیحدہ نہ ہوئے تو امریکہ کی فوج بھی لیبیا کے خلاف کارروائی میں شریک ہو جائیں گی۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور کچھ عرب ممالک کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا اگر فوجی سے بچنا چاہتا ہے تو وہ بن غازی کی جانب پیشقدمی کو روک دے اور مسراٹہ اور زوایہ سے اپنی فوجوں کو نکال لے۔
ادھر فرانس اور برطانیہ نے اپنے طیارہ بحرہ روم میں ان اڈوں کی طرف روانہ کردیئے ہیں جہاں سے کرنل قدافی کی حامی افواج پر حملے کیے جا سکیں گے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ اپنے طیاروں کو لیبیا کے خلاف کارروائی روانہ کر رہا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے اپنے بیان میں کہا کہ لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی اقوام متحدہ کے مطالبات کا احترام کریں یا فوجی کارروائی کا سامنا کریں۔
اس سے پہلے لیبیا میں حکومت نے حکومت مخالف فورسز کے خلاف فوجی کارروائی فوری طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر اوباما نے کہا کہ کرنل قذافی کی فوج کو لازماً بن غازی سمیت باغیوں کے کنٹرول میں علاقوں سے واپس چلے جانا چاہیے اور انتظامیہ کو امدادی سرگرمیوں کی اجازت دینی چاہیے۔
صدر اوباما نے کہا کہ اگر انھوں نے اس پر عمل نہیں کیا تو بین الاقوامی برادری کے نتائج سامنا کرنا پڑے گا۔
لیبیا کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کا لیبیا میں فوجی کارروائی کی اجازت دینا ایک غیر ذمہ دارانہ عمل تھا۔
ادھر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے اور ’شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات‘ کی منظوری دینے کے بعد مغربی طاقتیں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے کے فیصلے کو کس طرح نافذ کیا جائے۔
فرانس کا کہنا ہے کہ لیبیا پر چند گھنٹوں میں فضائی حملے کیے جا سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے تفصیل اور وقت کے تعین کے بارے میں واضح نہیں کیا گیا ہے جبکہ برطانیہ کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ جمعہ کو برطانوی جنگی جہاز بحیرۂ روم کی جانب جانا شروع ہو جائیں گے۔
قرارداد کی منظوری سے کچھ دیر قبل کرنل قذافی نے پرتگالی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ ’اگر دنیا پاگل ہے تو ہم بھی پاگل ہو جائیں گے‘۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں