آج : 20 February , 2011

’بنیادی آزادیوں پرقدغن اورگرفتاریاں مسائل کا حل نہیں ‘

’بنیادی آزادیوں پرقدغن اورگرفتاریاں مسائل کا حل نہیں ‘
molana_23خطیب اہل سنت زاہدان، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مشرق وسطی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا آج پوری دنیا کی نظریں مشرق وسطی کی تبدیلیوں اور اینٹی ڈکٹیٹر تحریکوں پر جمی ہوئی ہیں۔ خاص طور پر مصر، تیونس، لیبیا، یمن و دیگر ممالک میں جو تحریکیں سرگرم ہوچکی ہیں یہ سب آزادی کے لیے ہیں۔

آزادی کو ہر انسان کا بنیادی حق قراردیتے ہوئے انہوں نے کہا جب انسان اپنے قول وفکر میں مقید ہو اور اس کی آزادی پر قدغنیں لگائی جائیں تو وہ خود کو سخت حرج میں محسوس کرے گا۔ اللہ تعالی نے انسان کو آزاد خلق فرمایا ہے اور اسے آزاد جینے کا مکمل حق حاصل ہے۔
تیونس اور مصر سمیت دیگر ممالک میں حالیہ تحریکیں آمریت اور جابرانہ رویوں کیخلاف ہیں، یہ لوگ اپنے آمر حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور بنیادی حقوق سے محرومی پر احتجاج کرکے اپنے ہم وطنوں کو آزادی دلوا کر گئے۔
ایران میں پیش آنے والے احتجاجوں اور عوامی غیظ و غضب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا اگر چہ ایرانی آئین انسانوں کا بنا ہوا قانون ہے جس میں بعض کمزوریاں بھی ہیں لیکن اگر اسی آئین کے مکمل نفاذ کو یقینی بنایا جاتا تو آج ملک میں صدائے احتجاج بلند نہ ہوتی، قومی اتحاد اور امن کی صورتحال بہت بہتر ہوتی۔
عظیم سنی رہ نمانے مزید کہا ایرانی آئین کے آرٹیکل ۱۲ نے اہل سنت والجماعت کی مذہبی آزادی پر تاکید کی ہے، اگر یہ قانون عملی شکل اختیار کرتا تو آج سنی برادری کی بہت ساری شکایتیں ختم ہوتیں۔
مولانا عبدالحمید نے تاکید کی اگر ایران میں مشرق وسطی طرز کے انقلابات کا راستہ روکنا ہے تو عوام کو آزادی رائے، آزادی صحافت اور سیاسی سرگرمیوں کی آزادی دیکر ان کی آہوں کو فریادوں اور چیخوں میں بدلنے سے روکا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا تمام حکام سے خیرخواہانہ عرض کرتا ہوں کہ قید وبند اور آزادیوں پر قدغن لگانا کسی مشکل کا حل نہیں ہے۔ سعہ صدر و فراخدلی سے عوام کی بات سن کر اور آئین کے بلا امتیاز نفاذ میں مشکلات کا حل ڈھونڈنا چاہیے۔

مشرق وسطی میں حالیہ تبدیلیاں مثبت پیشرفت
بعض اسلامی ممالک میں احتجاجی تحریکوں کو مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا آج کل مشرق وسطی میں کشمکش اور شور وغل ہر جگہ سے زیادہ ہے، پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ اور تجزیہ کاروں کا موضوع یہی خطہ بن چکا ہے۔ ہم اس صورتحال کو نیک شگون سمجھ کر اسے رحمت الہی سمجھتے ہیں۔

انسان کو آزادی و انتخاب کاحق اللہ تعالی نے دیا ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے بات آگے بڑھائی: اللہ تعالی نے انسان کو دین ودینداری جیسے امور میں آزاد رکھا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ (دین میں کوئی جبر نہیں)، اسی طرح فرمایا: ’’فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر‘‘ (جو چاہتا ہے مؤمن بن جائے اور جو چاہتا ہے کافر بن جائے۔)
انسان جتناہی کیوں مالدار نہ ہو مگر جب آزاد نہ ہو تو اس کے مسائل ہرگز حل نہیں ہوں گے۔ بشر آزاد پیدا ہوچکا ہے اور اس کے حصول کیلیے آخری دم تک کوشش کرتا رہتا ہے۔ اگر آپ کسی انسان کو زبردستی جنت داخل کرنا چاہیں وہ اس کے لیے تیار نہ ہوگا لیکن اگر نرمی ومحبت دکھا کر اسے جہنم کی جانب روانہ کردیں وہ آپ کا ساتھ دے گا، یہ انسان کا مزاج ہے۔
جی ہاں! اللہ تعالی نے انسان کو مختار و آزاد چھوڑا ہے اور فرمایا ہے اگر اچھے کام کروگے جنت تمہاری جگہ ہے اگر برائیوں کے پیچھے چلو گے تو جہنم میں گر جاؤگے۔

سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بہترین کتاب قرآن پاک ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطبہ جمعہ کے پہلے حصے کو سورۃ الأحزاب کی آیت ۲۱ اور سورۃ الحشر کی آیت ۷ کی تلاوت سے آغاز کرتے ہوئے سیرت پاک سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گفتگو کی۔
انہوں نے کہا قرآن مجید سے بڑھ کر کسی کتاب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بلیغانہ انداز میں بیان نہیں کیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بارے سوال میں یہی ہواکرتا تھا: ’’وانک لعلی خْلْق عظیم‘‘ (آپ عظیم و اعلی اخلاق والے ہیں)۔
کسی بھی سیرت نگارنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کو جیسا کہ آپ کی شایان شان ہے بیان نہیں کیا ہے۔ اگر کوئی سیرت کی کتاب کی تلاش میں ہے تو قرآن پاک سے بڑھ کر کوئی بہتر کتاب نہیں ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت من و عن قرآنی احکامات کے مطابق ہے۔ قرآن پاک حرف بحرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں نافذ تھا۔
انہوں نے تاکید کی مسلمانوں کے مسائل کی بنیاد قرآن وسنت سے دوری ہے، اگر ہم اختلافات و فرقہ بندیوں سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو رجوع الی اللہ اور قرآن وسنت پرعمل ہی واحد حل ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں