خودکشی، قتل یا روپوشی ۔۔۔۔ تینوں میں ایک قذافی کا انجام ہو گی

خودکشی، قتل یا روپوشی ۔۔۔۔ تینوں میں ایک قذافی کا انجام ہو گی
qaddafi_02دبئی(العربیہ) کویت کے ماہر شخصیات عبد الرحمن القریشی نے لیبی صدر معمر القذافی کے حوالے سے اپنے تجزیئے میں کہا ہے کہ ان کی زندگی میں تین سینیاریو رونما ہو سکتے ہیں جن سے کسی ایک پر عمل درآمد سے وہ موجودہ بحران سے نجات پا سکتے ہیں.

العربیہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیناریو میں وہ خودکشی کر سکتے ہیں۔ القریشی نے کہا کہ خودکشی کا ارتکاب انسان اس وقت کرتا ہے کہ وہ اپنا دفاع کرنے کی سکت کھو دیتا ہے اور ایسے میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے۔ وہ خود کو انتہائی تنہا محسوس کرتا ہے۔ اسے اپنے اردگرد موجود اشیاء غیر حقیقی لگنے لگتی ہیں اور یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
کرنل قذافی کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے عبد الرحمن القریشی نے کہا کہ دوسرا سنیاریو وہ ہے کہ جس میں صدر قذافی لڑتے ہوئے مارے جائیں لیکن یہ منظر صرف اسی وقت عملی صورت اختیار کر سکتا ہے کہ جب ان کے محل پر حملہ ہو۔
تیسرا سیناریو ایسے منظر سے عبارت ہے کہ جس میں کرنل قذافی منظر سے غائب ہو جائیں اور روپوشی اختیار کر لیں۔ بہ قول القریشی ایسا ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے کیونکہ کرنل معمر قذافی جیسی شخصیات ناکامی کو اپنا مقدر بننے نہیں دیکھ سکتیں۔ وہ اس ناکامی سے پہلے یا تو قتل ہونا پسند کرتے ہیں یا پھر خود کسی کو مار دیتے ہیں۔۔۔۔ اور انتہائی غیر معمولی صورتحال میں وہ روپوشی کی زندگی اختیار کرتے ہیں۔

مضحکہ خیز اور طنزیہ بیانات
لیبیا میں صدر معمر القذافی اوران کے حکمران خاندان کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ دوسرے ہفتے بھی جاری ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک عوام ان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی، بدعنوانی اور سرکاری خزانے کو ذاتی تصرف میں لانے جیسے جرائم کی پاداش میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کرنل قذافی کی شخصیت گذشتہ کئی دنوں سے ہیڈ لائنز کا موضوع اور دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کی حالیہ تقریروں میں استعفے کا مظاہرہ کرنے والوں کو دیئے جانے والے دھمکی آمیز جوابات لوگوں کی توجہ کا خصوصی مرکز رہے۔
صورتحال پر نظر رکھنے والوں کی ایک بڑی اکثریت کا خیال ہے کہ قذافی حیران کردہ طبعیت کے مالک ہیں۔ ان کے بعض تصرفات ناپسندیدہ جبکہ بہت سے دوسرے طنز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ قذافی کے حیران کن اقدامات و اعلانات ہر جگہ ان کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ انہی حیران کن اقدامات میں سب سے مشہور وہ بیان ہے کہ جس میں انہوں نے امریکی صدر براک اوباما کو عرب قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کا نام ابو عمامہ ہے۔ ایک ایسے ہی بیان میں وہ “ڈیموکریسی” یعنی جمہوریت کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد “ڈیمو کرسی” یعنی اقتدار سے چمٹے رہنا ہے۔
سنہ 2099ء کو دوحہ میں ہونے والے عرب سربراہی اجلاس میں معمر القذافی نے اپنے لئے عرب حکمرانوں کا بزرگ، افریقی بادشاہوں کا سردار اور امام المسلمین جیسے القابات استعمال کئے۔

منفرد نظر آنے کا خبط
عبد الرحمن القریشی نے کرنل قذافی کی شخصیت کو انتہائی منتازعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تین چیزیں ان کے 42 سالہ دور اقتدار میں اہم رہی ہیں۔ ان میں خود کو منفرد ظاہر کرنے کی خواہش بدرجہ اتم پائی جاتی ہے، وہ کسی دوسرے کو اپنے جیسا نہیں دیکھنا چاہتے۔ اسی لئے انہوں نے اپنے طرز حکمرانی میں عوامی کمیٹیوں کا تصور متعارف کرایا۔ دنیا کے کسی ملک میں ایسا نظام حکومت رائج نہیں ہے۔
اسی طرح قذافی کی شخصیت میں چمک دمک کا بڑا اثر ہے اور ان کی شخصیت کا یہ عنصر ہمیں ان کے لباس اور انداز گفتگو میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ان کی شخصیت کا تیسرا اہم جزو آزادی ہے۔ وہ خود پرکسی کا حکم نہیں چلنے دیتے۔ اسی وجہ سے ہر اس شخص یا اتھارٹی سے منہ ماری کرتے ہیں کہ جو ان کی شخصی آزادی کو سلب کرنے کے درپے ہو۔
القریشی کے بہ قول ان تینوں عوامل نے ان کے اندر انا پرستی کو فروغ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اپنا نام لیتے ہیں۔ حالیہ عوامی انقلاب کے دوران کی جانے والی تقریروں میں ان کی یہ نفسیاتی صورتحال بہت زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ صدر قذافی کی حالیہ تقریروں میں تناو بہت زیادہ نمایاں تھا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں