’عالمی عدالت میں تحقیقات کا اشارہ‘

’عالمی عدالت میں تحقیقات کا اشارہ‘
qaddafi_03عالمی عدالت کے مستغیثِ اعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ لیبیا کے لیڈر کرنل قدافی، ان کے بیٹوں اور سینیئر معاونین کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کریں گے۔
لوئس مورینو اوکیمپو نے کہا کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ شہریوں کا قتلِ عام کرے۔

وسط فروری میں لیبیا کی حکومت کی طرف سے شروع کی جانے والی کارروائی کے بعد سے جس میں سکیورٹی فوج نے مظاہرین کو نشانہ بنایا، خیال کیا جاتا ہے کہ ایک ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
لوئس مورینو نے کہا کہ کرنل قدافی، ان کے قریبی حلقے اور ان کے چند بیٹوں کے خلاف جن کے پاس اختیارات تھے، تحقیقات کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے ہفتوں میں ان کا دفتر یہ غور کرے گا کہ لیبیا سنگین ترین جرائم میں کون انتہائی سنگین واقعات کا ذمہ دار ہے۔
تاہم لوئس مورینو کا کہنا تھا کہ اگر لیبیا میں زیادتیاں اپوزیشن کی طرف سے کی گئی ہیں تو اس کے ارکان کے خلاف بھی تحقیقات ہوگی۔
ہیگ میں جہاں عالمی عدالت واقع ہے، بی بی سی کے نامہ نگار میتھو پرائس کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت کے پروسیکوٹر کے دفتر نے لیبیا میں نو ایسے واقعات کی نشاندہی کی ہے جو انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
سب سے سنگین دعویٰ یہ ہے کہ بن غازی میں پندرہ اور بیس فروری کے دوران حکام نے دو سو ستاون افراد کو ہلاک کیا۔
اسی علاقے کے تین دوسرے قصبوں میں چھبیس افراد کو مبینہ طور پر ہلاک کیا گیا۔ مصراٹا کے شہر میں چودہ افراد کو جو احتجاج کر رہے تھے، سکیورٹی افواج نے ہلاک کیا جبکہ غیر قانونی طور پر لوگوں کو حراست میں رکھے جانے کے واقعات کی بھی تحقیقات ہو رہی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کرنل قدافی، ان کے قریبی معاونین اور مختلف سکیورٹی اور فوجی تنظیموں کے سربراہوں کے پندرہ ارکان کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ چل سکتا ہے۔
لیبیا کی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ مقدمہ ’مذاق سے کم نہیں‘ جس کی بنیاد صرف اخباری رپورٹوں پر ہے کیونکہ عدالت نے لیبیا میں کوئی تحقیقاتی مشن نہیں بھیجا۔
ادھر مائگریشن کے لیے عالمی تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن کا کہنا ہے کہ لیبیا سے دو لاکھ کارکن بھاگ کر مصر، تیونس اور نائجر پہنچ گئے ہیں۔
کچھ افراد تو اپنا انتظام خود کر رہے ہیں لیکن بین الاقوامی طور پر بھی تیونس میں لیبیا کی سرحد پر جمع افراد کو باہر نکالا جا رہا ہے۔ اس کام کے لیے برطانیہ، فرانس اور تیونس کی حکومت نے جہاز فراہم کیے ہیں۔ فرانس اور مصر نے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے بحری جہاز بھی روانہ کیے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کہتے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں سرحدی علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچانا بہت مشکل کام ثابت ہو سکتا ہے۔
بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ لیبیا کے مختلف حصوں میں جاری لڑائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ کرنل قدافی کی حمایتی فوج اور نہ ان کے مخالف دستے اپنے حفریف کو مکمل شکست دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔کرنل قدافی بظاہر مشرقی لیبیا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور فی الحال ان کے مخالف بھی بظاہر طرابلس میں کوئی بڑی کارروائی کرنے میں بے بیس دکھائی دیتے ہیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں