’بدترین بحران، ایک اور ری ایکٹر میں دھماکہ، ہلاکتیں ہزاروں میں‘

’بدترین بحران، ایک اور ری ایکٹر میں دھماکہ، ہلاکتیں ہزاروں میں‘
japan_earthquake_0سینڈائی(بی بی سی) جاپان میں جمعہ کے زلزلے سے بری طرح متاثر ہونے والے فوکوشیما کے ایٹمی بجلی گھر کے تین نمبر ری ایکٹر میں دھماکہ ہوا ہے۔ دھماکے میں چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بجلی گھر کے قریب فضا میں دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔ جاپانی کابینہ کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ہائیڈروجن کے اس دھماکے سے تابکاری کا خطرہ کم ہے لیکن لوگوں کو احتیاط کے پیشِ نظر گھروں میں رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔
ادھر جاپان کے وزیرِ اعظم نے صورتِ حال کو ملکی تاریخ کا بدترین بحران قرار دیا ہے۔ خدشات بڑھ گئے ہیں کے ہلاک شدگان کی تعداد ڈرامائی طور پر بہت سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ جاپان کے اکثر حصے تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں، ایک لاکھ افراد کو جعمہ سے تازہ پانی تک رسائی نہیں ہے اور بچ جانے والے ہزاروں تعداد کو ہنگامی پناہ گاہوں میں رکھا گیا ہے۔ اگلے بہتر گھنٹوں میں خدشہ ہے مزید آفٹر شاکس آ سکتے ہیں۔
جاپانی خبر رساں ایجنسی کیوڈو کا مطابق جاپان کے شمال مشرقی صوبے کے میاگی علاقے کے دو ساحلی اضلاع سے آج تقریباً دو ہزار لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہزار لاشیں اوجیکا اور ایک ہزار لاشیں منا مسانریکو ضلع سے برآمد ہوئی ہیں۔یہ دونوں ہی علاقے سونامی سے تباہ ہوئے ہیں۔بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی تک جاپان کے کئی علاقے اور دیہات ملک سے پوری طرح سے کٹے ہوئے ہیں۔
حکومت نے سٹاک مارکیٹ کو بچانے کے لیے سات ٹریلن ین ( چھیاسی بلین ڈالر) ملکی معیشت میں لگائے ہیں۔پیر کو جمعہ کے زلزلے اور سونامی کے بعد جب مارکیٹ کھلتے ہی شدید گرواٹ کا شکار ہوگئی تھی۔
جمعہ کو جاپانی تاریخ کے خوفناک زلزلے اور اس کے نتیجے میں سونامی کے باعث ٹوکیو کے شمال میں ساحلی علاقوں میں شدید ترین تباہی ہوئی ہے اور خدشات ہیں کہ ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن گئے ہیں۔ اتوار کو ایک پرفیکچر میں پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ صرف ایک علاقے میں دس ہزار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
جاپان کے وزیر اعظم ناوتو کان نے کہا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان کو اس وقت زلزلے اور سونامی سے پیدا ہونے والے بدترین بحران کا سامنا ہے۔
جاپان کے ایک بہت بڑے حصے میں بجلی دستیاب نہیں ہے اور جہاں دستیاب ہے وہا پر بھی پیر سے بجلی کی راشننگ کی جائے گی جو اپریل تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس راشننگ کا شکار دارالحکومت ٹوکیو بھی ہوگا۔ ان مقامات پر تین گھنٹے تک بجلی فراہم نہیں کی جائے گی۔
جاپانی حکومت نے ایک لاکھ فوج کو عام لوگوں کی مدد کے لیے کام پر لگا دیا ہے۔ تاہم حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ صورتِ حال سے بہتر انداز میں نبرد آزما نہیں ہو رہی۔
البتہ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوششوں اور منصوبہ بندی کے باعث بہت سے لوگ سونامی کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئے لیکن چونکہ جمعہ کا زلزلہ بہت شدید تھا لہذا کوئی بھی منصوبہ بندی مکمل طور پر صحیح نہیں ہو سکتی تھی۔
سنیچر کو فوکو شیما میں تین میں سے ایک جوہری بجلی گھر کی عمارت میں ہائیڈروجن کے دھماکے سے اس کی چھت تباہ ہوگئی تھی۔ حکام کہتے ہیں کہ ایسا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایسا ہوا بھی تو تابکاری کا خطرہ سنگین نہیں ہوگا۔
فوکو شیما دارالحکومت ٹوکیو سے دو سو کلو میٹر کے قریب شمال کی جانب واقع ہے جہاں انجینیئرز کی نگرانی میں سمندر کے پانی سے دو ری ایکٹرز کو ٹھنڈا کیا جا رہا ہے۔
اس جوہری پلانٹ کے ارد گرد بیس کلو میٹر کے علاقے سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ چلے گئے ہیں۔ گزشتہ روز یہ خبر آئی تھی کہ حکام نے ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو فوکو شیما کے علاقے سے باہر نکال لیا ہے۔ بہت سے افراد کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ جوہری تابکاری سے کس حد تک متاثر ہوئے ہیں۔
اوناگاوا اور ٹوکائی میں بھی دو جوہری پلانٹ ہیں لیکن ان میں کم خرابی ہوئی ہے۔
سینڈائی میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیمیئن گریمیٹیکس نے بتایا ہے کہ انھوں نے سپر سٹورز اور دکانوں پر اتوار کو پانچ سو میٹر تک اشیائے خورد و نوش خریدنے والوں کی قطاریں دیکھیں۔ لوگ سٹورز اور دکانوں سے سب کچھ خرید کر لے گئے ہیں اور وہاں کچھ بچا ہے تو وہ صرف شراب ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں