آج : 12 February , 2011

’مذہبی آزادی کے بغیراتحاد وتقریب کے نعرے کھوکھلے ہیں‘

’مذہبی آزادی کے بغیراتحاد وتقریب کے نعرے کھوکھلے ہیں‘
molana_22خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جامع مسجد مکی زاہدان میں ہزاروں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہم نے ہمیشہ اتحاد کے نعروں کو لبیک کہا ہے اور اتحاد وتقریب کو ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن اتحاد بین المسلمین محض نعرہ لگانے سے حاصل نہیں ہوتا۔ اگر حکومت کسی دن اتحاد کی جانب ترغیب دینے سے باز آئے ہم ایسا نہیں کریں گے چونکہ وحدت، امت کی ضرورت ہے۔ جو حضرات ملک میں وحدت کے نعرے لگاکر تھکتے نہیں، انہیں مسلکی اقلیتوں کے حوالے سے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرکے تنگ نظری چھوڑدینا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا دنیا میں تمام مذاہب ومسالک کے پیروکاروں اور اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے خاص اہتمام کیا جاتا ہے، ہمیں امید تھی ایران کے بڑے شہروں میں بھی سنی برادری کو مذہبی آزادی حاصل ہوتی جیسا کہ آئین میں بھی آیا ہے، انہیں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت ملتی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جب لوگوں نے اپنے گھروں اور کرایے کے مکانات میں با جماعت نماز پڑھنے کا اہتمام کیا تو ہمیں توقع نہ تھی کہ ’داعیانِ وحدت‘ ان نماز خانوں کو بند کردیں گے!
مولانا عبدالحمید نے سوال اٹھایا: اہل سنت کے نماز خانوں سے تمہیں کیا نقصان پہنچتا ہے؟ ان کے ہوتے ہوئے حکومت ا ور رجیم سے کیا کم ہوتا ہے؟ ہمیں امید تھی ایرانی حکام جو خود کو ’’اسلامی‘‘ سمجھتے ہیں نماز کی ادائیگی ومساجد کی تعمیر میں ہمارے ساتھ تعاون کرتے نہ کہ ہمیں نماز سے روکتے، اب نوبت بہ اینجا رسید کہ ’اسلامی انقلاب‘ کے محافظوں کے لیے نماز خانوں اور گھروں میں نماز ناقابل برداشت بن چکی ہے۔
دارالحکومت تہران سمیت دیگر بڑے شہروں میں یہودیوں اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں کی متعدد عبادت گاہوں کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نامور سنی عالم دین نے کہا تہران واصفہان سمیت متعدد بڑے شہروں میں بہت سارے گرجا گھر اور یہودی عبادتخانے موجود ہیں جو ان کا حق ہے، لیکن ایسے میں اہل سنت والجماعت کو مسجد تعمیر کرنے اور گھروں میں باجماعت نماز پڑھنے سے روک کر حکام کیا تاثر دینا چاہتے ہیں؟ سنی برادری پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا اہل تشیع کو اس موضوع پر سوچنا چاہیے۔ غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ’اہل سنت‘ کی آبادی ایران کی کل آبادی سے کم از کم بیس فیصد بنتی ہے، اگر چہ شیعوں سے تعداد میں کم ہیں لیکن دیگر مذہبی اقلیتوں کے لسٹ میں نہیں آتے۔ شیعہ حضرات سوچیں اگر وہ ہماری جگہ ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا اور وہ کیا توقع رکھتے؟ البتہ میں پوری صراحت کیساتھ کہتا ہوں اگر ہم شیعوں کی جگہ ہوتے تو ضرور سب کے حقوق کا خیال رکھتے اور ان کیساتھ اچھائی کا معاملہ کرتے۔
خطیب اہل سنت نے کہا حکام کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے اہل سنت کے علماء وعمائدین نے جد وجہد کی ہے، امن دشمن عناصر کے سامنے یہی لوگ ڈٹے رہے ہیں۔ ہم نے اتحاد برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے تا کہ ہمارے لوگ اطمینان کے ساتھ رہیں اور ملک میں انتشار نہ ہو۔اس کاسہرا حکومتی اداروں کے سر نہیں جاتا۔ ہم اپنے قومی ومذہبی حقوق چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی وعبادتی امور میں مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔
انہوں نے تاکید کی اللہ کی مدد سے ہم اپنے مذہبی حقوق کے حوالے سے ہرگز خاموش نہیں رہیں گے، اپنے حقوق کے تحفظ کی راہ میں ہر مشکل برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سنی ارکان سے شکوہ کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے مزید کہا مناسب تھا ایسے حالات میں جب اہل سنت ایران پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں سنی ارکان پارلیمنٹ ان لوگوں کی آواز بن جاتے جنہوں نے ان کو ووٹ دیکر کامیاب کرایا ہے۔ نماز خانوں پر پابندی لگائی جاتی ہے، دوسروں کو دھمکیاں دی جاتی ہے اور علماء کو تنگ کیا جاتا ہے مگر ہمارے نمائندے خاموش بیٹھے ہیں۔ یہ افسوسناک اور مجرمانہ خاموشی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیکر کہا حکام کو معلوم ہونا چاہیے ’’اہل سنت‘‘ صرف علماء کو نہیں کہا جاتا ہے۔ آپ کے جابرانہ فیصلوں سے صرف علماء ہی نہیں بلکہ قبائلی عمائدین، اکیڈمک شخصیات اور سماجی کارکنوں سمیت تمام طبقے کے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

ریاستوں کی بقا کا راز ’عمل صالح‘
ممتاز سنی عالم دین نے کہا مشرق وسطی میں بہت ساری حکومتیں مغرب سے وابستہ ہیں اور اسی غلامی میں اپنی بقا کی تلاش میں ہیں۔ اگر ’حسنی مبارک‘ گزشتہ تین عشروں میں اپنی قوم کی خدمت کرتا آج قوم اس کیخلاف متحد ہو کر نہ اٹھتی۔ حکام کو معلوم ہونا چاہیے ان کا اقتدار عارضی ہے، ان کی صدارت، وزارت اور کرسی محدود مدت کے لیے ہے اور درحقیقت یہ ان کا امتحان ہے۔ جو حکمران قرآن وسنت سے غافل ہوکر عمل صالح سے دوری اختیار کرتاہے اس کا انجام عبرتناک ہوگا۔ اگر حکمرانوں نے عوام پر ظلم نہ کیا، تمام قومیتیوں اور مذاہب کے حقوق کی پاسداری کی، اپنی ذمہ داریاں پوری کرکے ملک کو ترقی کی راہ پرگامزن کیا پھر کامیاب ہیں ورنہ ان کا انجام سابق شاہ ایران اور مصری آمر حسنی مبارک جیسا ہوگا۔ ایرانی حکام بھی ان واقعات سے سبق لیں۔ کل شاہ ایران کاامتحان تھا جس میں وہ ناکام ہوگیا اب موجودہ حکام کا امتحان کا وقت ہے


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں